اقلیتوں کی ”دلداری“ درست، اپنوں پر بھی توجہ دی جائے

اقلیتوں کی ”دلداری“ درست، اپنوں پر بھی توجہ دی جائے

  



یہ تو وہی بات ہو گئی…… بغل میں چھری منہ میں رام رام۔ ریاست مدینہ کے نام پر ہمارے وزیر اعظم اقلیتوں کے تحفظات کا مشن پورا کررہے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ”گڈ جیسچر“ کے طور پر ہی سہی، وزیر اعظم کرتار پور جانے سے پہلے حضرت علامہ اقبال ؒکے مزار پر حاضری دے جاتے۔ان کے مزارپر فاتحہ پڑھتے۔چند لفظ ان کے شایان شان کہتے اور۔۔۔صاحبو کیا ستم ہے کہ کرتار پور بارڈر کھولنے کا انتخاب اسی روز ہوا جس روز ہم اپنے قومی شاعر حضرت علامہ اقبال ؒکا یوم پیدائش مناتے ہیں۔ہم ایسے قنوطی لوگوں کویہ کسی سوچی سمجھی سازش کا کرشمہ ہی لگتا ہے۔ویسے توحکومت اس روز چھٹی کرنے کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے۔ صاف لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اقبال ؒکے لیے بغض ہے۔

یہ اقبال ؒکے فلسفہ، خودی سے ڈرتے ہیں۔اقبال ؒکی شخصیت کا جائزہ لیں توکئی حیران کُن جہتیں سامنے آتی ہیں۔اقبالؒ کے والدین کی حلال مال میں احتیاط ایسی حیران کُن ہے کہ جدید مادیت پرست سوچ اس کا احاطہ نہیں کرسکتی…… جہاں کمانے کے لیے کوئی اصول ضابطہ ہی مقرر نہ ہو، وہاں ایسی احتیاط کیسے قابلِ یقین تصور کی جاسکتی ہے۔اس کے بعد اقبال ؒکا قرآن پاک کی تلاوت سے عشق کی حد تک شغف بھی قابلِ رشک تھا جس میں اُن کے والدِ محترم کی رہنمائی بھی شامل تھی۔ قرآن کے اوراق کا روزانہ ان کے آنسوؤں سے تر ہوجانا،پھر دھوپ میں رکھ کر سکھایا جانا،کیسا خوبصورت عاشقانہ عمل ہے۔یہی قرآن سے عشق ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سوز و گداز ہے جو اقبالؒ کی شاعری میں جابجا نظر آتا ہے اور قاری بھی اس کیفیت کو دل پر محسوس کئے بنا نہیں رہ پاتا۔

اقبالؒ کی شاعری انسان کو خودی کے فلسفے کی صورت میں خود داری عطا کرتی ہے جو آج کی جبروتسلط کی دنیا میں ایک جُرم قرار دیا جاچکا۔اقبال ؒکی شاعری میں امید ہے، ہمت ہے، اجتماعیت ہے جو آج کی نفسانفسی کی فضا میں کیسے قبول ہوسکتی ہے؟ حقیقت میں اقبالؒ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک توانا آواز ہیں، قرآنی نظام کے عملی داعی ہیں، بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی کی صورت میں انقلاب کے داعی ہیں، ان کی شاعری اپنی ذات کو حقیقی وجدان عطا کرتی ہے اورنظام کو بھی۔

درحقیقت یہ موجودہ استبدادی نظام کے خلاف دل و دماغ کی غیر محسوس طریقے سے پرورش کرتی ہے، اس لئے ایک سوچ سمجھی مہم جاری و ساری ہے جو ہمیں ہر پلیٹ فارم پر نظر آتی ہے کہ اقبالؒ کی فکر کو دلوں سے نکال دو،جو اقبالؒ کو پڑھے گا، وہ لازماً قرآن کی طرف لپکے گا۔جو اقبالؒ کے عشق کا فلسفہ پالے گا، وہ عشقِ حقیقی کی لذتیں پالے گا۔جو اقبالؒ کا عشقِ محمدی ﷺ سمجھ جائے گا، وہ بھی اس عشق کی دولت سے مالا مال ہوجائے گا،جو اقبال ؒکی خودی کو سمجھ جائے گا، وہ سر اُٹھا کرجینا سیکھ جائے گا۔اقبالؒ کی فکر کو نصاب کے اوراق سے اور دماغوں سے کھرچنے کی خواہش رکھنے والے یہ نہیں جانتے کہ اقبالؒ کی فکر کا ماخذ قرآن پاک ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک تعالیٰ نے اُٹھایا ہوا ہے۔

یہ کیسی ریاست بنائی جارہی ہے جس میں حقوق صرف اقلیتوں کو ہی مہیا کرنے کی ٹھانی گئی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا عمل ایک سوچے سمجھے منصوبے سے جاری ہے۔رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے پہلے حکومتیں مہنگائی شروع کردیتی ہیں۔ حکومتیں سستی اور معیاری چیزیں مہیا کرنے کے دعوے ضرور کرتی ہیں، مگر رمضان میں استعمال ہونے والی چیزیں عام دنوں کے مقابلے میں دوگنا نرخوں پر بازار بیچی جاتی ہیں۔کہتے ہیں کہ حکومتی ارکان ہی اندر کھاتے اس مہنگائی کی پرورش کر نے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے انتظامی افسران صرف فوٹو شوٹ کے لیے کچھ چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرتے ہیں اور بڑوں کو لوٹ مار کا لائسنس دے دیا جاتا ہے۔

سکھوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ مہیا کرنے والی ریاست کے حکمران مسلمانوں کے لیے حج کو روز بروز مشکل تر کرتے چلے جائے رہے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان ہر حال میں حرمین کی زیارت کو جانا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہ حکومتیں حج اخراجات ہر سال بڑھا دیتی ہیں۔روشن خیالی کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ابھی چند دن پہلے دو خواتین ایسے ایسے پوز بنا کر پارلیمنٹ لاجز کی سیر کرتی رہی ہیں کہ ہر کوئی انگشت بدنداں ہے۔ ہر بڑا مشیر، وزیر لگتا ہے انہی کی زلفوں کا اسیر ہے یا سب کی کمزوریاں ان کے پاس تھیں کہ میڈیا پر طوفان اٹھنے کے بعد بھی کوئی مائی کا لعل ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔خیر میرے ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں ان ناچنے والیوں کے قصے ہر دور میں دیکھے سنے گئے ہیں، اب ویڈیوز بھی سامنے آنے لگی ہیں تو حیرانی کی کیا بات ہے؟تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات ضرور کر رہے ہیں، لیکن اس حکومت کی ساری نوازشات اقلیتوں کے لیے ہی نظر آرہی ہیں۔معاف کیجئے گاقادیانیوں کے لیے اس حکومت کے دل میں بہت ہی نرم گوشے نظر آرہے ہیں۔ایک طرف بھارت پچھلے سو دنوں سے کشمیری مسلمانوں کا جینا مشکل بنائے ہوئے ہے، دوسری طرف ہمارے حکمرانوں نے دن رات ایک کر کے کرتار پور منصوبہ پورا کردیا ہے جو کسی حد تک خوش آئند بھی ہے۔ایک ایسی حکومت جس سے پانچ سالوں میں پشاور میٹرومنصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ایک ایسی حکومت جو ملکی عوام کے لیے کوئی ایک خوشخبری نہیں لا سکی۔ایک ایسی حکومت جس نے دنیا بھر سے قرض لیے۔جس نے اپنے سیاسی حریفوں کو عدالتوں کے ذریعے پابند سلاسل کرنے کا عمل جاری رکھا ہے۔ایک ایسی حکومت جو اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے میں ہر قانون کو روند رہی ہے۔

ایک ایسی حکومت جو کشمیری مسلمانوں کے لیے کچھ کرنے کی بجائے اپنے ملک کی سڑکیں بند کررہی ہے۔جو جدید میزائیل سسٹم دنیا کی بہترین فوج رکھنے کے بعد بھی ہم وطنوں کو جنگ سے ڈراتی رہی،اس حکومت کی بہادری تو دیکھئے کہ بنا ٹینڈر جاری کیے ایک نیم سرکاری کمپنی سے کرتار پور منصوبہ مکمل کروالیا،جس دن سے یہ منصوبہ شروع ہوا، اس دن سے ہی لگتا تھا، جیسے حکمرانوں کو کہیں سے سخت آرڈر ہے ہیں کہ ہر حال میں اس منصوبے کو وقت پر مکمل کرنا ہے، چاہے موسمی سختیاں ہو ں کہ جنگ کا خطرہ ہو ……اب منصوبہ مکمل ہوگیا۔چار ایکٹر پر محیط کرتار پور گورودوارے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے آٹھ سو چالیس ایکٹر زمین اپنے ہم وطنوں سے کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر سکھوں کو تحفہ میں دے دی۔ان سکھوں کو جن کے بڑوں نے قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کو خون میں نہلایا تھا۔اس کے باوجود بھی کرتار پور راہداری کا کھلنا میرے نزدیک ایک اچھا عمل ہے،جس سے پاکستان کا بہتر امیج ابھرا ہے۔

چلیں جو ہوا سو ہوا، کیا ہی اچھا ہوتا حکمران اس منصوبے کو شروع کرتے وقت ملکی قوانین کا پاس بھی کر لیتے۔

منصوبے کی تکمیل کے لئے ٹینڈر نہیں کروائے جن کی پوچھ گچھ آنے والے وقت میں ہوسکتی ہے،لیکن بارڈر پار سے آنے والوں کے لیے سفری پاسپورٹ کی شرط ختم کر کے یہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔پھر انٹری فیس صرف بیس ڈالر؟دنیا میں ایسی دریا دلی کہیں نہیں دیکھی جاتی۔ہماری حکومت کی شبانہ روز محنت سے کرتار پور منصوبہ تقریبا دس مہینوں کی قلیل مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور دس مہینے ہی مقامی پریس و الیکٹرانک میڈیا اسے کوریج دیتا رہا، لیکن یہ کیا ستم ڈھایا گیا ہے کہ مخصوص دن مقامی میڈیا کو افتتاح کے موقع پر آنے نہیں دیا گیا۔ مجھے شکرگڑھ پریس کلب کے صدر دلشاد شریف نے بتایا کہ گورنرپنجاب نے انہیں اعلیٰ انتظامی افسران کی موجودگی میں فرمایا تھا کہ مقامی صحافیوں پر کوئی پابندی نہیں، ان کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا، پھر بھی وہ تقریب میں شرکت سے محروم رہے۔

ضلعی انتظامیہ نے پریس و الیکٹرانک میڈیاکے نمائندوں کو تقریب میں شرکت کے لئے بروقت کارڈ جاری نہ کئے،ہر چند کہ کچھ مقامی صحافی دن رات ایک کرکے دعوتی کارڈ (دعوت نامے)حاصل کرنے میں کامیاب وکامران ٹھہرے، جن کی وجہ سے وہ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر سکے،لیکن اکثر صحافیوں نے ان دعوتی کارڈ، یعنی دعوت ناموں کی بدولت تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا۔ کرتار پور میں سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔کرتار پور سے قادیان کا فاصلہ پچاس کلومیٹرسے بھی کم بتایا جارہا ہے، کیا یہ منصوبہ قادیانیوں کی سہولت کے مدنظر تو اتنی جلدی نہیں بنایا گیا۔

جس روز ہماری حکومت کرتار پور کھول رہی تھی، اسی روز بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ دیا۔پانچ سوسال پرانی مسجد کی جگہ اب رام مندر بنے گا، جہاں کبھی پانچ وقت اذان ہوتی تھی، اب وہاں گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔مدینہ کی ریاست والوں نے تو کعبے سے بتوں کو اٹھا کر باہر پھینکا،مگر ہمارے حکمران اپنے ملک میں مندر وں اور گورودوارے بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک طرف بھارت خالصتا ہندو ریاست بنتا جارہا ہے، جہاں ہندو ہر اقلیت کی زندگی اجیرن کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں مسلمانوں کے لیے تو ہر قسم کی سختیاں پیدا کی جارہی ہیں،جبکہ اقلیتوں کے لئے موجاں ہی موجاں۔پھر بھی کرتار پور راہداری کا سہرا موجودہ حکومت کے سرجاتا ہے،جسے چاہا اور سراہا جانا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم