صوبے میں ٹیکس کے پرانے نرخوں کو بحال کیا جائے،محمد عاطف حلیم

صوبے میں ٹیکس کے پرانے نرخوں کو بحال کیا جائے،محمد عاطف حلیم

  



پشاور(سٹی رپورٹر) وزیر خزانہ خیبر پختونخوا صوبے میں ٹیکس کے پرانے نرخوں کو بحال کریں‘ وزیر فنانس کو تحریری طور پر اپنی مشکلات سے آگاہ کرچکے ہیں‘ کاروباری طبقہ اس اضافی بوجھ کا کسی طور بھی متحمل نہیں۔ وزیر اعلیٰ پالیسیاں بناتے وقت اہل دانش اور سٹیک ہولڈرز دونوں کو سنیں پراپر ٹیکس سے باہر رہنے والے 20اضلاع کو بھی پراپرٹی ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیاجائے کیونکہ صوبائی دارالحکومت پشاور 1947ء سے ٹیکس ادا ر رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی سارا بوجھ اسی ایک شہر پر ڈالا ہوا ہے 3ارب 7کروڑ روپے میں سے ڈھائی ارب روپے صرف پشاور سے ریکور کئے جاتے ہیں باقی رقم دیگر 40اضلاع ادا کر رہے ہیں جو سراسر زیادتی ہے۔ پشاورچیمبر کے صدر محمد عاطف حلیم نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ پشاور پہلے ہی دہشت گردی سے متاثرہ شہر ہے اس پر بوجھ کم کیا جائے نہ کہ بڑھایا جائے۔ صوبے میں تاجر برادری متحد ہے اسے کسی بھی سازش کے ذریعے توڑا نہیں جاسکتا ٹیکس کے مسئلہ کے ادراک کے لئے محکمہ کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ پچھلے 10سالوں میں پشاور میں سب سے زیادہ نقصان انہیں پرپرٹی مالکان نے ہی اٹھایا ہم ٹیکس دینے سے انکاری نہیں تاہم بھاری بھر کم ٹیکسوں کا نفاذ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اورظالمانہ ٹیکسوں میں کمی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمیں ہڑتالوں اور دھرنوں پر مجبور نہ کیا جائے ہم تمام معاملات ٹیبل پر بیٹھ کر حل کرنے کے قائل ہیں۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا عملہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آئے کیونکہ صارفین کے ٹیکسوں سے ہی ادارے چل رہے ہیں اور اہلکاروں کو تنخواہیں مل رہی ہیں عملہ کی جادوگری کو ختم کرنے کے لئے ویب سائٹس پر تمام معلومات آسان اور اردوسہل جاری کئے جائیں تاکہ ہر کوئی باآسانی ٹیکس ادا کرسکے۔ پراپرٹی ٹیکس پہلے ہی سے دوہری ادائیگی کے زمرے میں آرہا ہے ہم نہیں چاہتے کہ ہم عدالت کا رخ کریں اورحکومت کو مزید مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر