اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 79

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 79

  

وہ جونہی دوسرا وار کرنے کے لئے میری طرف بڑھا۔ میں نے اس کی تلوار پکڑلی اور زور سے کھینچا۔ وہ گھوڑے پر سے نیچے گر پڑا۔ اب میرے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسی تلوار سے تاتاری سپاہی کا کام تمام کردوں۔ میں سپاہی کے گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوگیا اور نہر کے ساتھ ساتھ تھوڑا دوڑانے لگا۔ آگے جا کر میں نے نہر کو چھوڑ دیا اور گھوڑا بائیں جانب بنجر میدان میں ڈال دیا۔ اس وقت دن کی روشنی ماند پڑنے لگی تھی۔ میں گھوڑا دوڑائے چلا جا رہا تھا۔ میری کوئی منزل نہیں تھی۔ بس اسی آفت زدہ شہر سے جتنی دور نکل سکوں نکل جانا چاہتا تھا۔ چلتے چلتے میں شہر سے کئی کوس دور نکل آیا تھا۔ دور اونچی پہاڑیوں پر مجھے حسن بن صباح کے قلعہ الموت کے کنگورے غروب ہوتے ہوئے سورج کی روشنی میں دھندلے ہوتے نظرآرہے تھے۔ میں ان پہاڑیوں کے دامن سے ہو کر بخارا کی طرف کوچ کرنا چاہتا تھا۔ ان پہاڑیوں کے قریب پہنچتے پہنچتے رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے گھوڑے کو پیاس لگی ہے۔ اس کی چال میں نقاہت آگئی تھی اور وہ بار بار گردن نیچے جھکادیتا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 78پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قلعہ الموت کی پہاڑیوں میں داخل ہو کر میں نے پانی کی تلاش شروع کی تو ایک جگہ مجھے پہاڑ کی درز میں سے پانی بہتا مل گیا۔ نیچے پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب بن گیا تھا۔ میں گھوڑے سے اتر پڑا تھا۔ گھوڑا واقعی پیاسا تھا۔ اس نے جی بھر کر پانی پیا اور پتھروں میں اگی ہوئی گھاس چرنے لگا۔ میں نے اسے تازہ دم ہونے کا موقع دیا اور خود ایک ٹیلے کی اوٹ میں پتھر کی سل پر بیٹھ گیا۔ میرے پیچھے پہاڑ کی دیوار تھی اور سامنے میدان تھا جس میں سے کچا راستہ اوپر قلعے کی طرف جاتا تھا۔ کچھ دیر وہاں توقف کرنے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ گھوڑا تازہ دم ہوچکا ہے تو میں نے اٹھ کر اس کی لگام تھامی۔ اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اس پر سوار ہونے ہی والا تھا کہ مجھے ایک آواز سنائی دی۔ میں ہمہ تن گوش ہوگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہی آواز پھر سنائی دی۔ اب یہ آواز قریب سے سنائی دی تھی۔ یہ کسی عورت کی آواز تھی اور وہ درد بھری آواز میں کسی کو پکار رہی تھی۔ میں نے گھوڑے کو وہیں چھوڑا اور جس طرف سے آواز آئی تھی اس طرف بڑھا۔ اگرچہ رات ہوچکی تھی مگر سامنے کھلا میدان ہونے کی وجہ سے پہاڑی کے اس حصے میں ستاروں کی پھیکی روشنی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت بال بکھری غم والم کی تصویر بنی پہاڑی کی اس درز کی طرف بڑھ رہی تھی جس میں سے پانی نکل رہا تھا۔ میری جگہ اگر دوسرا شخص رات کے وقت ویران پہاڑیوں میں اس عورت کو دیکھتا تو اسے چڑیل سمجھ کر چیخ مارکے بے ہوش ہوجاتا۔ مگر میں اس سے پہلے بہت سی چڑیلوں اور جن بھوتوں کو بھگتا چکا تھا۔

وہ عورت جھک کر پانی پینے لگی۔ پانی پی چکنے کے بعد اس عورت نے ایک آہ سرد بھری اور آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر بولی۔

’’ اے رب العالمین! اگر اب میں کبھی اپنی اکلوتی بیٹی سے نہیں مل سکتی تو مجھے اس جگہ موت دے دے۔ ‘‘

وہ واپس گھومی اور اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ وہ ڈر کر بھاگنے ہی والی تھی کہ میں نے دوڑ کر اسے روک لیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’ گھبراؤ نہیں! مجھے بتاؤ تم کون ہو؟ اور ان ویران پہاڑیوں میں اپنی بچی کو کہاں تلاش کرتی پھرتی ہو؟‘‘

اب میں نے غور سے دیکھا کہ وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی۔ بچی کی جدائی نے اس کے چہرے پر ویرانی کے سائے ڈال رکھے تھے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے تک رہی تھی اور خوف کے مارے اس کا جسم آہستہ آہستہ کانپ رہا تھا۔ اس نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا کہ میں فدائی تو نہیں ہوں؟ میں نے اسے بتایا کہ میں فدائی نہیں ہوں بلکہ ایک مصری ہوں اور خراسان سے بخارا جا رہا تھا کہ یہاں دم لینے کو رک گیا۔ تمہاری آواز سنی تو تمہارے پاس آگیا۔ کیا تمہاری بچی وفات پا چکی ہے؟

اس عورت کو میری باتوں سے کچھ حوصلہ ہوا۔ وہ بیٹھ گئی میں بھی اس کے سامنے پتھروں پر بیٹھ گیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار