یادش بخیر

یادش بخیر

  



آج جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو نومبر 2019ء کی 10تاریخ اور اتوار کا دن ہے۔ آج مسلم امہ کا سب سے عظیم دن یعنی یومِ ولادتِ سرورِدوعالمﷺ بھی ہے۔ مولانا حالی نے یہ شعر کہہ کر کس سادگی اور پُرکاری سے اردو زبان کو تکریمِ دوام بخش دی تھی:

ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا

دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا

یادش بخیر کہوں یا یادش بہ شر کہوں کہ گزشتہ برس یہی دن تھا لیکن نومبر کی 21تاریخ تھی۔ شمسی اور قمری سال میں گیارہ دن کا فرق ہے یعنی امسال عیدِ میلاد النبیؐ گزشتہ برس کی نسبت گیارہ دن پہلے آئی ہے۔ یہ دن اس حوالے سے بھی میرے لئے یادگار ہے کہ گزشتہ سال اسی دن مجھے ایک ذاتی نوعیت کا جسمانی حادثہ پیش آیا تھا جس کا اعادہ، سوچتا ہوں کہ شائد بعض قارئین کرام کے لئے کسی نہ کسی سکیل پر سبق آموز ہو جائے۔ میرے لئے اس حادثے میں جو اسباق تھے اسے آپ کے ساتھ شیئر کرکے عنایاتِ خداوندی اور رحمتِ دوعالمؐ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں۔

ہوا یہ تھا کہ میں پچھلے سال ٹیلی ویژن پر آج کے دن کی مناسبت سے مختلف چینلوں پر منائی جانے والی تقریبات دیکھ رہا تھا۔ نعتوں کا ہجوم تھا، ولادتِ پیمبرؐ کی تفصیلات تھیں اور علمائے دین آپﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر گفتگو فرما رہے تھے۔ ان پروگراموں کو دیکھ اور سن کر مجھے شیطان نے بہکایا اور ایک طرح کی ناگواری سی محسوس ہونے لگی کہ جو کچھ دکھایا اور سنوایا جا رہا تھا اس میں کوئی آئٹم بھی تازہ اور نئی نہ تھی۔ پار سالوں کے پروگراموں کو نکال اور اٹھا کر آگے پیچھے کر دیا گیا تھا۔ نئے نئے نعت خواں بچوں اور بچیوں کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔ خواتین فُل میک اپ کے ساتھ سکرین پر جلوہ گر تھیں۔ میرے دل و دماغ میں یہ شیطانی خیالات دوڑنے شروع ہوئے کہ یہ نعت خواں خواتین اور بچیاں نعتِ رسولؐ سنانے آئی ہیں یا اپنا میک اپ دکھانے۔ ان نعمتوں کی صوت و صدا کا حال بھی میرے لئے قابلِ اعتراض تھا۔ نہ کوئی دل پر اثر کرنے والی دھن، نہ الفاظ و تراکیب کی کوئی قابلِ توجہ ادائیگی،

نہ لب و لہجے کا سرور اور نہ بقولِ غالب کوئی مطربہ رہزنِ تمکین و ہوش…… مجھے یاد آ رہا تھا کہ بعض چینلوں پر کئی برسوں سے عیدِ میلاد النبیؐ کے مواقع پر یہی نعتیں سنوائی اور دکھائی جا رہی تھیں۔ میں کوئی نئی دھن، کوئی تازہ اور دلکش لے، کوئی دل میں اترنے والی نغمگی اور کوئی مرغوبِ گوش شاعری سننے کا متمنی تھا…… مجھے ایک نوع کی کوفت سی ہونے لگی اور سوچنا شروع کیا کہ ہمارے ٹی وی چینلوں کے کرتا دھرتا سال میں کم از کم ایک بار تو اپنی فرسودہ اور گھسی پٹی روش سے باز آکر کوئی نیا پروگرام ریکارڈ کرکے قارئین و سامعین کو دکھا اور سنوا دیا کریں۔ بس اسی طرح کے بے سروپا اور لغو خیالات کی یورش ہونے لگی اور میں نے اکتا کر ٹی وی بند کر دیا۔ گاڑی کی چابی سنبھالی اور بازار جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اب یاد نہیں کہاں کا قصد تھا۔ لیکن جونہی اٹھا، ایک چکر سا آیا اور یوں محسوس ہوا جیسے کسی نادیدہ قوت نے بڑے زور سے فرش پر پٹخ دیا ہو۔ بیڈ روم میں اگرچہ وال ٹو وال کارپٹ بچھی تھی لیکن میں پھر بھی اس بُری طرح سے گرا کہ آج ایک برس گزر جانے کے بعد بھی یاد کرتا ہوں تو کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے۔میرے گرنے کی آواز سن کر بچے بھی بھاگے آئے…… میں زمین پر پڑا کراہ رہا تھا……

اس کے بعد کا سلسلہ دراز ہے…… ایمبولینس کا آنا، سی ایم ایچ میں چار روز کا ناقابلِ فراموش عذاب انگیز تجربہ، ایک نجی ہسپتال میں منتقلی اور 24نومبر 2019ء کو کولھے کی فریکچر شدہ ہڈی کو نکال کر مصنوعی ہڈی (Feemer) کا لگانا اور پھر صرف 48گھنٹے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آنا…… سب کچھ غیر متوقع تھا۔ یوں سمجھئے کہ جس ہستی ء مبارکہ ﷺ کی نعت سن کر ناگواری کا ارتکاب کیا تھا اسی ؐ نے کرم فرمایا۔ رحمتِ خداوندی بھی جوش میں آئی اور گنہ گار کو بخش دیا۔ ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ اس طرح کے میجر آپریشن کے بعد اتنی عجلت سے ریکوری خال خال دیکھنے میں آتی ہے۔ سی ایم ایچ میں فوجی ڈاکٹروں نے تو جواب دے دیا تھا کہ اس عمر میں بے ہوش کرنے کے بعد دوبارہ ہوش میں آنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکے گی۔ مجھے کہا گیا کہ میں لکھ کر دے دوں کہ اگر ہوش نہ آئی یا کوئی دوسری پیچیدگی پیدا ہوئی تو ہسپتال کا عملہ ذمے دار نہ ہو گا۔ اگرچہ اس قسم کی تحریر اس نوع کے میجر آپریشن سے قبل ہر مریض سے لینا ایک معمول ہے لیکن ڈاکٹر صاحبان کی ڈسکشن سن کر مجھے معلوم ہوا کہ معاملہ سیریس ہے۔

یہ اس حادثے کا ایک اور سبق تھا۔ پہلا سبق تو اوپر بیان کر آیا ہوں کہ نعت رسولؐ کسی بھی لے میں ہو، کوئی بھی پڑھ یا گا رہا ہو، شاعری کتنی بھی خارج از بحور د اوزان ہو اور نعت قبل ازیں خواہ کتنی بار بھی دہرائی جا چکی ہو اس کے بارے میں ”ناگواری کا تاثر“ لینا ناقابلِ معانی جرم ہے……دوسرا سبق یہ تھا کہ اس قسم کا گناہ جب بھی سرزد ہو، اللہ کریم سے فوراً معافی مانگ لینی چاہیے۔ انسان خطاوار ہے اور ذاتِ پروردگار بخشن ہار ہے۔ ہماری غلطیوں اور ہمارے گناہوں کی بھی کوئی حد نہیں اور اس کی رحمتوں اور بخشش کی بھی کوئی انتہا نہیں:

عصیانِ ما و رحمتِ پروردگارِ ما

این را نہایت است نہ آں را نہائتے

تیسرا سبق یہ ہے کہ حالات خواہ کتنے بھی ناسازگار ہوں، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میرے کیس میں ڈاکٹروں کی ٹیم یہ ارشاد فرما رہی تھی کہ اسی عمر میں گہراanesthesia خالی از خطر نہیں ہوتا۔ میں نے ان کا تبصرہ سن کر ڈاکٹر صاحبان سے فوری طور پر یہی کہا تھا کہ موت کا جو لمحہ مقرر ہے اس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ اور وہ یہ دلیل دے رہے تھے کہ: ”ہم بھی اسی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں لیکن انسان پر تو صرف کوشش فرض ہے، معاملے کے نشیب و فراز پر ڈسکشن فرض ہے اور ہمارے پیشہء طب میں اس کا 100% جواز بھی موجود ہے۔ خدا پر بھروسہ رکھنا نہ صرف ہر مسلمان پر فرض ہے بلکہ غیر مسلم مریض جو ہمارے پاس آتے ہیں، ہم ان سے بھی اسی طرح کی گفتگو کرتے ہیں اور مریض کو ہر طرح کی اونچ نیچ سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارا پروفیشنل معمول ہے۔ ہم کسی مریض کو جب آپریشن ٹیبل پر لے جاتے ہیں تو معمولی سے معمولی آپریشن کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ آپریشن ”کامیاب“ ہو گیا ہے…… بعض بڑے (Major) آپریشنوں میں Recoveryکا سکیل حیران کن حد تک ”کامیاب“ ہوتا ہے جبکہ کئی چھوٹے (Minor) آپریشن ”ناکام“ ہو جاتے ہیں۔ ان کو دوبارہ کھولنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی کامیابی کی کرن نظر نہیں آتی۔

لوگ ہمیں کوستے اور ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لیکن یقین کیجئے ہم اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ مغربی ممالک کے ہسپتالوں کا ایک گمراہ کن امیج نجانے ہم پاکستانیوں پر کیوں چھایا ہوا ہے لیکن ہم جب بھی وہاں کوئی ایڈوانسڈ (Advanced) کورس کرنے جاتے ہیں، وہاں کے لوکل مریضوں سے یہی سنتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر لوگ بڑے ”لاپروا“ ہیں اور مریض پر پوری توجہ نہیں دیتے“۔

اور اس حادثے کا آخری سبق یہ ہے کہ ہماری عمر جوں جوں آگے بڑھتی ہے، جیب توں توں ہلکی ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس موضوع کے سینکڑوں ہزاروں پہلو ہیں جن پر بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے لیکن اگر آپ میں کسی معقولیت کی کوئی آخری رمق بھی باقی ہے تو خدارا اپنی ذات کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ ان ”دوسروں“ میں آپ کی اولاد، رشتہ دار اور جگری دوست احباب وغیرہ سب شامل ہو سکتے ہیں۔ سعدی نے اگرچہ کہہ رکھا ہے کہ سچا دوست وہی ہوتا ہے جو پریشان حالی اور درماندگی میں آپ کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ لیکن شیخ صاحب کے بہت سے مقولے ”جدید تحقیق“ کی کسوٹی پر غلط اور بے اساس پائے گئے ہیں۔ مثلاً ان کا ایک مشہور مقولہ بھی ہے: ”نانِ گرم و آبِ خنک نعمتِ خدا ست“…… جبکہ جدید طبی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ”نانِ گرم“کے ساتھ ”آبِ خنک“ نعمتِ خدا نہیں زحمتِ خدا ہے۔ اسی طرح شیخ سعدی کا یہ مقولہ کہ:

دوست آں با شد کہ گیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و درماندگی

غلط اور بے اساس ہے۔ آپ کا سچا دوست وہ ہے جو آپ کو نصیحت کرے کہ پریشاں حالی اور درماندگی کے عالم میں بھی برا وقت آنے سے پہلے آپ کو خبردار رہنا چاہیے اور انگریزی محاورے کے مطابق جب سورج چمک رہا ہو تو گھاس سکھا لینی چاہیے:

Make hay while the sun shines

ہمیں ہمیشہ مشکل ایام کے لئے آسان ایام کے دوران جیب کو بھاری رکھنے کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ آپ غریب ہوں، مہا غریب ہوں یا امیر ہوں یا مہا امیر ہوں …… یہ مقولہ ہر صورت، ہر کیفیت اور ہر حال میں آپ کا رہنما ہونا چاہیے کہ جب دھوپ نکلی ہوئی ہو تو اپنے جانوروں کے لئے چارے کو دھوپ میں پھیلا کر اسے سُکھاؤ اور پھر سرد موسم کے لئے گودام میں رکھ کر بند کرو…… ہمیں بھی اپنے سردموسم میں اس چارے کو گودام میں جمع کرکے اسے مقفل کر دینا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم