پاکستان کی گرے لسٹ میں موجودگی سے سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے،‘ نعمان کبیر

پاکستان کی گرے لسٹ میں موجودگی سے سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے،‘ نعمان کبیر

  



لاہور (آن لائن) چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) میاں نعمان کبیرنے اس خدشہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ فروری ۲۰۲۰کے بعد بھی پاکستان گرے لسٹ میں رہ سکتا ہے،حکومت پوری کوشیش کرے کہ اگلے ایف اے ٹی ایف کے جلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے خارج ہو جائے،پاکستان کا گرے لسٹ میں شامل رہنا معیشت کے لئے برا شگون ہے۔ ایف ٹی ایف اے ایک عالمی ادارہ ہے جس کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا ہے اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوشیشوں میں تعاون نہیں کرتے۔ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رہنے سے مالی اداروں کے ساتھ تعلقات متاثر ہونگے۔ بیرون ملک پاکستان کا امیج خراب ہو سکتا ہے۔حکومت کی بحالی امن کی کوشیشوں کے باوجود سرمایہ کاروں کو پاکستان لانا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کی ساکھ متاثر ہو گی۔

اور غیر ملکی بینکوں اور سرمایا کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔ چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دیے گئے ٹارگٹس مطلوبہ مدت تک حاصل کر ے اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر گرے لسٹ سے نکلنے کی پوری کوشیش کی جائے ا، گرے لسٹ میں ہونے سے پاکستان مخالف قوتوں کو موقع ملے گا کہ وہ دیگر ممالک کو پاکستان سے تجارتی و معاشی تعلقات کم کرنے کی ترغیب دیں گے۔ گوادر اور سی پیک سے ہونیوالی ترقی کئی ممالک کو ہضم نہیں ہو رہی پاکستان کی معاشی ترقی کئی ممالک کے لئے پریشانی کا باعث ہے خواجہ شاہزیب اکرم نے کہا کہ پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے دو محاذوں پر کام کرنا ہو گا اولین محاذ سفارتکاری کا ہے دنیا کو ان اچھے اقدامات سے آگاہ کرنا ہو گا جو پاکستان نے کئے ہیں۔ دوسری جانب ایسے مزید عملی اقدامت کرنا ہونگے جو دنیا کو نظر آئیں۔ متحرک اور موئثر سفارتی اقدامات کر کے خود پر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہو گا۔

مزید : کامرس