بینظیرانکم سپورٹ پروگرام، 11سال میں 908ارب مختص کئے گئے

بینظیرانکم سپورٹ پروگرام، 11سال میں 908ارب مختص کئے گئے

اسلام آباد(آن لائن)گزشتہ11سالوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے908ارب روپے مختص کئے گئے تھے اور یوسی ٹی پروگرام کے تحت50لاکھ 89ہزار503 خاندانوں کو نقد مالی امداد دی گئی ہے،یوسی ٹی پروگرام کے تحت 5000روپے فی سہ ماہی پر اور 20 ہزار روپے سالانہ مستحق خاندانوں کو فی الحال ادا کئے جارہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق بی آئی ایس پی کا بجٹ ہرسال بڑھتا رہا ہے۔2008-09 میں بی آئی ایس پی کیلئے 34ارب روپے رکھے گئے تھے اور اس میں90ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور2018-19 ء میں بی آئی ایس پی کا بجٹ124 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،گزشتہ سال بیآئی ایس پی کا بجٹ121ارب روپے تھا،2016-17ء میں یہ بجٹ115 ارب روپے تھا،یہ پروگرام پیپلزپارٹی کے دور میں شروع کیا گیا تو اس وقت اس کیلئے پہلی مرتبہ2008-09ء میں صرف34 ارب روپے رکھ گئے تھے،پیپلزپارٹی کے دور میں اس کازیادہ سے زیادہ بجٹ70ارب روپے تک گیا تھا،مسلم لیگ ن کے پہلے سال میں پی آئی ایس پی کیلئے75 ارب روپے اور آخری سال میں 121 ارب روپے رکھے گئے تھے۔پی آئی ایس پی کے تحت سب سے زیادہ امداد سندھ کے خاندانوں کو ملی ہے جن کی تعداد17 لاکھ68ہزار 896 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پہنجاب ہے،اس میں17لاکھ43 ہزار877خاندانوں نے بی آئی ایس پی کے تحت امداد حاصل کی ہے،تیسرے نمبر پر خیبرپختونخواہ کا نمبر آتا ہے اس میں10لاکھ 83ہزار 579خاندانوں نے امداد حاصل کی ہے،بلوچستان میں2لاکھ2216 لوگوں کو امداد ملی ہے۔فاٹا کے ایک لاکھ40ہزار832 خاندان نے بی آئی ایس پی سے امداد حاصل کی ہے۔آزاد جموں وکشمیر کے 97 ہزار593 خاندانوں نے بی آئی ایس پی سے امداد حاصل کی ہے جبکہ وفاق کے8047خاندانوں نے امداد حاصل کی ہے۔غیر مشروط رقم کی منتقلی(یو سی ٹی) پروگرام کے تحت نقد رقم سے امداد کی فراہمی کیلئے کوئی کوٹہ سسٹم نہیں ہے اور5000روپے سہ ماہی پر اور20ہزار روپے سالانہ پر مستفید خاندانوں کو ادا کئے جارہے ہیں۔

بی آئی ایس پی

مزید : صفحہ آخر