یہ نا داں گر گئے سجد ے میں ……!

یہ نا داں گر گئے سجد ے میں ……!

  



کبھی کبھی ایسا کیوں ہو تا ہے جب انسان درست سمت میں کھڑا ہو نے کے باوجود کمزور دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ دلیل رکھنے کے با وجود عا میا نہ اور سستی ذہنیت کے ہا تھوں بے رحم ٹھو کر یں کھا رہا ہو تا ہے؟ قدرت کو آپ پر رحم آ جا ئے، آپ کے راستے کے کانٹے کو ئی اور چن رہا ہو، مگر بندہ ازلی بد قسمت ٹھہرے اور اس راہ پر قدم رکھنے کا اسے حو صلہ ہی ہو، جب آ ز ما ئش کا سورج سوا نیزے پر ہو،مگر آپ مصلحت، ریلیف اور مفا ہمت کے بادل برستے دیکھ رہے ہوں تو یہی ہوتا ہے جو نواز شریف کی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ آ ج ہو رہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آزادی مارچ میں جب حکو مت اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جو ڑ کی طرف مو لا نا نے قدم بڑ ھا یا تو پیچھے سے اصلی اپو زیشن غا ئب ہو گئی۔ اپوزیشن کی دو نوں بڑی جماعتیں احتجاج میں پہلے بھی شا مل نہیں تھیں، مگر اس لب و لہجے کے بعد تو بہت ہی گھبرا گئیں۔

اس کے بعد مو لا نا فضل الرحمن کواس کیفیت کا سامنا ہے:”مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کر تے“……پیپلز پا رٹی کا معا ملہ بظا ہر سمجھ میں آ تا ہے، مو لانا فضل الر حمان کی سیا سی وسیع المشربی کا انہیں تجر بہ ہے، مگر ان کا دیو بندی مکتب فکر کی بڑی نمائندہ جما عت کی صفوں میں بیٹھنا نا ممکن نظر آ رہا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ حکومت کے ہوتے ہوئے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جا نے کی خواہشمند بھی نہیں تھی، مگر مولانا فضل الرحمان کے دھر نے میں مسلم لیگ(ن) کی شمولیت کا سوال ایک لمبے عرصے تک شریف قیادت کا پیچھا نہیں چھوڑے گا، جن کا ووٹ چوری کیا گیا اور جن کی راہ میں محکمہ زراعت حا ئل رہا،ان کے آزادی مارچ پر طرح طرح کے موقف اور طرز عمل نے پارٹی کارکنوں کو سیاسی الجھن کا شکار بنا دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور نقاد دونوں سو چ رہے ہیں۔ مولانا نے جن دکھتی ہوئی رگوں کو چھیڑا ہے، ان کی تشخیص تو خود نواز شریف ”مجھے کیوں نکا لا“ اور ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیا نیہ میں قوم کے سا منے رکھ دی تھی۔مو لانا جن کی را ہوں کے کا نٹے چننے نکلے تھے، وہ تو چو ری کھانے وا لے مجنوں ثا بت ہو ئے۔یہ ہے وہ چارج شیٹ جس کا سامنا آج مسلم لیگ(ن) کو ہے۔

پا کستان بننے کے بعد مسلم لیگ پر دو مو سم ضرور آ تے ہیں، ایک بہار کا موسم،جسے اقتدار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس موسم میں اس پر بہت برگ و بار آ تا ہے، نئی کونپلیں اور شاخیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ اقتدار کا پت جھڑ اس جما عت کے لئے بہت بے رحم ثابت ہوتا ہے۔ درحقیقت نواز شریف کی ذات نے اس تلخ حقیقت کو آ کر بد لا تھا۔ نوا ز شریف اپنی طبیعت میں کو ئی جمہو ریت نواز تو نہیں تھے، مگر ان کا سیا سی کر شمہ تھا، جس نے مسلم لیگ(ن) کو ایک جما عت کے طور پر جوڑے رکھا۔ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اب نواز شریف اس جماعت کے لئے ایک گذرا ہوا کل بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے راستے میں مقد ما ت، عدا لتیں اور ان کے فیصلو ں کی زنجیر پڑ چکی ہے، وہ اور ان کے حا می ان فیصلو ں کو تسلیم کر یں یا نہ کریں،مگر ان کا سیا سی کر دار محدود تر ہو چکا ہے اور اب صحت ان سے گو شہ نشینی کا تقا ضا کر رہی ہے۔یہ صو رت حال ان کی سیا سی جا نشینی کا تقا ضا بھی کر رہی ہے۔ مریم نواز نے ”ووٹ کو عزت دو“ کی جو ضرب لگا ئی ہے، وہ اس کے سبب اصل حریفوں کے لئے نا قا بلِ قبول بن چکی ہیں۔

با قی رہے شہباز شریف تو شا ید ان کے ہا تھ میں قدرت نے قیا دت کی لکیر رکھی ہی نہیں۔ یہ وہ تنی ہو ئی رسی ہے، جس پر مسلم لیگ(ن) کو سفر کر نا ہے۔ پا رٹی کے اندر قیا دت کا بحران پیدا ہو چکا ہے،اس کی صفوں میں جمہو ری عمل اور میرٹ کبھی تر جیح نہیں رہا تو پھر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ فطری عمل ہے…… تو کیا اب یہ فر ض کر لیا جا ئے کہ قیادت کے معاملے میں مسلم لیگ(ن) قحط الرجال کا شکار ہو جائے گی؟ اسی سے ایک اور سوال جڑا ہے جو اس پا رٹی کی بقا کا ہے۔ یاد رکھیں جب غیر جمہو ری جما عتوں میں موروثی قیادت کے معاملات اس سطح تک پہنچ جا ئیں تو پھر کنفیو ژن ایک دن پارٹی کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ نوا ز شریف کی صحت نے ان کی پارٹی کے مستقبل اور ان کے بھا ئی کی قیادت پر سنجیدہ سوا لات کھڑے کر دیئے ہیں۔خدا کر ے قدر ت انہیں زند گی کی مہلت بخش دے تو پھر پہلا کام جو انہیں کرنا چاہئے، وہ ہے شہباز شریف کی قیادت کی خواہش،جس میں مس فٹ ہیں۔

نوا ز شریف کے لئے اس حقیقت سے نبھا ہ کر نا ذرا مشکل ہو گا کہ فیملی انٹر پرا ئز جیسی جما عت میں ان کے چھو ٹے بھا ئی کی شخصیت بڑے سیاسی قائد کے سا نچے میں ڈھلنے کو تیا ر نہیں،مگر وہ یہ مت بھو لیں کہ اب پا رٹی کے ورکر ان کی قیادت سے اس طرح بھاگے ہوئے ہیں، جیسے کمہار کے ہاتھ سے گدھا رسی تڑا کر بھا گ جا ئے۔وہ آزادی مارچ میں لائے بھی گئے تو سٹیج پر کھڑے ہو کر وزیراعظم کا منصب مانگ رہے تھے،مگر کس سے؟ سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے شہبا ز خود سلیکٹرز پر نظر رکھے ہو ئے ہیں۔انہیں ذرہ برابر بھی خیال نہ آیا کہ ملک بھر سے آنے وا لے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے کا ر کن پہلی بار جمہو ریت کی بقا سے جڑے عوام کے حقِ حاکمیت کا بنیادی سوال اٹھانے آئے ہیں، مگر اس انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کے لئے چا ندچاہئے۔

مسلم لیگ(ن)اب بھی بڑی پارلیمانی جماعت ہے، کسی بھی وقت سلیکٹرز کی نظرکرم پڑ گئی تو پہلے پنجاب پھر وفاق جھولی میں گر سکتا ہے۔مت بھو لیں کہ پنجاب اور وفاق میں کئی مر تبہ اقتدار حاصل کر نے والی جما عت کو اقتدار کی بدہضمی لا حق ہو چکی ہے، کچھ وقت کے لئے ضروری ہے کہ اس پر مشکل وقت آئے۔اس صورت حال میں اقتدار نہیں، اقدار کی سیاست کا را ستہ اختیار کر نا ہو گا۔اس راستے پر چل کر سیا سی جما عتیں نظریاتی جماعتوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ درحقیقت ایسی سیاسی جماعتیں ملک کے عوام کو جغرافیائی وحدت میں جوڑتی ہیں۔ اگر بڑی سیا سی جما عتیں بکھر جا ئیں تو پھر بہت کچھ بکھر جا نے کا اندیشہ ہو تا ہے۔ مزاحمت اور جدو جہد سے ملنے وا لا اقتدار جمہو ری ہو تا ہے۔

مسلم لیگ(ن) میں سنجیدہ حلقے (اگر ہیں) تواس بات کا جائزہ لیں کہ جب حا لات مسلم لیگ(ن) سے جدوجہد کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اس میں مصلحت، مفاہمت اور ریلیف کی ہوائیں کون چلا رہا ہے؟ اور کیا یہ موسم پارٹی کو نواز شریف کے بغیر راس آئیں گے؟ میدان مسلم لیگ کو دعوتِ عمل دے رہا ہے، مگرپا رٹی رہنما اس وقت نوا ز شریف کے آ ئی سی یو میں چھپے ہوئے ہیں۔یہ حالات زیادہ دیر چلے تو پھر پوری کی پوری پارٹی آئی سی یو میں موجود ہو گی۔

مزید : رائے /کالم