سینیٹ اجلاس ، وزیرداخلہ ، چیئر مین نیب کے بیانات سیاسی انتقام کا ثبوت ، اپوزیشن 

سینیٹ اجلاس ، وزیرداخلہ ، چیئر مین نیب کے بیانات سیاسی انتقام کا ثبوت ، ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے وزیر داخلہ خود کہتے ہیں نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نہ لگاتے تو چوتھی بار وزیر اعظم ہوتے ، چیئرمین نیب نے کہا اگر حکومت کیخلاف کارروئی کروں تو حکومت گر جائےگی ،پھر اس کو سیاسی انتقام نہ کہنے کا مطلب دن میں سورج نظر نہ آنا ہے،نواز شریف کیس فیصلے میں کہیں کرپشن کا ذکر نہیں ،نواز شر یف کو عدالت نے حق دیا ہے جہاں چاہیں علاج کرائیں ،تین دن سے فائل چکر کاٹ رہی ہے فیصلہ نہیں ہوا ،وزیر اعظم خود کہتے ہیں میں بے رحم ہوں ،یہ سیاسی انتقام نہیں تو اور کیا ہے ؟جبکہ وفاقی وزیر پارلیمانی اعظم سواتی نے کہا اپوزیشن کے ممبران حقائق بھول گئے ، سیف الر حمن کے کرتوت ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، انہوں نے چیئرمین احتساب بیورو جاوید اقبال کو صاحب کہتے ہوئے مخاطب کیا اور کہا آپ کی وجہ سے ہماری حکومت بدنام ہو رہی ہے ،جس پر کرپشن کیسز ہیں گر فتار کریں ،جے یوآئی (ف) میں نو سال رہا ،اگر میرے خلاف کوئی بھی کرپشن ثابت ہو میں سیاست چھوڑ دونگا۔ پیر کو سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید کامزید کہنا تھا اپوزیشن کے سوالا ت کا جواب دینے میں اپنے آپ کو ناکام محسوس کرتے ہیں،اپنی مدد کےلئے انہوں نے جن لوگوں کو طلب کیا ان کو اپوزیشن کو گالیاں دینے کےلئے رکھا گیا،وہ لوگ کہتے تھے جس دن حکومت ملی تو 100 ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارینگے۔ صادق اور امین بننے کیلئے دو رنگا پٹکا گلے میں ڈالنا ضروری ہے ،جن کو کرپٹ کہتے تھے وہ آج ان کے ثالث ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اکرم نے کہاآزادی مارچ تمام اپوزیشن جماعتو ں کا نمائندہ ہے، ملک میں جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ نظام ہے جاگیردار ملک پر براجمان ہےں۔ ملک میں عوامی نمائندگی نہیں، ملک میں سلیکٹڈ انتخابات ہوتے ہیں۔کلثوم پروین نے کہانیب کے قانون میں ترمیم سے متعلق تجاویز سامنے آئیں،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ترمیم پر رضا مند تھیں،ہماری پارٹی نے ترمیم کی تجویز کو مسترد کیا،میں کہتی رہی صدا بادشاہت نہیں رہتی،اس کا نقصان انہیں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہانیب کے قوانین غلط ہیں،انکو تبدیل کیاجائے ، حلفیہ کہتی ہوں ووٹ کی عزت ہے نہ ووٹ والوں کی۔ کلثوم پروین نے چیئر مین سینٹ سے مکالمہ کیا کہ اگرآپ جا ئیں اچھی ٹیم کےساتھ تو مان جائیں گے،دھرنے والوں کو ایف نائن پارک کی جگہ دے دیتے۔ مہنگائی اتنی ہو گئی ہے کہ لوگ اللہ کی پناہ مانگ رہے ہیں ،تمام اداروں کو پتہ ہے کیا ہونے جا رہا ہے،جگہ جگہ کنٹینرز لگائے ہیں جہاں تعلیمی ادارے ہیں وہاں کنٹینرز لگائے ہیں،بیروزگار ڈاکٹرز،وکیل انجینئر دھر نے میں شامل ہیںاگر ہم بہتری کےلئے کسی ملک کی مثال لے لیں تو کوئی بری بات نہیں۔ کرتار پور کے افتتاح پر ہم علامہ اقبالؒ کو بھول گئے ، وقت کےساتھ ساتھ ہم تاریخ کو چھپاتے جا رہے ہیں۔سیمی ایزدی نے کہاہم سیاسی انتقام نہیں لے رہے ،چلنے والا کیسز ن لیگ اور پیپلز پار ٹی نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے ،اس موقع پر سیمی ایزدی کی زبان پھسل گئی اورکہہ دیا ہم نے دو سو چھ دن کا دھرنا دیا ۔مشاہد اللہ خان نے کہا پی ٹی آئی دھرنے میں ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا،یہ جو تہذیب کو دعویٰ کرتے ہیں سی ڈی اے ان کی تہذیب اکٹھی کرتا تھا۔ان کا مقابلہ اس شخص سے ہے جس کی اہلیہ موت کے منہ میں ہو اور وہ بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل کی سلاخوں کو چومتا ہے،یہ نواز شریف کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،احتساب کرنا ہے تو جہانگیر ترین کا بھی کر یں،حافظ حمداللہ کےساتھ سیاسی انتقام نہیں کیا گیا تو پھر یہ سب کیا ہے،آج کے دھرنے کا دو ہزار چودہ کے دھرنے سے کوئی موازنہ نہیں، آج مدرسہ کے پڑھنے والوں نے دھرنا میں ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی،یہ فنگر پرائم منسٹر ہیں،مدینے کی ریاست سے ان کا کیا تعلق،ان کو کیا پتہ یثرب اور مدینہ کیا تھا، شوکت خانم کے مامے بنے پھرنے والوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے شوکت خانم کی زمین اور پیسے نواز شریف نے دئیے،بابارحمتیںکے بارے میں کیا کہوں منہ سے اچھے الفاظ نہیں نکلتے، مولانا فضل الرحمن نے جو ڈبری ٹائٹ کرنی ہے لگ پتہ جائےگاجس پر ایوان میں قہقہوں سے گونج اٹھا۔ عمران خان کا وژن کمال کا ہے،مگر وژن بھی یوٹرن لیتا ہے۔سینیٹر رحمن ملک نے کہا جو لوگ اعلی عہدوں پر رہے ہیں انکو گرفتار نہ کیا جائے اس حوالے سے ایوان میں بل لایا جائے ۔سب سے زیادہ سیاسی انتقام( ن) لیگ پی پی کا ہو رہا ہے ،سیاسی انتقام کو ختم کرنے کیلئے پی ٹی آئی (ن) لیگ پی پی پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔این آر او نہ دینے اور نہ لینے کے جملے چل رہے ہیں،پیپلزپارٹی نے پرویز مشرف سے کوئی این آر او نہیں لیا تھا،اگر پیپلزپارٹی پر این آر او لینا ثانت ہو جائے تو استعفیٰ دیکر سیا ست چھوڑ دوں گا۔ احتساب کا عمل شفاف بنانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی بنائی جانی چاہیے۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا بزدل حکمرانوں کی نشانی ہے وہ سیاسی مقابلہ نہیں کرتے ،ملک میں ساری اپوزیشن کو بھی جیل بھیج دیں یہ حکومت نہیں چلتی ۔ وقت آنے پر حکومت این آر او بانٹتی پھرے گی ،قید سیاسی قیادت کے جیلوں میں پاوں پکڑیں گے ۔اگر یہ احتساب میں سنجیدہ ہوتے تو بلا تفریق احتساب ہوتا ،جتنی قیادت انہوں نے اندر کی ہوئی ہے ، اس میں سے کسی ایک کےخلاف بھی ریفرنس دائر نہیں،ہم نے حکومت اور اداروں کا مقابلہ کیا ،نیب کا کالا قانون صرف ممالک کے سیاستدانوں کےلئے رہ گیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک کے نیب سے متعلق بل کو زیر غور لائیں،وزیراعظم ہر بیرونی دورے میں کہتے ہیں میںاس ملک کا سربراہ ہوں جسکے لوگ چور اور ڈاکو ہیں۔ وفاقی وزیر پار لیما نی امور اعظم خان سواتی نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہاسیف الرحمن کے کرتوت ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔ جہانگیر تر ین کیس سب کے سامنے ہے ،ثاقب نثار اپنے قد کو عمران خان سے بڑا کرنا چاہتا تھا ۔ ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا نہ جج کو اٹھا کر باہر پھینکا ،اب یہ لوگ برداشت کریں ۔نیب قوانین میں سقم ہے اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔ آج ایک ہی صف میں کھڑے ہیں محمود و ایاز ، اپوزیشن اکٹھی ہوئی ہے کہ احتساب کے عمل کو آگے نا بڑھنے دیا جائے، ا پوزیشن کے اس اقدام سے کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلا گیا، حافظ حمد اللہ کو حساس ادارے کی رپور ٹ نے جعلی قرار دیا،انہوںنے جو دستاو یز ا ت جمع کرائی انہیں جعلی قرار دیاگیا،نادرا کی جانب سے ان کی دستاویزات کی جانچ ابھی بھی جار ی ہے،ہماری حکومت کبھی بھی اس گرے ہوئے فعل کو نہیں اپنا سکتی،اتنے لمبے عرصے میں اس معاملے پر نوٹس نہیں لیا گیا جو قابل غور ہے، سنیٹر حمداللہ کی شہریت ختم کرنے کی مذمت کرتا ہوں ،کابینہ اجلاس میں کسی نے اس فیصلے کو نہیں سراہا ۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ آخر