ڈی پی او چارسدہ کی بدقماش عناصر کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

  ڈی پی او چارسدہ کی بدقماش عناصر کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

  



چارسدہ(بیو رو رپورٹ) ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان کے زیر صدارت پولیس ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ سطحی اجلاس۔ منشیات، آئس، ہوائی فائرنگ، جواء باز، قبضہ گروہ، بد معاش، سو د خور اور غیر قانونی کرایہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات جاری۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور اشتہاریوں کے خلاف خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے اور نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل درآمد کی بھی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ عرفان اللہ خان کے زیرِ صدارت پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ افتخار شاہ خان، ڈی ایس پی سٹی تاج محمد خان، ڈی ایس پی شبقدر محمد ریاض خان، ڈی ایس پی سرڈھیری آیاز محمود خان، ڈی ایس پی تنگی فضل شیر خان، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن سعید خان اور جملہ ایس ایچ اوز نے خصوصی شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران ضلع بھر میں امن وامان کی مجموعی صورتحال،جرائم کی شرح اور تھانوں میں درج مقدمات کی تفتیشی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضلع بھر میں استحکام امن، انسداد جرائم کے عوامل اور پولیس فورس کے دائرہ اختیار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی بیخ کنی اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس کو درپیش چیلنجز سے بہتر طور پر نبردآزما ہونے کیلئے مشترکہ اور ہمہ گیر پالیسی وضع کی گئی ہے جس پر عمل درآمد سے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن وسکے گا۔ انہوں نے پولیس افسران پر زور دیا گیا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان کے واضح احکامات کی روشنی میں ضلع بھر میں منظم جرائم پیشہ گروہوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن یقینی بنایا جائے بلخصوص ان بڑے مگر مچھوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے جو مختلف مافیا کے سرغنے ہیں۔ انہوں نے قبضہ گروپوں کی بیح کنی پر زیرو ٹالرنس پالیسی بھی واضح کر دی اور کہاکہ اس حوالے سے کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی۔ ڈرگ مافیا بالخصوص وہ مجرم جو آئس جیسے خطرناک ڈرگ کی تیاری اور نئی نسل کو اس لعنت میں مبتلا کرنے میں ملوث ہیں ان کو قانون کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کیا جائے تاکہ وطن عزیز کا مستقبل محفوظ بنا یا جا سکے۔ سود خور وں اور بھتہ خوروں کو سماجی ناسور قرار دیتے ہوئے ڈی پی او نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ ایسے عناصر کیلئے قانون میں کوئی رعایت نہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی یقینی بنانے اور اس حوالے سے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی معمول کے مطابق چیک کرنے پر بھی زور دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر