قریبی گرلز پرائمری سکولوں میں طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر

قریبی گرلز پرائمری سکولوں میں طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر

ٹانک(نمائندہ پاکستان) ضلع میں صوبائی حکومت کی رئیلائزیشن پالیسی کے خلاف سیاسی اثررسوخ کے حامل افراد کے گرلز پرائمری سکول ایک دوسرے سے چند فرلانگ کے فاصلے جبکہ ان سکولوں میں طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر اور اساتذہ مفت میں تنخواہیں بٹور رہی ہیں تفصیلات کے مطابق ڈی ای او زنانہ کی نا اہلی اور سیاسی اثررسوخ کے حامل افراد کیساتھ ملی بھگت سے ضلع بھر میں درجنوں ایسے گرلز پرائمری سکول واقع ہیں جن میں طالبات اٹھ دس سے زائد نہیں ہے اور ان سکولوں میں تعینات اساتذہ اور دیگر عملہ سرکاری خزانے پر بوجھ بنا ہوا ہے معتبر ذرائع کے مطابق تعلیم دشمن پالیسی پر گامزن موجودہ ڈی ای او زنانہ انکے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے ٹانک کے عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی ای او بھوت سکولوں کا خاتمہ اور سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کی بجائے آئے روزاساتذہ سے ان کے تبادلوں کے عوض رقم بٹورنے میں مصروف عمل ہے ان کا کہنا تھا کہ ڈی ای او کا قریبی کلریکل عملہ اساتذہ سے کسی مشورے میں انکی رہنمائی پر بھی چائے پانی کا مطالبہ کرتے ہیں انکا کہنا تھا کہ ڈی ای او زنانہ کا کہنا ہے کہ اسے اسے پی ٹی آئی کے ایک وقافی وزیر کی مکمل حمایت حاصل ہے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختو نخواہ،صوبائی وزیر تعلیم اور نیب سے کرپٹ ڈی ای او زنانہ کافوری تبادلہ کرکے اسکے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ دہرایا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر