نمونیہ قابل علاج ،بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، ڈاکٹر اشرف

نمونیہ قابل علاج ،بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، ڈاکٹر اشرف

لاہور( پ ر ) نمونیہ ایک قابل بچاو اور قابل علاج بیماری ہے۔نمونیہ ایک یا دونوں پھیپھڑوں میں انفیکشن کو کہتے ہیں۔یہ بیماری دنیا بھر میں انفیکشنز میں سب سے زیادہ جان لیوا ہے۔یہ بیماری عام معاشرے میں رہتے ہوئے بھی ہو سکتی ہے اور ہسپتال میں کسی اور بیماری کی وجہ سے داخل مریضوں کولگ سکتی ہے۔ مگر احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج سے اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان خیالات کااظہار جناح ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر اشرف جمال نے انسداد نمونیہ ڈے کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹراشرف جمال نے مزید بتایا کہ نمونیہ کم عمر بچوں اور بوڑھے لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے۔یہ بیماری پہلے سے موجود پھیپھڑوں کی بیماری میں ملوث مریضوں میں بھی زیادہ پھیلتی ہے۔ مثلآ دمہ، سی او پی ڈی ، برونکی کٹیسس اور ہارٹ فیلیر وغیرہ۔اس کے علاوہ یہ شوگر ، کینسر ، خوراک کی کمی اور قوت مدافعت کم کرنے والی بیماریوں میں بھی ذیادہ پائی جاتی ہے۔ نمونیہ ہوش و حواس کم ہونے سے بھی ہوجاتا ہے، مثلآ بے ہوشی، فالج ، مرگی اورکثرت شراب نوشی سے۔ سگریٹ نوشی، نشہ آور ادویات اور کثرت شراب نوشی سے بھی اس بیماری کے بڑھنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی مثلآ سموگ اور بے ہنگم اجتماع میں رہنے والے لوگوں بھی نمونیہ کاشکار ہوتے ہیں۔ ایسی علامتیں ظاہر ہونے پر فوری معالج سے رجوع کرنے چاہیے تاکہ اس خطرناک بیماری کا فوری طورپر سدباب ہو سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1