کراچی کے ساحل پر تیل کے رساؤ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع

کراچی کے ساحل پر تیل کے رساؤ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کے ساحلی مقامات پر تیل کے پھیلاؤ کی تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر ناکارہ بحری جہاز یا پھر تیل بردار کشتی سے یہ رساؤ ہوا ہے۔کراچی کے مختلف ساحلی مقامات اور گہرے سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کا معمہ 15روز بعد بھی حل نہ ہوسکا۔ کیپ ماؤنٹ اور کراچی کے درمیان موجود تیل نے مبارک ولیج سمیت کئی ساحلوں کو آلودہ کردیا تھا۔ 8 ٹن استعمال شدہ تیل کا پراسرار ذخیرہ سمندر میں کس وجہ سے نمودار ہوا اس کا تعین تاحال نہیں ہوسکا۔ وجوہات جاننے کے لیے اداروں نے دو مختلف سمتوں میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ سمندر میں تیل گرانے کا ذمہ دار گڈانی یارڈ پر کٹنے والا ناکارہ بحری جہاز یا پھر تیل کو لے کر آنے والی بوٹ ہوسکتی ہے۔دبئی سے آنیوالا ال جوزہ بحری جہاز 25 اور 26 اکتوبر کے درمیان چرنا آئی لینڈ کے قریب لنگر انداز تھا جو 27 اکتوبر کو گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر کٹنے کے لیے پہنچا، حالانکہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں تیل سے بھرے ناکارہ جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ ذرائع کے مطابق ال جوزہ بحری جہاز نے بریکنگ یارڈ پر جانے سے پہلے اپنا تیل بارج بوٹ میں منتقل کیا جو استعمال شدہ تیل کی نقل وحرکت کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس میں کئی ٹینکس موجود ہوتے ہیں۔ بارج کے ذریعے کراچی منتقل کیا جانے والا تیل پگھلا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ال جوزہ سے تیل لانے کے لیے بارج بوٹ کیماڑی سے روانہ ہوئی اور ال جوزہ سے اس میں تقریبا 8 ٹن سلج تیل(استعمال شدہ)منتقل کیا گیا۔ اس بات کا امکان ہے کہ بارج میں سوراخ کی وجہ سے تیل کا رساؤ ہوا۔ تحقیقات کا دوسرا رخ ال جوزہ بحری جہاز ہے، جس سے ممکنہ طور پر سنگین غلطی سرزد ہوئی۔ ال جوزہ نامی بحری جہاز اور بارج سے تیل کے نمونے حاصل کیے جاچکے ہیں اور مختلف لیبارٹریز کو بجھوائے گئے ہیں۔ تیل کے رساؤ کی تحقیقات مکمل ہونے میں مزید 10 دن لگ سکتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر