سنت نبوی یا سنت عمرانی؟؟

سنت نبوی یا سنت عمرانی؟؟

  



ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سننے میں آرہا ہے کہ پاکستان بہت نازک دور سے گزر رہا ہے، بلکہ ہر نازک دور کے بعد اگلا انتہائی نازک دور شروع ہو جاتا ہے۔ یہ نزاکت کب تک چلے گی اور اس نازک دور سے باہر کب تک نکلنا ہے؟ اس کے آثار کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں ……یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے،12ربیع الاول کو جشن عید میلادالنبیؐ منایا جا چکا ہے، لیکن کیا مجال کہ کوئی رہنما یا کوئی عام آدمی اپنی عادات اور اپنے کردار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر لے، ان جیسا حوصلہ کر لے،

ان جیسی برداشت اپنے اندر پیدا کر لے، ان جیسی شفافیت اپنا لے، ان جیسا رحم اپنے دلوں میں لے آئے، ان جیسی ایمانداری اپنا لے، ان جیسا کھدر کا لباس زیب تن کر لے، ان کی طرح اپنے کام خود کر لے، ان کی طرح بھوک برداشت کر لے، ان کی طرح جو یا چھان بورے کی روٹی کھا لے، ان کی طرح اپنے ملازمین سے سلوک کر لے، ان کی طرح ایک بہتر معاشرے کے قیام کی کوشش کر لے، ان کی طرح دوسروں کو معاف کرنے کی روش اپنا لے، ان کی طرح خواتین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کر لے، ان کی طرح کمزوروں کی مدد کر لے اور ان کی طرح معاشرے کے تمام معاملات میں عدل سے کام لے لے…… اگر ہم ایسا کر لیتے تو آج لاہور اور کراچی کے گندے نالوں کے کنارے اور تھر کے صحرا میں انسان بھوک کی وجہ سے مر نہ رہے ہوتے۔

ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے ”مبینہ“ مذہبی اور سیاسی راہنما نے عمران خان کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا ہے، لیکن ان کا دعویٰ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہم سنت نبویؐ کے پیروکار ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ اسی راہنما کی قیادت میں لانگ مارچ کے دوران 6 قیمتی جانوں کے ضیاع پر انہوں نے کسی ملال کا اظہار کیانہ کسی ہمدردی کا ……اسی دھرنے کے دوران ریل گاڑی میں 100 بندے جل کر راکھ ہوئے، جن کی راکھ کی پہچان بھی ناممکن ہوئی، مگر ہمارے راہنماوں اور ہمارے میڈیا کی توجہ ”سنت“ عمران (دھرنے) پر رہی۔ نعرے امام حسین ؓ کے لگائے جاتے ہیں،جبکہ سنت یزید کی اپنائی جاتی ہے، یعنی ہر جماعت میں خاندانی بادشاہت۔

اب ساری قوم کی نظریں بھی دھرنے پر لگی ہیں اور حکومت کی ساری توجہ بھی دھرنے پر مرکوز ہے۔ اُدھر سابق وزیر اعظم پوری قوم کے پلیٹ لیٹس ختم کر کے اپنے پلیٹ لیٹس کی بحالی کے لئے لندن جانے کی تیاریوں میں ہیں۔ قطر ایئرویز کی ٹکٹ بھی بک ہو چکی تھی، لیکن یہ سطریں لکھتے ہوئے خبر آئی ہے کہ میاں صاحب کی طبیعت مزید بگڑ جانے کی وجہ سے ان کی روانگی میں تاخیر ہو گئی ہے۔ میاں صاحب کا مقدمہ پاناما سے شروع ہوا، وزارت عظمیٰ گئی، پھر معاملہ عدالتوں کے سینکڑوں چکر، سزائیں، اندر باہر ہوتے ہوئے پلیٹ لیٹس کی کمی سے ہوتا ہوا واپس لندن کی تیاری تک پہنچ چکا ہے۔ اب سارے افسانے میں پاناما کا ذکر ہے، نہ پاکستانی عوام کی لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کا کوئی سراغ، یہ تماشہ کیا ہے؟ تماش بینوں کو تو اس کی کوئی خبر نہیں ہے اور اس تماشے کا اسکرپٹ لکھنے والے کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہیں۔ جو لوگ ڈیل اور ڈھیل کی افوائیں پھیلا رہے ہیں، وہ بھی یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس ڈیل میں قوم کو کیا مل رہا ہے اور میاں صاحب کو ڈھیل کہاں تک دی جائے گی؟

یعنی اگر کوئی پیسہ وغیرہ لیا گیا ہے تو وہ کس کو ملے گا؟ اور ڈھیل میں کتنے پیسوں کی معافی ہے۔ لندن آرام کی سہولت ہے یا پھر دوبارہ سیاست میں کردار دینے کی بات ہے؟ کچھ ہمیں بھی تو بتایا جائے، کیونکہ کہنے کو تو اس ملک کے اصل مالک ہم ہیں، پھر مالکان سے کس بات کی پردہ داری ہے؟ قائد اعظمؒ کی وفات سے لے کر دوسرے گورنر جنرل غلام محمد کی گرفتاری اور عوام کی آنکھوں میں علاج کے لئے بیرون ملک روانگی ہو یا لیاقت علی خان صاحب کا قتل، تاشقند معاہدہ ہو یا سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی، ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مذہبی تحریک اور عدالتی قتل ہو یا ضیاء الحق کا حادثہ، مرتضی بھٹو کا قتل ہو یا بینظیر بھٹو کی شہادت سب کچھ عوام سے اوجھل کیوں رکھا جاتا ہے؟ یہ ڈیلیں اور ڈھیلیں جب ہوتی ہیں تو اس وقت ملک کے اصل مالکوں کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا جاتا؟

عوام تو پھر افواہوں اور سازشوں پر ہی یقین کریں گے ناں! یہ ہو کیا رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور ہم ”دھرنا دھرنا“ کے کھیل میں ایسے مشغول ہوئے ہیں کہ ملک میں ہاکی، اسکوائش، کبڈی، والی بال، فٹ بال اور کرکٹ کے کھیل آخری ہچکی لے رہے ہیں۔ ریاست مدینہ کا دعویٰ نئے پاکستان کے کپتان کے ہاتھ میں پرانے پاکستان کی حکمران بینظیر بھٹو کی تسبیح تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہمارے ملک کے واحد صاف ستھرے شہر اقتدار اسلام آباد کو کسی کی ایسی نظر لگی ہے کہ اب ہر سال ٹنوں کے حساب سے گند اس شہر کی قسمت ہو کر رہ گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم