آغا سراج کی درخواست ضمانت وکلا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت

آغا سراج کی درخواست ضمانت وکلا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواست سے متعلق ملزمان کے وکلا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جسٹس ذولفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ نیب نے اچانک پراسیکیوٹر کیوں تبدیل کرلیا؟ پراسیکیوٹر نیب ستار اعوان نے موقف دیا کہ مجھے ذمہ داری دی گئی اسلیے پیش ہوگیا۔ جسٹس عمر سیال نے ریماکس دیئے پچھلا پراسیکیوٹر کافی بہتر دلائل دے رہا تھا اچانک تبدیلی میرے لیے حیران کن ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ آغا مسیح الدین نے ملیر کی بے نامی جائداد کے 500 ملین روپے وصول کئیے۔ ملازمین کے نام پر بھی بے نامی جائیدادوں کی خرید و فروخت ہوئی۔ نیب نے آغا مسیح الدین کے نام پر بے نامی جائیدادوں کی ٹرانزیکشن پیش کردی۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملیر میں 40 ایکڑ زمین منور علی کے نام پر خریدی۔ وکیل آغا مسیح نے موقف دیا کہ ہم نے جائدادوں سے متعلق نیب کے سوالات کے جواب دے دیئے تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ڈرایؤر اور دیگر ملازمین کے نام پر جائدادیں کیوں خریدی گئیں؟ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ گڑھی یاسین میں درانی فیملی کے پاس لوگ مسائل کے حل کیلئے آتے ہیں۔ لوگ اپنی رقم اور پراپرٹی بھی رکھواتے ہیں۔ ہم کئی سوالات کے جوابات ٹرائل میں دیں گے۔عدالت نے ریماکس دیئے آپ اسے کالا قانون کہتے ہیں؟قانون سازی کے وقت کسی قانون ساز نے اسے کالا قانون نہیں کہا۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ میں بھی کالا قانون نہیں کہتا، نیب حکام قانون پر عمل نہیں کرتے۔ عدالت نے 18 نومبر تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کے وکلا دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر