پاکستان کی پہلی سپر ماڈل رخشندہ خٹک، یہ کون تھی اور پھر اس کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ بات جو پاکستانیوں کو معلوم نہیں

پاکستان کی پہلی سپر ماڈل رخشندہ خٹک، یہ کون تھی اور پھر اس کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ ...
پاکستان کی پہلی سپر ماڈل رخشندہ خٹک، یہ کون تھی اور پھر اس کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ بات جو پاکستانیوں کو معلوم نہیں

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کے پاکستان میں ماڈلنگ کے شعبے سے اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں وابستہ ہیں کہ شاید اُن کا شمار ہی ممکن نہیں، لیکن چار دہائیاں قبل تک اس شعبے میں ایک ہی نام راج کر رہا تھا۔ یہ پاکستان کی پہلی سپر ماڈل رخشندہ خٹک تھیں، اور سچ تو یہ ہے کہ اُن جیسی کامیابی اور مقبولیت آج تک کسی اور پاکستانی ماڈل نے نہیں دیکھی ہو گی۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ میں رولینڈ بورجز بتاتے ہیں کہ رخشندہ خٹک 1970ءکی دہائی میں سب سے زیادہ کمانے والی پاکستانی ماڈل تھیں، تاہم انہیں یہ مقام حاصل کرنے میں بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کی پیدائش برما میں ہوئی تھی، بعدازاں وہ پاکستان میں آگئیں اور چند سال ماڈلنگ کے شعبے میں تہلکہ برپا کرنے کے بعد کینیڈا چلی گئیں۔

رخشندہ کے خاوند حسین جویری ایک کامیاب جیولر تھے۔کہتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گئے اور انہیں تصاویر بنوانے کے لئے مختلف پوز بناتے ہوئے دیکھتے رہے۔ وہ ڈائریکٹر کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ ان کی بیوی کو جو معاوضہ دیا جا رہا ہے اس سے 10گنا زیادہ دیا جائے تو وہ اسے کام کرنے کی اجازت دیں گے۔ اگرچہ اس زمانے کے حساب سے یہ بہت بڑا مطالبہ تھا لیکن ڈائریکٹر کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ یوں رخشندہ خٹک اپنے دور کی سب سے زیادہ کمانے والی ماڈل بن گئیں۔

اس دور کے انگریزی و اردو جرائد کے صفحات ان کی خوبصورت تصاویر سے مزین ہوتے تھے اور ہر طرح کی مصنوعات کے لئے بھی وہ ماڈلنگ کرتی تھیں۔ رخشندہ ناصرف دراز اور دلکش تھیں بلکہ ان کی شخصیت کئی اور خوبیوں سے آراستہ تھی۔ وہ پانچ زبانوں میں مہارت رکھتی تھیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کی اور اس کے بعد جیو جتسو میں بھی بلیک بیلٹ حاصل کی۔

رخشندہ، ان کے خاوند حسین جویری اور بیٹا چنگیز 1979ءکے آخر میں کینیڈا منتقل ہوگئے اور بعدازاں وہیں کی شہریت حاصل کرلی۔ کینیڈا میں رخشندہ نے شیف بننے کے لئے ٹریننگ لینا شروع کی اور کوکنگ کورس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے علاوہ بیکنگ کے کورس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی۔

پاکستان کے لئے ان کی محبت کبھی کم نہیں ہوئی۔ ان کے بیٹے چنگیز کا کہنا ہے کہ کینیڈا منتقل ہونے کے بعد اگلے 30 سال کے دوران وہ 22 مرتبہ پاکستان آئیں۔ خاص طور پر انہیں کراچی کی یاد بہت ستاتی تھی جسے دیکھنے کے لئے وہ بار بار پاکستان آتی تھیں۔ ان کی وفات دسمبر 2011ءمیں کینیڈا کے علاقے البرٹا میں ہوئی اور وہیں سپردخاک ہوئیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح