بیرون ملک رقوم کی عدم منتقلی، ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

بیرون ملک رقوم کی عدم منتقلی، ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان سے بیرون ملک رقوم منتقلی نہ ہونے سے ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔وفاقی حکومت کی غیر اعلانیہ پالیسی نے طلباء وطالبات کے والدین کیلئے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی۔والدین نے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے ہنڈی کے ذریعے رقوم منتقلی کی کوششیں شروع کردیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلباء وطالبات اس وقت گھمبیر صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ پاکستان میں موجود انکے ورثاء تمام تر سرتوڑ کوششوں کے باوجود کسی بھی قانونی ذرائع سے رقوم باہر منتقل نہیں کرپارہے ،رقوم منتقل نہ ہونے سے متعلق بنکوں کے افسران والدین کو بتا رہے ہیں کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے انہیں ہر قسم کی رقوم منتقلی کرنے سے روک رکھا ہے، کچھ والدین کی طرف سے جب سٹیٹ بنک آف پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے جلد ہی پالیسی مرتب کرے گی لیکن سٹیٹ بنک نے نہ تو اس حوالے سے باضابطہ کوئی سرکلر جاری کیا ہے اور نہ ہی اس پابندی کے حوالے سے براہ راست ذمہ دار وفاقی وزارت خزانہ کو ٹھہرایا۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ نے زبانی طور پر سٹیٹ بنک کے ذریعے دیگر بنکوں کو رقوم منتقلی سے منع کیا ہے لیکن اس حوالے سے وفاقی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ انکی طرف سے ایسے کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی اس کا انہیں علم ہے۔وفاقی حکومت کی اس پراسرار اور پیچیدہ پالیسی نے طلباء وطالبات کے ساتھ ساتھ انکے والدین کیلئے بہت مشکل صورتحال پیدا کردی ہے۔ذرائع کے مطابق والدین کے پاس اپنے بچوں کا مستقبل بچانے کا اب واحد راستہ یہ ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے رقوم باہر بھیجی جائیں اور اس حوالے سے انہیں ہنڈی کا سہارا لینا پڑے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حکومتی پالیسی نے مشکوک رقوم رکھنے والے اکاؤنٹس ہولڈرز اور عام صارفین کو ایک ہی صف میں لاکھڑا کیا ہے جو کہ شہریوں کیلئے امتیازی سلوک ہے۔

طلبہ مستقبل داؤ پر

مزید : صفحہ آخر