جائیداد تنازعہ‘ نوجوان کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا

جائیداد تنازعہ‘ نوجوان کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا

چارسدہ (بیورو رپورٹ) نوجوان لڑکی نے آئس ڈرگ حاصل کرنے کیلئے یونیورسٹی کے طالب علم کو اغواء کر لیا ۔ اغواء کار لڑکی نے مغوی کو ان کے چچا زاد بھائیوں کے حوالے کیا جنہوں نے مغوی کو جائیداد حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں باندھ کراور منہ پر ٹائپ لگا کر قتل کرکے نعش دریائے کابل کے کنارے پھینک دی۔ نوجوان کو ٹریپ کرنے کیلئے دو اور لڑکیوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی تھی ۔ چارسدہ پولیس نے اغواء کار لڑکی اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق چرس اور ہیروئن کے بعد آئس ڈرگ نے نوجوان لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب لڑکیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔آئس ڈرگ کے حصول کیلئے نوجوان نسل جسم فروشی کے ساتھ ساتھ کوئی بھی بڑا جرم کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ پشاور میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان لڑکی آئس ڈرگ کے حصول کیلئے اغواء کار بن گئی ۔ اس حوالے سے تفصیلات بتا تے ہوئے ڈی ایس پی بشیر احمد یوسفزئی نے کہا کہ 27اکتوبر کو دریائے کابل کے قریب آگرہ پایاں میں پڑانگ پولیس کو ایک نوجوان کی نعش ملی تھی جس کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے جبکہ مقتول کے منہ پر ٹائپ بھی لگایا گیا تھا ۔ واقعہ کے حوالے سے پڑانگ پولیس نے اے ایس آئی لعل بادشاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے نعش پوسٹمارٹم کیلئے چارسدہ ہسپتال منتقل کیا جہاں سے بعد ازاں نعش کو لاوارث قرار دیکر ٹی ایم اے قبر ستان میں امانتاً دفنا دیا گیا۔ ڈی ایس پی بشیر یوسفزئی کے مطابق پوسٹمارٹم میں مقتول کو زہریلے انجکشن لگانے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ اگلے روز مقتول کی شناخت فیض الرحمان ولد عبدالرحمان کے نام سے ہوئی جس کو لواحقین نے پہچانا اور نعش کو باقاعدہ تدفین کیلئے آبائی علاقہ درہ آدم خیل لے گئے ۔ ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ اور ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان نے یونیورسٹی کے طالب علم کے بہیمانہ قتل کا سخت نوٹس لیا اور ڈی ایس پی بشیر احمد یوسفزئی ، انوسٹی گیشن آفیسر نور السلام اور ایس ایچ او عارف خان پر مشتمل ٹیم تشکیل دیکر ملزمان کی فوری گرفتاری اور قتل کے محرکات معلوم کرنے کا ٹاسک دے دیا ۔ ڈی ایس پی بشیر احمد نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اعلی پولیس افسران کے حکم پر تشکیل کر دہ ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش شروع کی اور حکیم آباد نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی نیلم شیر نامی لڑکی کو گرفتار کیا جنہوں نے دوران تفتیش پولیس کو تمام حقائق بتا دئیے ۔ اس موقع پر اغواء کار لڑکی نیلم شیر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ آئس ڈرگ کی عادی ہے اور ملزمان ڈاکٹر نہال ،ذاہدالرحمان اور صادق الرحمان نے ان کوبھاری مقدار میں آئس ڈرگ دینے کا جھانسہ دیا اور فیض الرحمان کو ٹریپ کرنے کا ٹاسک دیا جس پر انہوں نے ڈینز پلازہ پشاور سے فیض الرحمان کو ٹریپ کرکے گاڑی میں بٹھایا اور کچھ فاصلے پر ڈاکٹر نہال ،ذاہدالرحمان اور صادق الرحمان کے حوالے کیا جس کے بعد ان کو کچھ معلوم نہیں کہ ملزمان فیض الرحمان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔اغواء کار لڑکی نیلم شیر نے انکشاف کیا کہ مقتول کو ٹریپ کرنے کیلئے دیگر دواور لڑکیوں کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔ ڈی ایس پی بشیر احمد یوسفزئی نے مزید کہا کہ لڑکی سے ابتدائی تفتیش کے بعد ایک ملزم زاہد الرحمان کو بھی گرفتار کیا گیا جنہوں نے فیض الرحمان کے قتل کا اعتراف کر تے ہوئے کہا کہ جائیداد کے تنازعہ پر انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی فیض الرحمان کو قتل کیا ہے ۔ ڈی ایس پی بشیر احمد یوسفزئی کا کہنا تھا کہ قتل میں ملوث دیگر دو ملزمان کو بھی عنقریب گرفتار کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر