استنبول میں سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے آخری الفاظ سامنے آگئے

استنبول میں سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے آخری ...
استنبول میں سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے آخری الفاظ سامنے آگئے

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش جاری ہے جس کے دوران ایک سے بڑھ کر ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ رہا ہے۔ ایک ایسا ہی تازہ ترین انکشاف ایک آڈیو ٹیپ کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ یہ آڈیو ٹیپ بدقسمت صحافی کے آخری الفاظ پرمشتمل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سانس بند کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یہ آڈیو ٹیپ ترک حکام کی جانب سے کچھ غیر ملکی حکومتوں کو بھیجی گئی ہے، مگر ایک ترک اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اس آڈیو ٹیپ میں جمال خاشقجی کے آخری الفاظ ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ موت سے چند لمحے پہلے وہ قاتلوں کے سامنے فریاد کررہے تھے کہ اُن کا دم گھٹ رہا ہے۔وہ آخری لمحات میں کہہ رہے تھے کہ ”میرا دم گھٹ رہا ہے، میرے سر سے یہ تھیلا اتار دو، مجھے گھٹن سے خوف آتا ہے۔“

روزنامہ صباح کا مزید کہنا ہے کہ عنقریب ان اوزاروں کی تصاویر بھی شائع کی جائیں گی جو جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے لئے آنے والے 15 افراد اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قاتلوں نے پہلے فرش پر پلاسٹک کی شیٹ بچھائی او رپھر اس کے اوپر جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کئے۔ یہ عمل 15 منٹ میں مکمل ہوا جس کے بعد صحافی کے جسم کے ٹکڑے سعودی قونصل جنرل کے گھر منتقل کئے گئے۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہاں تیزاب میں ڈال کر جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑوں کو مکمل طور پر تحلیل کردیا گیا۔ ترک میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی سعودی سائنٹفک کونسل آف فورینزکس کے سربراہ نے کی تھی۔

مزید : بین الاقوامی