افغانستان کے ساتھ باہمی تجارتی رکاوٹیں دورکی جائیں‘ ضیاء الحق سرحدی

    افغانستان کے ساتھ باہمی تجارتی رکاوٹیں دورکی جائیں‘ ضیاء الحق سرحدی

  



پشاور(سٹاف رپورٹر) افغان جنرل قونصلیٹ میں تعینات ہونے والے کمرشل اتاشی محمد فواد آرش نے پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کا مر س اینڈ انڈ سٹر ی اورسر حد چیمبر ا ف کا مر س اینڈ انڈسٹری کے سا بق سینئر نا ئب صدر ضیا ء  ا لحق سر حد ی سے ان کے آفس میں ملاقات کی،اس موقع پر ڈپٹی کمرشل اتاشی ڈاکٹر حمید فاضل خیل،لینڈ روٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین امتیاز احمد علی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ضیاء الحق سرحدی اور امتیاز احمد علی نے افغان کمرشل آتاشی محمد فواد آرش کو افغانستان قونصلیٹ پشاور میں بحیثیت کمرشل اتاشی تعینات ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعیناتی سے پاک افغان باہمی تجارت کو فروغ ملے گا اورپاک افغان بزنس کمیونٹی کے مسائل میں بھی کافی حد تک کمی نمایاں ہوگی۔انہوں نے پاک افغان باہمی تجارت کے فروغ کے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور مشترکہ کوشش کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کا مر س اینڈ انڈ سٹر ی اس میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے افغان کمرشل اتاشی کو بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ 2010میں جو تحفظات دونوں ممالک کے اسٹیک ہولڈرزکے ہیں ان کو دور کیا جائے اور اس معاہدے پر دونوں ممالک ازسرنو نظر ثانی کریں، تاکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو جو کہ 70فیصد چا بہا ر اور بند ر عبا س منتقل ہو گئی ہے وہ دوبارہ واپس پاکستان کراچی پورٹ کے ذریعے افغانستان جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور افغانستان کو باہمی تجارت کے فروغ کے لئے مشترکہ اقدامات اٹھانے چاہئیں اور بزنس کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی ایکسپورٹ کے (محصولات)کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف میں بھی کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی ایکسپورٹ کو فروغ حاصل ہو، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو5ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے جو کہ اسلام آباد اور کابل کی جانب سے سنجیدہ کوشش سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ضیاء  الحق سرحدی جو کہ فرنٹیئرکسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں نے مزید کہا کہ افغانستان کو پاکستانی مصنوعات کے علاوہ ایران،چین،ترکی اور بھارت کی بھی ایکسپورٹ ہوتی ہیں 

 لیکن ان پر افغان (گمرک)کسٹم ڈیوٹی 6سے7فیصد ہوتی ہے،جبکہ پاکستانی بر آمدات پر 10سے15فیصد کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹ زبوں حالی کا شکار ہے،اس فرق کو ختم کیا جائے،اس کے علاوہ افغانستان میں مختلف گمرک کسٹم اسٹیشن(کسٹم ہاؤس)میں مختلف محصولات(کسٹم ڈیوٹیاں)وصول کی جاتی ہیں، جس کا ایک دوسرے کسٹم ا سٹیشن سے مطابقت نہیں رکھتی،جوکہ چمن،طورخم،غلام خان اور انگور اڈا وغیرہ پر ہیں اور اسی طرح ٹرکوں کے وزن کے لوڈ میں بھی فرق نمایاں ہے۔جیسا کہ چمن بارڈر کے ذریع 20فٹ کنٹینر24ٹن، 40فٹ کنٹینرز 55ٹن جبکہ یہی کنٹینرز طورخم کے راستے 20فٹ 16ٹن اور40فٹ 32ٹن جانے کی اجازت ہے۔اس موقع پر افغان کمرشل اتاشی محمد فواد آرش اور ڈپٹی کمرشل اتاشی ڈاکٹر حمید فاضل خیل نے کہا کہ طورخم بارڈرز پر اس وقت جو فرش فروٹ،پیراشیبل(Perishable)،   ڈرائی فروٹ ودیگر افغانی مصنوعات امپورٹ ہوتی ہیں ان پر کسٹم ڈیوٹیاں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے باہمی تجارت میں کمی نمایاں ہو رہی ہیں ان ڈیوٹیوں پر نظر ثانی کی جائے اور ان کی ویلیو ایشن کا طریقہ مقامی کلکٹریٹ کو دیا جائے جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا اب یہ اختیارات ڈائریکٹر جنرل کسٹم ویلیوایشن کراچی کو دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی ٹرکوں کو بھی پشاور سے آگے کراچی تک مال لیجانے کی اجازت دی جائے تاکہ پاکستانی ٹرک کابل سے آگے وسطی ایشیاء  تک   جا سکیں،انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ(APTTA)میں کافی مشکلات ہیں اس کو دور کیا جائے اور ماضی کی طرح کراچی سے پشاور/چمن تک بذریعہ ریل گاڑی افغان ٹرانزٹ ٹرید کارگو کا اجراء  کیا جائے اور SRO121کو ختم کیا جائے تاکہ کنٹینرز کے علاوہ لوز کارگو بھی پشاور اور چمن تک آسکے چونکہ نئے معاہدے میں اس وقت بانڈڈکیریئرکو کارگو لانے کی اجازت ہے لیکن بانڈڈ کیریئرمیں کرایہ بہت زیادہ ہے ان کی مناپلی کی وجہ سے دوسری ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کی جا سکتی لہٰذپاکستان ریلوے ماضی کی طرح کراچی سے پشاور تک کارگو لائے اور آگے پشاور سے افغانستان بذریعہ پاکستانی/افغانی ٹرکوں کے ذریع مال بھیجا جائے۔تاکہ پاکستان کی جانب سے طورخم بارڈر کو 7/24گھنٹے کھلا رکھنے کے ثمرات بھی مل سکیں۔آخر میں ضیاء  الحق سرحدی نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک باہمی تجارت کے فروغ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی مرتب کریں۔تاکہ افغانستان کے ساتھ ساتھ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی رابطوں میں اضافہ ہو۔

مزید : کامرس