والدین بچوں کو نمونیا کی ویکسین ضرور لگوائیں،ڈاکٹر نعیم ظفر

والدین بچوں کو نمونیا کی ویکسین ضرور لگوائیں،ڈاکٹر نعیم ظفر

  



لاہور (جنرل رپورٹر) ماہرین امراض اطفال نے 12 نومبر کو ورلڈ نمونیا ڈے کے حوالے سے ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین لگوائیں۔ پاکستان میں سالانہ 92 ہزار پانچ سال سے چھوٹے بچے نمونیا کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر نعیم ظفر، رکن سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، کنوینر، چائلڈ رائٹس کمیٹی، پی پی اے نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں سے 16 فیصد کی وجہ صرف نمونیا ہے جو 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل انتقال کر جاتے ہیں۔جبکہ دنیا بھر میں سالانہ نو لاکھ بیس ہزار بچے اس مرض کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمونیا سے ہونے والی 99 فیصد اموات کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان 5 ممالک میں ہوتا ہے جن میں سب سے زیادہ نمونیا کے واقعات ہوتے ہیں۔ صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور بیماری کی روک تھام ہر بچے کا حق ہے اور والدین کو بچوں کے حقوق ادا کرنا چاہئیں۔ڈاکٹر ہارون حامد پروفیسر آف پیڈیاٹرک میڈیسن، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج نے کہا کہ نمونیا نظام تنفس میں شدید نوعیت کا انفیکشن ہوتا ہے جس سے پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں اورسانس لینے میں شدید تکلیف اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پینے کے صاف پانی کے علاوہ صرف ویکسین ہی وبائی بیماریوں سے بچانے میں معاون ہے لیکن اس کے باوجود والدین اپنے بچوں کو نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگواتے۔ اگر بچوں کی ویکسینیشن کرائی جائے تو ان اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1