آسیہ بی بی کے لئے برطانوی اراکین پارلیمنٹ میدان میں آگئے

آسیہ بی بی کے لئے برطانوی اراکین پارلیمنٹ میدان میں آگئے
آسیہ بی بی کے لئے برطانوی اراکین پارلیمنٹ میدان میں آگئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ عدالت اُن کی قسمت کا کیا فیصلہ کرے گی، مگر برطانیہ میں انہیں پناہ دینے کے لئے بھرپور مہم کا آغاز ہو بھی چکا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق گزشتہ روز برطانوی ارکان پارلیمان اور انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ برطانیہ آسیہ بی بی کو پناہ دے کیونکہ پاکستان میں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ آسیہ بی بی اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے برطانیہ میں پناہ کی درخواست کی گئی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جرمی ہنٹ کے نام 19 ارکان پارلیمان نے ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آسیہ کو برطانیہ میں پناہ دی جائے۔ رکن پارلیمنٹ میری کریگ کا کہنا تھا ”میرا خیال ہے کہ دنیا کو یہ دیکھ کر صدمہ ہوا ہے کہ آسیہ بی بی کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ہے اور انہیں بے جا طور پر قید رکھا گیا ہے۔ متعدد ممالک کی جانب سے انہیں پناہ کی پیشکش کی گئی ہے اور برطانیہ کے لئے یہ بات باعث شرم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا ہے۔“

اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ جان ووڈ کاک کا کہنا تھا کہ ”مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والوں کو پناہ دینا برطانیہ کے لئے فخر کی بات ہونی چاہیے۔ اگر ہم اس بات سے ڈررہے ہیں کہ یہاں شدت پسند انہیں نشانہ بنائیں گے تو یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ برطانیہ کی جانب سے آسیہ کو پناہ کی پیشکش نہ کرنا بڑی تکلیف کی بات ہے۔“

مزید : برطانیہ