سینیٹ قائمہ کمیٹی توانائی، بجلی کا موسم گر ما، سرما میں لوڈ مختلف کمپنیوں نے صحیح معلومات نہیں دی: سینیٹر نعمان وزیر خٹک

سینیٹ قائمہ کمیٹی توانائی، بجلی کا موسم گر ما، سرما میں لوڈ مختلف کمپنیوں نے ...

  



 اسلام آ باد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی میں بجلی کی کمپنیوں کے کیپسٹی چارجز و دیگر مسائل پر قائم کی گئی، ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی،جس میں سفارش کی گئی ہے کہ بجلی کا سردیوں اور گرمیوں میں لوڈ مختلف ہوتا ہے اسکو بیلنس کرنا ہو گا، بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں نے صحیح معلومات نہیں دیں، بجلی کے یونٹ بنانے کیلئے جتنا تیل استعمال کیا گیا اس سے زائدہ بتایا گیا اور نیپرا نے ہیٹ ریٹس کو جب سے بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیاں بنی ہیں چیک ہی نہیں کیا اور جو افرادی قوت کی تعداد بتائی ہے وہ بھی زیادہ ہے، 60دن کے اندر ٹیرف ریوائز کئے جائیں، موجودہ سٹاف کی کیپسٹی بلڈنگ کی جائے، نیپرا کے سٹاف میں ٹیکنیکل افراد کی کمی ہے، آئی پی پیز نے صارفین سے جی آئی ڈی سی وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع ہی نہیں کرائی جبکہ وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پڑھ کر کمیٹی کو آگاہ کر دو ں گا۔ ایک کمیٹی سی سی پی کے چیئرمین کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جس میں ماہرین اور ٹیکنیکل افراد بھی شامل ہیں جو تین ما ہ کے اندر ان معاملات کے حوالے سے رپورٹ دیں گے،بہتر ہے اس کمیٹی کی رپور ٹ کو بھی اس میں شامل کیا جائے، جی آئی ڈی سی پی پی دور میں اکھٹی کرنی شروع کی گئی جسکا مقصد پاک ایران پائپ لائن پر خرچ کرنا تھا، جی آئی ڈی سی کے مسئلے کو شفاف انداز میں حل کرنے کیلئے معاملہ سپریم کورٹ لے گئے۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی اور کہا زائد ٹیرف، کیپسٹی چارجز، ہیٹ ریٹس اور آئی پی پیز کے پے بیک پیریڈ کے حساب کتاب کے حوالے سے ذیلی کمیٹی نے معاملات کا تفصیل سے جا ئز ہ لیا ہے اور نیپرا کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کر کے رپورٹ تیار کی ہے۔جس کے مطابق نشاط پاور سے 7.12، نشاط چونیاں سے 7.82، اٹک جن سے 11.04، لیبرٹی پاور سے 9.24اور اٹلس پاور سے 3.79ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ ان پانچ کمپنیوں سے 39.02ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد نے کہا سینیٹر نعمان وزیر خٹک کے احسان مند ہیں جو ہر وقت ملک و قو م کی خدمت کیلئے تیار رہتے ہیں۔واپڈا اور ان کے متعلقہ اداروں کے معاملات ٹھیک ہو جائیں تو عوام کو بہت ریلیف مل سکتا ہے،ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ اداروں کی کارکردگی کو موثر بنا کر ملک وقوم کیلئے فائدہ مند بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر توانائی عمرایوب کا کہنا تھا کھاد کی 6 میں سے دو کمپنیوں کو پی پی دور میں استثنا دی گئی تھی باقی چار کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں انکے خفیہ اکانٹس نہیں ہیں۔ جی آئی ڈی سی پی پی دور میں اکھٹی کرنی شروع کی گئی جسکا مقصد پاک ایران پائپ لائن پر خرچ کر نا تھا۔ جی آئی ڈی سی مسئلے کو شفاف انداز میں حل کرنے کیلئے معاملہ سپریم کورٹ لے گئے،عدالت عظمی نے متعلقہ تمام کیسز اپنے پاس لے لیا۔مینیجنگ ڈائریکٹر نیسپاک نے قائمہ کمیٹی کو بتایا نیسپاک 1973میں حکومت کی 5لاکھ کی گرانٹ سے قائم کیا گیا اس کے بعد سے ادارہ کوئی گرانٹ نہیں لے رہا یہ ادارہ تربیلہ ڈیم کی ٹنل کی تعمیر کیلئے تشکیل دیا گیا تھا اس ادارے کی غیر ملکی کمپنیوں سے ایسوسی ایشن بھی ہے ادارے کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر بھی ہے جس کے چیئرمین سیکرٹری پاور ڈویژن اور گیارہ ممبران ہیں۔ادارے نے اب تک 3944منصوبہ جات پر کام کیا ہے جن میں سے ملکی سطح پر 3055اور بیرون ممالک 523مکمل کئے گئے۔ ملک کے331اور غیر ملکی 35منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا جاری منصوبوں میں وفاق کے 140، پنجاب 79، سندھ 22، کے پی کے 42، بلوچستان 7، جی بی 6، آزاد کشمیر 4، پرائیویٹ 31اور غیر ملکی 35شامل ہیں۔ سینیٹر نعمان وزیرخٹک نے کہا نیسپاک اچھا ادارہ اور بہتر کام کر رہا ہے۔ غیر ملکی کنسلٹنٹ کی بجائے ملکی کنسلٹنٹ ہائیر کرنے چاہئے۔ ایم دی نیسپاک نے کہا وہ منصوبے جن میں ڈونرز شامل ہوتے ہیں اور ان کی شرط کے مطابق غیر ملکی کنسلٹنٹ ہائیر کئے جاتے ہیں ورنہ کوشش کی جاتی ہے ملکی سطح سے کنسلٹنٹ ہائیر کئے جائیں۔ سینیٹر سراج الحق چیئرمین کمیٹی کے جانے کے بعد قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے سے اضافی لاگت برداشت نہیں کرنی پڑتی اور عوام کو بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ایک میکنزم بنایا جائے جس کے تحت منصوبے بروقت مکمل ہوں اور منصوبوں کو وقت پر مکمل نہ کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ 

سینیٹ کمیٹی توانائی

مزید : صفحہ آخر