بھارتی سپریم کورٹ کا خودکش حملہ

بھارتی سپریم کورٹ کا خودکش حملہ

  



بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد کے انہدام کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ جگہ پر مندر تعمیر کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ پانچوں جج اتفاق رائے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ منہدم مسجد کی جگہ ایک ہندو ٹرسٹ کے حوالے کر دی جائے جو وہاں مندر تعمیر کرے۔ حکومت کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو متبادل کے طور پر ایودھیا میں کسی مناسب جگہ پر پانچ ایکڑ زمین فراہم کر دے تاکہ وہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کر سکیں۔

فیصلہ آنے سے کئی روز پہلے ہی سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔پیرا ملٹری فورسز کے ہزاروں سپاہی ایودھیا ہی نہیں ملک بھر میں تعینات کئے جا چکے تھے اور پورے صوبے میں جگہ جگہ کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا عمل جاری تھا۔ ایودھیا اور علی گڑھ میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا اور باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا کہ 31اضلاع اور 673افراد پر بھرپور نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ فسادات بھڑکنے نہ پائیں۔ بنگلور، بھوپال، جے پور، کانپور، ممبئی اور کئی دوسرے بڑے شہروں میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی تھی۔کرناٹکا، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور دہلی میں سکول اور کالج بند کر دیئے گئے تھے۔ تلنگانہ میں بھی سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بھی بیس ہزار اہل کاروں پر مشتمل پولیس کے دستے تعینات کر دیئے گئے تھے۔ 40 ہزار پولیس والے ممبئی اور 15ہزار چنائی میں گشت کررہے تھے۔

بابری مسجد کا کل رقبہ 247ایکڑ پر مشتمل تھا، اسے پورے کا پورا ہندو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیاگیا ہے۔ سنی وقف بورڈ کو متبادل جگہ کے طور پر پانچ ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ 2010ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین مسجد اور مندر کے درمیان تقسیم کرنے کا جو فیصلہ دیا تھا اس پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے پوری زمین پر ہندو حق ملکیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نے بابری مسجد کے انہدام کو ایک غیر قانونی فعل قرار دیا ہے۔ عدالت کے بقول آرکیالوجیکل سروے کی شہادت یہ ہے کہ بابری مسجد، ایک نان اسلامک سٹرکچر پر تعمیر کی گئی تھی۔ سنی بورڈ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ نظرثانی کی اپیل داخل کی جانی چاہیے یا نہیں۔ بعض مسلمان تنظیموں اور رہنماؤں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے، لیکن ضبط و تحمل سے کام لینے کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔

بابری مسجد 1528-29ء میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر تعمیر کی گئی تھی۔ 1992ء میں اس پر حملہ کرکے اسے مسمار کر دیا گیا۔ اس کے بعد پورے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے، جس میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ تھا کہ بابری مسجد کی تعمیر کرنے والے جنرل میر باقی نے یہاں موجود رام مندر کو منہدم کرایا تھا۔ وہ اس جگہ کو رام کی جنم بھومی بتاتے ہیں۔ انیسویں صدی سے اس حوالے سے کشمکش جاری تھی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرف سے مقدمات دائر کئے جاتے رہے، یہاں تک کہ بی جے پی نے اسے ایک سیاسی ایشو بنا کر جذبات کو بھڑکایا، اس کے بڑے بڑے لیڈروں (جن میں ایل کے ایڈوانی بھی شامل تھے) نے معاملے کو انتہا تک پہنچا دیا۔ اس سانحے نے بھارتی سیاست میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے لئے تیل کا کام دیا، محاذ آرائی اور تصادم کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک رکنے میں نہیں آ رہا۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کئی صدیوں تک بابری مسجد میں اذان کی صدائیں بلند ہوتی رہیں، یہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی۔ مغلوں کا دور گزرا، انگریز حکمران ہوئے، اس کے بعد بھارت ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بابری مسجد کے مینار کھڑے رہے کسی کو اس پر قبضہ کرنے یا اسے مسمار کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ بھارت کی سیکولر سیاست اس کی روادار نہیں ہو سکتی تھی۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے زیرقیادت سیکولر بھارت اپنے تمام شہریوں سے یکساں سلوک روا رکھنے کا دعوے دار تھا۔ بھارت کے آئین میں مذہب، رنگ اور نسل سے اوپر اٹھ کر تمام بھارتیوں کو یکساں تحفظ حمایت دی گئی تھی۔ ان کے بنیادی حقوق یکساں تھے، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت سرکار کی اولین ذمہ داری تھی، لیکن ہندتوا کے نعرے لگانے اور بھارت کو ہندوانے کے جنون میں مبتلا عناصر گزشتہ تین عشروں سے سیکولر اقدار کو زمین بوس کرنے کے لئے شدت سے سرگرم ہیں۔بابری مسجد کا انہدام محض ایک عمارت کا انہدام نہیں تھا۔ یہ بھارت کے سیکولر ازم، جمہوریت اور انسانی برابری کے تصورات کا انہدام تھا۔ بابری مسجد کا خون مختلف دروازے کھٹکھٹاتا،بالآخر سپریم کورٹ پہنچا تو وہاں سے وہ فیصلہ صادر ہوا خود بھارت کے سیکولر حلقے جس کا دفاع نہیں کر سکتے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے آئین میں درج آدرشوں کا تحفظ کرنے کے بجائے خود بھی انتہا پسندی کے سمندر میں چھلانگ لگا دی ہے۔ ایک جمہوری اور سیکولر ملک کے طور پر بھارت کا وجود مشکوک بنا دیا ہے۔

جس روز یہ فیصلہ سنایا گیا، اُسی روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا، اس موقع پر بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی موجود تھے۔ پاکستان نے آزادی کے سات عشروں بعد سکھ برادری کو ویزا کے بغیر کرتارپور کے گوردوارے میں آنے اور اپنی مذہبی آشائیں پوری کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ پاکستان رواداری اور خیر سگالی کا پرچم لے کر کھڑا تھا، جبکہ بھارت میں اس کی اقلیتوں کو چرکے لگائے جا رہے تھےّ ان کا عدالتی قتل کیا جا رہا تھا۔بھارتی سپریم کورٹ کو تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ سمجھا جا رہا تھا، بابری مسجد کا فیصلہ صادر کر کے اس نے اپنے منہ پرزبردست طمانچہ مارا ہے…… انہدام کو غیر قانونی قرار دے کر، اسے قانونی ہلا شیری دی ہے، اس کا پکا تحفظ کر ڈالا ہے…… جہاں جہاں یہ فیصلہ پڑھا جائے گا، بھارت کی سپریم کورٹ سپریم رہے گی، نہ کورٹ نظر آئے گی۔اسے اپنے وجود پر اس کا خودکش حملہ ہی قرار دیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ