وہ گاﺅں جہاں شام سے پہلے رات کا لباس پہننے والی خواتین کو ساڑھے 3ہزار روپے جرمانہ کیا جاتا ہے

وہ گاﺅں جہاں شام سے پہلے رات کا لباس پہننے والی خواتین کو ساڑھے 3ہزار روپے ...
وہ گاﺅں جہاں شام سے پہلے رات کا لباس پہننے والی خواتین کو ساڑھے 3ہزار روپے جرمانہ کیا جاتا ہے

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک)خواتین کو کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں پہننا چاہیے، اس کی فکر ہمیشہ خواتین سے زیادہ مردوں کو ہی رہی ہے۔ ہر قدامت پسند معاشرے میں مرد اس بات پر بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ خواتین کا لباس کس طرح کا ہونا چاہیے، اور اس حوالے سے ایک بھارتی گاﺅں کے مرد تو کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئے ہیں۔ انہیں نا صرف اس بات کی فکر ہے کہ خواتین کیا پہنیں، بلکہ یہ بھی کہ کس وقت کون سا لباس پہنچیں۔ اس گاﺅں کی پنچایت نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ کوئی عورت رات کا مخصوص لباس دن کے وقت پہنے ہوئے پکڑی گئی تو اسے بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔

ریاست آندھرا پردیش کے اس گاﺅں میں گزشتہ نو ماہ سے یہ پابندی عائد ہے کہ خواتین دن کے اوقات میں رات کا لباس یعنی نائٹی نہیں پہن سکتیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مغربی گوداواری کے گاﺅں توکلاپالی کی پنچایت کے فیصلے کے مطابق نائٹی صرف رات کا لبا س ہے لہٰذا دن میں اسے پہننے والی خاتون کو ساڑھے تین ہزار روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ خواتین کو وقت بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ کب نائٹی پہن سکتی ہیں۔ پنچایت کافی غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک نائٹی پہنی جا سکتی ہے، اور صبح سات بجے سے لے کر شام سات بجے کے درمیان کوئی خاتون نائٹی میں پکڑی گئی تو اسے جرمانہ ہو گا۔

یہ بات مزید دلچسپ ہے کہ اگر دن کے اوقات میں کوئی شخص کسی خاتون کو نائٹی پہنے ہوئے پکڑلے اور پنچایت کو اس کی شکایت کرے تو اسے ڈیڑھ ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔پنچایت کا یہ فیصلہ 9ماہ سے نافذ العمل ہے لیکن میڈیا میں اس کی خبر حال ہی میں سامنے آئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی