حلقہ پی کے 55،سوئی گیس عملہ تبدیل کرنے پر علی محمد خان کو توہین عدالت کیس میں فریق بنانے پر درخواست دائر

  حلقہ پی کے 55،سوئی گیس عملہ تبدیل کرنے پر علی محمد خان کو توہین عدالت کیس ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)مردان کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 55 میں مداخلت کرنے اور وہاں سوئی گیس عملہ کو تبدیل کرنے پر وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کو توہین عدالت کیس میں فریق بنانے کیلئے ضمنی درخواست دائر کر دی گئی ضمنی درخواست پی کے 55 مردان سے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن صوبائی اسمبلی جمشید خان مہمند نے محمد علی ایڈوکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں مذکورہ حلقے کے لئے کروڑوں روپے مالیت کے گیس کے منصوبے منظور ہوئے تاہم بعد میں وفاقی حکومت نے ان منصوبوں سے کٹوتی کی جس کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی گئی اور 16 مئی 2019 کو پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جو منصوبے پہلے سے منظور ہوئے ہیں اس سے کسی صورت کٹوتی یا اس کیلئے رقم مختص نہ کرنا غیرقانونی ہے لہذا ایک ماہ کے اندر اندر تمام اخراجات کیلئے فنڈز مہیا کئے جائیں اور ان منصوبوں کو پی کے 55 کے عوام کیلئے جاری کئے جائیں محمد علی ایڈوکیٹ نے ضمنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسی دوران مذکورہ حلقے کے ایم پی اے کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے اور ووٹروں کو گیس کے حق سے محروم رکھنے کیلئے یہ فنڈز جاری نہیں کئے گئے اور توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی جس میں وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور سوئی گیس حکام کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو چکا ہے جس میں ان سے جواب طلب کیا گیا ہے مگر ایک اسی توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت ہونے کے باوجود وہاں پر مردان ریجن سے دو سینئر عہدیداروں ریجنل جنرل منیجر علی جان، چیف انجینئر فواد علی کو وفاقی وزیر علی محمد خان کے ایما پر تبدیل کیا گیا ہے تاکہ عدالتی فیصلے کو پس پشت ڈالا جا سکے اور ان منصوبوں میں تعطل کو برقرار رکھا جا سکے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی وزیر علی محمد خان سیاسی طور پر اس منصوبے پر اثرانداز ہو رہے ہیں لہذا وفاقی وزیر اور جنرل منیجر ایچ ار سوئی گیس لاہور کو اس کیس میں فریق بنانے کی استدعا منظور کی جائے اور ان کے خلاف بھی توہین عدالت کی کاروائی کی جائے درخواست کی سماعت ائندہ چند روز میں ہوگی

مزید : پشاورصفحہ آخر