کراچی میں تجاوزات آپریشن کا7واں روز ،900سے زائد دکانیں مسمار

کراچی میں تجاوزات آپریشن کا7واں روز ،900سے زائد دکانیں مسمار

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن کے ساتویں روز صدر کے علاقے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں 900 سے زائد غیر قانونی دکانیں گرا دی گئیں۔محکمہ انسداد تجاوزات کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے ایمپریس مارکیٹ اور اس کے اطراف تعمیرات کو گرایا گیا۔کارروائی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی طلب کی گئی ہے۔آپریشن کے دوران پرندہ مارکیٹ، کپڑوں کی مارکیٹ، چائے پتی اور خشک میوہ جات کی مارکیٹ بھی گرادی گئی۔کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ( کے ایم سی) حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 900 سے زائد غیر قانونی دکانیں گرا دی گئی ہیں اور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف بھی تجاوزات کا خاتمہ کیا جاچکا ہے جس کے بعد ملبہ اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔سینیئر ڈائریکٹر انسداد تجاوزات بشیر احمد صدیقی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایمپریس مارکیٹ کو 15 روز میں اصل شکل میں بحال کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف سے 1043 غیر قانونی دکانیں گرائی جائیں گی اور آپریشن کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور پولیس صدر میں جگہ جگہ کیمپ لگائے گی۔ جب کہ صدر میں تجاوزات کو روکنے کے لئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جو کے ایم سی، اینٹی انکروچمنٹ اور پولیس پر مشتمل ہوگی۔ڈائریکٹر انسداد تجاوزات کا مزید کہنا تھا کہ صدر میں تجاوزات کو روکنے کے لئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جو کے ایم سی، اینٹی انکروچمنٹ اور پولیس پر مشتمل ہوگی۔ میئر کراچی وسیم اختر نے بھی اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کا جائزہ لیا۔ ایمپریس مارکیٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کے ایم سی نے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف کی زمین 30 سال پہلے دی تھی لیکن اب وہ تمام معاہدے ختم کردیے گئے ہیں، پرانے نقشے میں ایمپریس مارکیٹ کے چاروں طرف پارک ہیں جس پر مارکیٹ بنائی گئی ہے تاہم ہم اس زمین پر پارک بناکر ایمپریس مارکیٹ کو پرانی شکل میں بحال کریں گے۔وسیم اختر کا کہنا تھا ہم نے سپریم کورٹ اور وزیراعظم کی ہدایت پر کام کیا، آپریشن کا مقصد لوگوں کو بیروزگار کرنا نہیں بلکہ شہر کو اصل شکل میں بحال کرنا ہے، ماضی میں غلطیاں ہوئیں لیکن یہ شہر کی خوبصورتی اور آثار قدیمہ ہے جس کو بحال کیا جائے گا، جو لوگ متاثر ہوئے ان کی فہرست بناکر متبادل جگہ دی جائے۔

مزید : صفحہ آخر