افغانستان ، طالبان کے حملے 22سکیورٹی اہلکاروں 4قبائلی رہنماؤ سمیت 41افراد ہلاک

افغانستان ، طالبان کے حملے 22سکیورٹی اہلکاروں 4قبائلی رہنماؤ سمیت 41افراد ہلاک

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغانستان کے صوبوں غزنی اور بغلان کے فوجی اڈوں پرطالبان کے حملوں میں 22سکیورٹی اہلکاروں سمیت 41افراد ہلاک ہو گئے،ہرات میں ترک افغان اسکول کو سربمہر کر کے اساتذہ اور طالب علموں کو گرفتار کر لیا گیا،افغانستان کی وزارت خارجہ نے کہا طالبان سنجیدہ ہیں تو پھرہم سے براہ راست مذاکرات کریں۔تفصیلات کے مطابق افغان صوبوں غزنی اور بغلان کے فوجی اڈوں پرطالبان کے حملوں میں 22سکیورٹی اہلکاروں سمیت 41افراد ہلاک جبکہ 9اہلکاراور 11شہری زخمی بھی ہوگئے ، بغلان کے فوجی اڈے پر حملے کے بعد طالبان 2 فوجیوں کو اغوا ء بھی کر کے لے گئے۔طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کہا وہ فوجی اڈے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی ساتھ لے گئے ہیں،افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دونوں صوبوں میں حملوں کے دوران 36افغان فوجیوں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزنی کے ضلع جگہوری میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی لڑائی میں 25افراد ہلاک ہوئے۔افغان حکام کے مطابق حملے میں 10سکیورٹی اہلکار اور 15شہری شامل ہیں جبکہ حملے میں 6کمانڈوز اور 11شہری زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب صوبہ بغلان میں طالبان نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کر کے سکیورٹی فورسز کے 12 اہلکار اور4 قبائلی لیڈر مارے گئے جبکہ3فوجی اہلکار شدید زخمی ہیں ۔بغلان صوبائی کونسل کے سربراہ صفدر حسنی نے بتایا طالبان نے ایک فوجی اڈے پر ہفتے کی شب حملہ کیا تھا اور انھوں نے سکیورٹی فورسز کے12 اہلکاروں کو ہلاک کردیا ۔ علاو ہ ازیں افغانستان میں حکومتی اداروں نے ترک افغان اسکول کا کنٹرول حاصل کرکے اساتذہ اور طلبا کو حراست میں لے لیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہرات میں واقع ترک افغان اسکول پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپا مارا اور تمام اساتذہ اور طلبا کو گرفتار کرکے مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا جبکہ سکول کو سربمہر کردیا گیا ۔ہرات کے گورنر کے ترجمان فرہاد جیلانی نے میڈیا کو بتایا این ڈی ایس اور پولیس اہلکاروں نے چھاپا مار کارروائی عدالتی حکم کی تعمیل میں کی۔ عدالت نے مذکورہ سکول کا انتظام مقامی حکومت کو سنبھالنے کا حکم جاری کیا تھا۔ دریں اثنا افغان وزارت خارجہ نے کہا ہے اگر طالبان امن عمل میں سنجیدہ ہیں تو حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔ امن مذاکرات کا انعقاد خوش آئند ہے لیکن ٹھوس اقدامات کی عملی تعبیر کے بغیر ہر قسم کے بحث و مباحثے ناکام ثابت ہوں گے۔طالبان جنگ جاری رکھتے ہوئے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکیں گے، ترجمان دفتر خارجہ صبغت احمدی نے کہاطالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں توپھر انہیں امن مذاکرات کیلئے بلاواسطہ حکومت سے بات کرنا ہوگی۔ اب افغان فورسز منظم ہوچکی ہیں اور طالبان جنگ جاری رکھتے ہوئے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکیں

گے۔

افغانستان

مزید : علاقائی