پولیس سے تلخ کلامی‘ علی حیدر گیلانی‘60 جیالوں کیخلاف مقدمہ درج

  پولیس سے تلخ کلامی‘ علی حیدر گیلانی‘60 جیالوں کیخلاف مقدمہ درج

  



ملتان،مظفرگڑھ(سپیشل رپورٹر،نامہ نگار) سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے ایم پی اے علی حیدر گیلانی کی بلاول بھٹو کے 8 نومبر کو مظفرگڑھ میں منعقدہ جلسہ کے دوران ملتان سے ان کی سربراہی میں آنے والے جلوس کو آگے لے جانے کے سلسلے میں ڈی پی او مظفرگڑھ سردار(بقیہ نمبر48صفحہ12پر)

صادق علی ڈوگر اور دیگر پولیس حکام سے ہونے والی تلخ کلامی اور جھگڑے کا معاملہ, مظفرگڑھ پولیس نے ایم پی اے علی حیدر گیلانی اور ان کے 5 گن مینوں,محمد ارشد راں, رانا ذولفقار علی, راؤ ساجد علی ضلعی جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی ملتان اور 60 نامعلوم جیالوں کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے، 16 ایم پی او کے تحت تھانہ سول لائن مظفرگڑھ میں مقدمہ 474 درج کرلیا.مقدمہ میں 353,186,506 ت پ کی دفعات لگائی گئی ہیں. مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سول لائن مظفرگڑھ انسپکٹر سید حسین علی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے. جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تلیری چوک مظفرگڑھ پر بلاول بھٹو کے جلسہ کی ڈیوٹی پر تھا کہ الزام علیہان آئے اور گاڑیاں بیریئر توڑتے ہوئے آگے لے آئے جبکہ انہیں روک کر بتایا گیا کہ پارکنگ کے لئے جگہ سکارپ کینال کالونی میں مختص کی گئی ہے جس پر انہوں نے گالم گلوچ کی, دھمکیاں دیں اور زبردستی بیریئر توڑے. جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا. دوسری جانب پی پی 211ملتان کے رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر گیلانی نے پنجاب پولیس کے ناروا سلوک کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرادی، تحریک استحقاق میں کہا گیا ہے کہ 8نومبر کو چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے مجھے اور دیگر پی پی پی ورکرز کو پولیس نے مظفرگڑھ جلسے میں شرکت سے روکا،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے مجھے کارکنوں سمیت سبق سکھانے کا حکم دیا، پولیس نے مجھ سے بدتمیزی کی اور جیالوں پر تشدد کیا، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے میرے ساتھ ناروا سلوک کرکے پورے ایوان کا تقدس مجروح کیا، رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر گیلانی نے پولیس کی وضاحت کو بھی مسترد کردیا۔

مقدمہ درج

مزید : ملتان صفحہ آخر