سابق یوسی چیئرمین نے سابقہ کونسلرکو اغواء کر کے مونچھیں مونڈ دیں‘ویڈیووائرل

  سابق یوسی چیئرمین نے سابقہ کونسلرکو اغواء کر کے مونچھیں مونڈ ...

  



مظفرگڑھ(بیورو رپورٹ، تحصیل رپورٹر،نامہ نگار)حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ منصور احمد خان اور پی ٹی آئی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نوابزادہ محمد احمد خان کے دست راست سابق چیئرمین یونین کونسل سردار محمد احسن خان بھٹہ نے علاقہ کے بدمعاشوں نے اپنے گروپ کے سیاسی حریف سابقہ کونسلر یونین کونسل عمر پور جنوبی محمد اجمل ویراکو اسلحہ کے زور پر اغواء کرکے تشدد کیا اور مونچھیں کاٹ کر ویڈیو بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔ ریسکیو15 (بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

پرکال ہونے کے بعدتھانہ روہیلانوالی پولیس نے موقع پر پہنچ کر محبوس اجمل ویرا کو آزاد کرایا اور ملزمان کو گرفتار کرکے تھانہ لے آئے مگر کچھ ہی دیر بعد بااثر سیاستدانوں اور مقامی زمینداروں کے دباؤ پر اصل ملزمان کو چھوڑ دیا جبکہ مقدمہ درج کرتے ہوئے وقوعہ کے مطابق صحیح دفعات بھی نہ لگائی گئیں۔ ظلم کی یہ داستان سابق کونسل اجمل ویرا نے مظفرگڑھ پریس کلب میں اپنے بھائی محمد اکبر اور رشتہ داروں عبدالرحیم اور محمد جمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیان کی۔ محمداجمل ویرا نے بتایا کہ وہ 7 نومبر کو اپنے رشتہ دار محمد جمال کے ہمراہ موضع عمر پور جنوبی میں اپنی کاشتہ مکئی کی فصل کیلئے تھریشر لینے دریائے چناب کے پار کے علاقہ بیٹ مٹھائی شاہ گیا جب ہم کھوکھا چوک پر پہنچے تو مسمیان محمد آصف ولد مشتاق اور اللہ ڈتہ ولد افضل اقوام کلال مسلح ہائے کلاشنکوف اپنے دیگر10 نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ ہمارے سامنے آگئے اور آتے ہی ہمیں گالم گلوچ کرتے ہوئے تھپڑوں اور مکوں سے زدوکوب کرنا شروع کردیا جبکہ آصف نے کلاشنکوف کا بٹ اس کی دائیں پنڈلی پر مارا جس سے خون رواں ہوگیا جس کے بعد آصف اور اس کے مسلح ساتھی ہمیں زبردستی اٹھا کر موٹر سائیکلوں کے ذریعے دریائے چناب کے کنارے پر لے گئے جہاں آصف نے ہمارا جامع تلاشی کرکے تقریباً30 ہزار روپے نقد، گھڑی، طلائی انگوٹھی اور دو عدد موبائل فون زبردستی چھین لیے اور اس کے بعد مسمی اللہ ڈتہ نے اس کی آدھی مونچھ کاٹ کرویڈیو بنا لی۔ اس موقع پر جملہ ملزمان ہمیں کہتے رہے کہ سردار احسن خان بھٹہ کو ووٹ نہ دینے کا یہی انجام ہوتا ہے، جس کے بعد جملہ مسلح ملزمان ہمیں زبردستی موٹرسائیکلوں پر اغواء کرکے نذیر خان بھٹہ کے باغیچہ میں لے گئے جہاں جملہ مسلح ملزمان نے اْلٹا لٹکا کر ہمیں ڈنٹوں سوٹوں سے زدوکوب کیا، اسی دوران مسلح ملزمان نے اپنے ہی بندے سے ریسکیو15 پر فون کرایا کہ ہم انہیں مارنے کیلئے آئے ہیں،15 کی کال کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور ہمیں مائے ملزمان آصف وغیرہ تھانہ پر لے آئی۔ اسی دوران نوابزادہ منصور احمد خان کے دست راست سردار احسن خان بھٹہ نے پولیس سے رابطہ کرکے گرفتار ملزمان محمد آصف وغیرہ کو چھڑا لیا اور ہماری ایف آئی آر بھی صحیح طریقے سے درج نہ کی اور نہ ہی قانون کے مطابق تعزیرات پاکستان کی دفعات لگائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے مونچھیں کاٹنے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی جس کے تحت 25 ڈی ٹیلی گراف ایکٹ اور سائبر کرائمز ایکٹ بھی لاگو ہونا چاہیے تھا جبکہ سردار محمد احسن خان بھٹہ، اعظم خان بھٹہ اور عرفان مہے کے نام بھی ایف آئی آر میں درج نہ کیے، حالانکہ ہم نے پولیس کو بتایا تھا کہ ہمیں اغواء کرنے کا حکم سردار احسن خان بھٹہ، اعظم خان بھٹہ اور عرفان مہے نے دیا ہے جوکہ بوقت وقوعہ ملزمان کیساتھ موبائل فون پر رابطے میں تھے جس کی بابت اغواء کاروں اور سردار احسن بھٹہ، اعظم بھٹہ اور عرفان مہے کے موبائل فونوں کے ڈیٹا سے بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ سابقہ کونسلر محمد اجمل نے کہا کہ انہیں اغواء کرکے تشدد کرنے کا وقوعہ سردار احسن بھٹہ کی سازش ہے اور سردار احسن بھٹہ ہی کی وجہ سے مقامی پولیس نے جملہ ملزمان کو تھانہ میں وی وی آئی پی پروٹوکول دیکر بعد میں چھوڑ دیا اور ہمارا مقدمہ میں بھی درست دفعات عائد نہ کی گئیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس سیاسی دہشت گردی کا از خود نوٹس لیکر ہمیں انصاف دلائیں اور تھانہ روہیلانوالی کو سیاسی دبا? سے بھی آزاد کرائیں کیونکہ ہمارے پورے تھانہ میں سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات درج ہونے کاسلسلہ جاری ہے۔ مظلوم مدعیان کی داد رسی نہیں ہوتی جبکہ ملزمان کو تھانوں میں کرسیاں پیش کرکے ان کی چائے بسکٹ سے تواضع کی جاتی ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس، ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازیخان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے اغواء، حبس بے جا میں رکھنے اور وحشیانہ تشدد کے سنگین ترین معاملہ کا نوٹس لیکر معاملے کی کسی اعلیٰ افسر سے غیر جانبدارانہ تفتیش کراکر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اغواء کار ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلائیں۔

سابقہ کونسلر

مزید : ملتان صفحہ آخر