پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈز میں بدعنوانی پر نیب تحقیقات کاآغاز

پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈز میں بدعنوانی پر نیب تحقیقات کاآغاز

اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام نے پنجاب سکل ڈولپمنٹ فنڈز میں اربوں روپے کی مالی بدعنوانی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کر لی ہے جبکہ اس سلسلے میں اس کمپنی کے افسران میں چیف ایگزیکٹو افیسر جواد خان، مارکیٹنگ ہیڈ مدھیا علوی کے علاوہ عامر پاشا، عقیل ممتاز اور محمد احسن کو طلب کر کے اہم بیانات ریکارڈ کرے گی، پنجاب سکل ڈوپلمنٹ فنڈ کمپنی کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوئی تھیں، شہباز شریف دور میں قائم کی گئی 56کمپنیوں میں یہ کمپنی بھی شامل ہے، ذرائع سے ملنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس کمپنی میں15ارب روپے سے زائد کی مالی بے قائدگیاں سامنے آئی ہیں، تربیت فراہمی کے نام پر کمپنی افسران نے کروڑوں روپے لوٹ رکھے ہیں، جبکہ اس کے بورڈ ممبران میں چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب، چیئرمین پلاننگ ڈویژن سیکریٹری سروسز ایس اینڈ جی اے ڈی اور ظفر اقبال قریشی شامل تھے۔دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ تربیت سروس فراہم کرنے والوں کو11ارب 55کروڑ35لاکھ روپے کی ادائیگیاں کی گئی تھیں لیکن افسران نے بدیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے ان سے پی ایس ٹی کی مد میں24کروڑ85لاکھ روپے کی کٹوتی بھی نہیں کی جس سے کنٹریکٹرز بھی کروڑوں روپے کا فائدہ دیا گیا، انتظامیہ نے کمپنی کی مشہوری کیلئے ایک پی آر کمپنی کی خدمات بھی لے رکھی ہیں اور اس کمپنی کو ملین روپے جاری کئے گئے ہیں اس خدمات کا مقصد میڈیا کو کمپنی کے معاملات سے دور رکھنا اور اشتہار بازی سے کمپنی کا امیج بہتر بنانا تھا، شہباز شریف دور میں4541ایسے لوگوں کو تربیت دی جن کی عمر71سال تھیں جبکہ3884تربیتی کورس کرنے والوں کی عمریں61سال تھیں ان لوگوں کی تربیت کے نام پر قومی خزانہ سے25کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور25کروڑ تربیت کے نام پر حکومتی خزانہ سے نکلوائے گئے ہیں اس حوالے سے پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈز آفس میں بار بار رابطہ کرکے موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن جواب نہیں مل سکا۔

نیب تحقیقات

مزید : صفحہ آخر