بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد بارے فیصلہ معتصبانہ ہے،فدا محمد خان

      بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد بارے فیصلہ معتصبانہ ہے،فدا محمد خان

  



بنوں (بیورورپورٹ)تحصیل ڈومیل کے سابق ناظم اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فدامحمد خان نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ انصاف کا خون ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ یہ فیصلہ بھاری سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ بے جی پی کا لکھا ہوا فیصلہ سپریم کورٹ نے پڑھ کر صرف سنایا ہے اور ایک ایسے موقعے پر سنایا ہے جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سکھوں کیلئے کرتا پور راہداری کھلونے کا افتتاح کرکے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جس میں تمما مذاہب کے لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے جبکہ اسی دن بھارتی کی جانب سے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ امن کوششوں وک نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے پبلک آفس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ تاریخی بابری مسجد کو بھارتی انتہا پسندوں نے پہلے شہید کیا اسکے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے اسے ہندوؤں کا حق میں دیکر مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا ہے اور بھارت میں بسنے والی تمام اقلیتوں میں خوف وہراس بڑھ گیا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ہر موقع پر بھارتی وزیر اعظم کو اخلاقی شکست دی ہے اور عمران خان نے راہداری کھول کر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے بی جے پی کی ملی بھگت سے اس تاریخی دن کے موقع پر بابری مسجد کی صورت میں متعصبانہ فیصلہ دیکر دنیا کو ایک بار پھر بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا ہے اور انتہا پسند سوچ نے بھارت میں اقلیتوں سے سہارا چھین لیا ہے۔جبکہ عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ امن پسند لیڈر

مزید : پشاورصفحہ آخر