ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیراہتمام لالہ صحرائی کی تصانیف کی تعارفی تقریب

ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیراہتمام لالہ صحرائی کی تصانیف کی تعارفی تقریب

  



لاہور(فلم رپوٹر)ممتاز صحافی،دانشور،روزنامہ پاکستان کے مدیر اعلیٰ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ لالہ صحرائی کی تصانیت ”نور منارہ“ اور ”منزل سے قریب“ اپنی مثال آپ ہیں۔ لالہ صحرائی نے جہانیاں جیسے دوردراز شہر میں بیٹھ اپنی ادبی صلاحیتوں کو منوایا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ تعلیم وتحقیق کے زیر اہتمام جامعہ پنجاب کے وحید شہید ہال میں کتب ”نور مینارہ“،”منزل سے قریب“ کے حوالے سے منعقدہ تقریب ”بیاد لالہ صحرائی“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسر رفاقت علی اکبر کی زیر صدارت تقریب میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی،علامہ احمد جاوید،ڈاکٹر حسین احمد پراچہ،ڈاکٹر ناہید قاسمی اور ڈاکٹر زاہرہ نثار نے بھی شرکت کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹرنوید احمد صادق تھے جبکہ نظامت محمد انور گوندل نے کی۔مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ لالہ صحرائی کی تصانیف کی اشاعت قابل قدر اقدام ہے۔ ڈائریکٹر آئی ای آر پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر نے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لالہ صحرائی کی ہر تصیف بے مثال ادبی شہ پارہ ہے۔ ممتاز معلم، ادیب ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی نے کہا کہ لالہ صحرائی کی نثر نگاری، شستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا ہر ادب پارہ صاحب ذوق قاری کو اپنی ذہنی گرفت میں لے لیتا ہے اور پھر وہ دنیاسے لاتعلق ہو کر محومطالعہ ہو جاتا ہے۔ ممتازشاعرہ اور ادیبہ ڈاکٹر ناہید قاسمی نے کہا احمد ندیم قاسمی ہمیشہ لالہ صحرائی کا نام اپنے دوستوں اور قریبی رفقاء میں شمار کرتے رہے۔ ممتاز محقق ڈاکٹرزاہرہ نثار نے کہا کہ ”منزل سے قریب“ میں عالمی کلاسیکی ادب کے شاہکار تراجم شامل ہیں۔۔تقریب کے آخر میں لالہ صحرائی فاؤنڈیشن کے منتظم ڈاکٹر جاوید احمد صادق نے محققین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1