اگر آپ فوڈ پوائزننگ سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ 3 باتیں ہمیشہ یاد رکھیں

اگر آپ فوڈ پوائزننگ سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ 3 باتیں ہمیشہ یاد رکھیں
اگر آپ فوڈ پوائزننگ سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ 3 باتیں ہمیشہ یاد رکھیں

  

برمنگھم(نیوز ڈیسک)فوڈ پوائزننگ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، اگر احتیاط سے کام نہ لیا جائے۔ کچھ بظاہر معمولی سی باتیں ہیں، جن کا ہم میں سے اکثر لوگ خیال نہیں رکھتے، مگر یہ بداحتیاطی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ حفظان صحت کے عمومی اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے لیکن کچھ بالخصوص یاد رکھنے کی ہیں۔

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ باسی یا خراب کھانا فوڈ پوائزننگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ بریڈ اور اس سے بنے سینڈوچ یا دیگر اشیاءقدرے باسی بھی ہو رہی ہوں تو لوگ انہیں استعمال کر لیتے ہیں۔ اس پر پھپھوندی لگی ہونے کی صورت میں بعض لوگ متاثرہ حصے کو کاٹ کر علیحدہ کرتے ہیں اور باقی حصے کو استعمال کر لیتے ہیں۔ بریڈ معمولی سی بھی باسی نظر آئے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس کا پھپھوندی سے متاثرہ حصہ الگ کرنے کے باوجود باقی حصہ کھانے کیلئے موزوں نہیں کیونکہ اس میں بھی پھپھوندی کے اثرات ہوں گے۔ اس کا استعمال فوڈ پوئزننگ کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

فوڈ پوائزننگ سے بچنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ کھانے کی اشیاءکو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ کیا جائے۔ اگر فریج کا درجہ حرارت پانچ ڈگری یا اس سے زیاد ہے تو اس میں رکھے گئے کھانے کے خراب ہونے کا خدشہ رہے گا۔ اس میں بآسانی بیکٹریا پیدا ہوجاتے ہیں۔ اضافی کھانے کو باہر پڑا نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ اسے فوری فریج میں رکھنا چاہیے اور دوبارہ کھانے سے پہلے بہت اچھی طرح گرم کرنا چاہیے۔

کچے گوشت اور دھوئے بغیر پھلوں اور سبزیوں کو کھانے کی دیگر اشیاءسے دور رکھنا چاہیے۔ ان کی وجہ سے دوسری غذاو¿ں میں جراثیم پھیل سکتے ہیں۔ جب فریج میں کھانا رکھیں تو اسے زیادہ سے زیادہ تین دن تک رکھیں، اس کے بعد ضائع کردیں۔ چاولوں کو فریج میں دو دن سے زائد نہیں رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ غذا کو اچھے طریقے سے محفوظ رکھنے کیلئے فریج کا درجہ حرارت 5ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہونا چاہیے۔

مزید : تعلیم و صحت