لاہور میں قائم بازار حسن المعروف ہیرامنڈی تو آپ نے دیکھا ہوگا، لیکن 1946ءمیں یہ کیسا دکھتا تھا؟ آپ بھی دیکھئے

لاہور میں قائم بازار حسن المعروف ہیرامنڈی تو آپ نے دیکھا ہوگا، لیکن 1946ءمیں ...
لاہور میں قائم بازار حسن المعروف ہیرامنڈی تو آپ نے دیکھا ہوگا، لیکن 1946ءمیں یہ کیسا دکھتا تھا؟ آپ بھی دیکھئے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارلحکومت کے مرکزی علاقے میں وہ بازار واقع ہے جس کا نام سن کر ہی شرفاءکے گال شرم سے لال ہو جاتے ہیں۔اسے بازار حسن کہتے ہیں، مگر آج یہاں بدصورتی ہی بدصورتی ہے۔ جسم فروشی کی اس منڈی میں ہر جانب غلاظت دکھائی دیتے ہے اور جابجا نشے میں دھت نشئی اوندھے پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ جرائم پیشہ افراد بھی اس علاقے کو اپنی محبوب چراگاہ سمجھتے ہیں اور اس بازار کا رخ کرنے والوں پر اپنے ہاتھ صاف کرتے ہیں۔

یہ بازار یہاں کب سے قائم ہے، اس کے بارے میں مﺅرخین کی آراءمختلف ہیں، لیکن بہرحال یہ بات تو واضح ہے کہ قیام پاکستان سے بہت پہلے اس بازار کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ ماضی کا نقشہ البتہ آج کی صورتحال سے بہت مختلف تھا۔ قیام پاکستان سے ایک سال قبل کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں 1946 کے بازار حسن کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تصویر سوشل میڈیا ویب سائٹ ریڈٹ پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس میں مغلیہ طرز تعمیر کی عکاس ایک قدیم عمارت کو دیکھا جا سکتا ہے جس کے جھروکوں سے حسینائیں باہر جھانک رہی ہیں۔ عمارت کے باہر لیٹر باکس بھی لگا ہے جس پر عمارت کی مکین کا نام ’نسیم بیگم ریڈیو سنگر‘ لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

مﺅرخین کہتے ہیں کہ اُس دور کا ماحول آج سے بہت مختلف تھا۔ یہاں رقص و موسیقی کی محفلیں سجائی جاتی تھیں جن سے لطف اندوز ہونے کے لئے معززین شہر بھی آتے تھے، یعنی جسم فروشی اس بازار کا اصل کاروبار نہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ رقاصائیں اور گانے بجانے والیاں شہر کے دوسرے حصوں کی جانب منتقل ہوتی چلی گئیں اور یہاں صرف جسم فرشی کا دھندہ باقی رہ گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور