ہم سب بگڑے ہوئے لوگ ہیں

ہم سب بگڑے ہوئے لوگ ہیں
ہم سب بگڑے ہوئے لوگ ہیں

  

سنتے آئے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔یہ محاورہ ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے ۔یہ کل بھی زبان زد عام تھا ،اب بھی ہے ،اسکو کبھی زوال نہیں آیا کیونکہ طاقتور اور بااثر کی ہر زمانے میں سنی جاتی ہے ۔قانون بھی اسکی راہیں ہموار کرتا اور قانون نافذ کرنے والے تو اسکی راہ میں پوری چاہ سے آنکھیں بچھاتے ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ کام غلط ہے ،سب اسکے شراکت دار بن جاتے ہیں ۔ویسے امیر ہو یا غریب سب برابر کے شریک ہیں ۔بڑا بندہ غلط کام اپنی حیثیت مطابق کرتا ہے ،غریب بندہ بھی ایسا قدم اٹھانے سے نہیں چوکتا ۔دیکھ لیں ہمارے ہاں کتنے برے کام ہوئے اور اب جب ان پر انگلی اٹھائی جائے گی تو لگے گا جیسے کسی جائزکام کے خلاف برا قدم اٹھایا جانے لگا ۔جب کسی برے کام کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو اس وقت آنکھیں کیوں موند لی جاتی ہیں ،اسکا مطلب ہے ہم سب کو برا کام کرنا گوارا ہوتا ہے ۔

ناجائز تجاوزات کا سُن لیں۔ صدیوں سے جو لوگ سرکاری زمین پر ،حتٰی کہ قبرستان کے لیے مختص اراضی پر بھی قابض تھے اب ایسی تمام عمارات کو اپنی نظروں کے سامنے زمین بوس ہوتے دیکھنے پر مجبور ہیں ،سڑکوں کے اطراف میں خوانچوں کا بازار سجائے دیہاڑی دار طبقہ جو ٹریفک میں خلل کا سبب بنتا تھا اب قانون کا بلدوزر چلا ہے تو یہ بھی فارغ ۔۔۔ ایسے طبقے کا گزر بسر اب کیسے ہوتا ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے یہ سوچنا انہی کا کام ہے، ان کا کام ووٹ دینا تھا ،وہ دے چکے۔انہیں سڑکوں پر خوانچے لگانے کی اجازت دینے والے جب آئیں گے شاید اب ان کے کاروبار بھی بھی تب ہی چلیں ۔

اگلا مرحلہ جو طبع نازک پر گراں گزرا ہے کیبل پر انڈین چینلز پر پابندی کا ہے ، لاکھوں خواتین جو روزانہ اپنے فرصت کے لمحات میں ان ڈرامہ سیریلز سے محظوظ ہوتی تھیں اب ان کا مشغلہ کیا رہ جائے گا؟ یہ ان کے مالی حالات پر منحصر ہے۔ بڑھتی ہوئی ثقافتی یلغار کو روکنے کا یہ بھی ایک اہم سد باب ہوسکتاہے۔ لیکن میری ناقص رائے میں ان ڈراموں کی نسبت انڈین کارٹونز پر پابندی لگنی چاہئیے تھی۔ ان کے مذہبی پیشواؤں کے نعرے سن کر ہمارے بچے ان کو دہراتے ہیں تو وہ سراسر لم یلد و لم یولد کی نفی کرتے ہیں۔ اگر پابندی لگنی چاہیے تھی تو ایسے مواد پر جو کچے اذہان کو متاثر کرتا ہے نا کہ ڈراموں پر جو پختہ ذہن کی سارا دن ساس نندوں بھاوج کے طعن و تشنیع کے بعد ذہنی طراوت کا سبب بنتے تھے۔

سب سے اہم نکتہ جس کی جانب میں ہم سب مسلمانوں کی بحثیت ایک عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم توجہ مبذول کرنا ہوگی وہ ہے نعت رسول مقبولﷺ کا گانوں کی طرز اور کچھ نعتوں کا موسیقی پر پڑھا جانا۔ کیا یہ بے حرمتی ہمیں قبول ہے ؟ کم از کم مجھے تو بہت گراں گزرتی ہے ۔مقبول عام اور بے ہودہ گانوں کی طرزوں پر نعتیں پڑھنا کسی صورت احسن کام نہیں ہوسکتا ۔پابندی لگانی تھی تو ایسے تمام نعت خوانوں پر بھی لگائیں اور ایسی موسیقی کی طرز پر پڑھی جانے والی نعتوں پر بھی۔ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے ہم بہت فخر سے خود کو عاشق رسولﷺ کہتے ہیں لیکن مدح سرائی کے نام پر خود بی حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے ؟ نہیں سوچا تو اب سوچ لیں ۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ