گیس کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگا‘ اکانومی واچ

گیس کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگا‘ اکانومی واچ

  



لاہور(پ ر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ مہنگائی سے بلکتی عوام پر گیس بم کی صورت میں ایک اور ڈرون حملہ کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس سے ملک میں مہنگائی اور گیس کمپنیوں کا منافع مزید بڑھ جائے گا۔ گیس کمپنیوں نے اس بارعوام کی کھال اتارنے کے لئے ٹیرف میں 194 روپے فی یونٹ اضافہ کا فیصلہ کیا ہے جو افراط زر کو بڑھا کر شرح سود میں کمی کو ناممکن بنا دے گا۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردن نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے زریعے اپنے منافع میں تیرانوے ارب روپے سے زیادہ کے اضافہ کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ اس سے قبل بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت گیس کی قیمتوں میں ایک سو نوے فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس سے انکی تسلی نہیں ہوئی۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کے علاوہ صنعتی اور زرعی شعبہ پر دباؤ بڑھے گا، پیداوار مہنگی اور برامدات مشکل ہو جائیں گی جبکہ ماہ رواں کے اختتام پر شرح سود اور مہنگائی میں معمولی کمی کی توقع کی امیدیں خاک میں مل جائیں گے۔گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے لئے اوگرا کو گیس کمپنیوں ی جانب سے درخواست دی جاتی ہے اور اضافہ سے قبل اوگرا شراکت داروں سے رائے لیتی ہے جس کے لئے انیس نومبر کی تاریخ متعین ہے مگر یہ صرف خانہ پری کی کاروائی ہوتی ہے جس میں شرکت کرنے والوں کو وقت کے ضیاں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھنے سے مڈل کلاس سب سے زیادہ متاثر جبکہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔اسکی قیمت بڑھنے سے طلب کم اور چوری بڑھ جائے گی۔

انھوں نے کہا گیس کی قیمت میں اضافہ کے مضمرات پر دوبارہ غور کیا جائے کیونکہ گیس کمپنیوں کامنافع عوام اور ملکی معیشت زیادہ ضروری نہیں ہے۔

مزید : کامرس