آسیہ پاکستان میں موجود یا اس کو باہر بھیج دیا گیا ؟ حکومت وضاحت کرے ، سراج الحق

آسیہ پاکستان میں موجود یا اس کو باہر بھیج دیا گیا ؟ حکومت وضاحت کرے ، سراج ...

صوابی(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ملعونہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے حوالے سے جماعت اسلامی کے موقف کا ایک بار پھر اظہار کر تے ہوئے واضح کیاکہ حکومت کو فوری طور پر یہ وضاحت کرنی چاہئے آسیہ پاکستان میں موجود ہیں یا اس کو رہا کر کے باہر بھیجا جا چکا ہے ۔ہمارے وطن میں ناموس رسالتؐ کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہئے اور اس کی علمبر دار حکومت ہونی چاہئے اتوار کی دو پہر موضع یار حسین میں سابق ضلعی امیر اور موجودہ ضلعی نائب امیر محمود الحسن کی عیادت کے موقع پر کارکنوں سے گفتگو کر تے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آسیہ کی رہائی کاجو فیصلہ کیا ہے اس پر ملک کے عوام کا اعتماد نہیں جب کہ ملک بھر میں لوگوں نے اس عدالتی فیصلے کو اپنے احتجاجوں اور ہڑتالوں کے ذریعے یکسر مسترد کر دیا ہے اور عوام کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ عدالت اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے علاوہ اس کیس کی غیر جانبدارانہ سماعت کے لئے فل کورٹ بینچ قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت پورے پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت تحریک چلا رہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد لوگوں تک سیرت نبی ﷺ کا پیغام پہنچانا ہے کیونکہ لوگوں کے تمام مسائل کا حل سنت نبوی میں ہے ۔ جب تک پاکستان میں اسلام کا عادلانہ نظام نافذ نہ ہو تب تک ہمارے ملک پاکستان میں نہ معاشی اورنہ ہی سیاسی مسئلے ،کرپشن کا خاتمہ ،امن کا قیام، غربت اور بے روزگاری ممکن ہو سکتا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان میں ریاست مدینہ طرز کے حکمرانی قائم کرنے کا جو اعلان کیا ہے ستر دنوں کے دوران یہ دکھائی نظر نہیں آرہا ہے ۔بلکہ اسلامی ریاست کے قیام کی طرف ایک قدم تک بھی نہیں لیا گیا۔جماعت اسلامی بھی اپنی شناخت اور تنظیم سے بھی مصروف عمل ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی اگر لائی ہے تو قیمتوں میں اضافے کی شکل میں لائی ہے۔ قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں غریبوں کی زندگی مشکل ہو چکی ہے بلکہ بہت سے ادارے بند ہونے کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اس وقت ایک تبدیلی ہے وہ پاکستان میں مہنگائی ، بے روزگاری اور قیمتوں میں اضافے کی شکل میں آئی ہے۔ جماعت اسلامی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پاکستا ن بھر کے عوام کی تر جمانی کر رہی ہے ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر