تعمیراتی شعبہ کا فروغ ترجیح ، عام آدمی کو ریلیف دینے پر توجہ مرکوز ہے : وزیراعظم 

    تعمیراتی شعبہ کا فروغ ترجیح ، عام آدمی کو ریلیف دینے پر توجہ مرکوز ہے : ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان کہا ہے کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں معاشی صورتحال مستحکم ہوئی ہے ،کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے، حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، معاشی استحکام کو مزیدمستحکم کرنا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،تیل، گیس اورمعدنیات کے شعبے صوبوں کی استعداد کار بڑھانے کے ضمن میں وفاقی حکومت ہر ممکن طریقے سے صوبوں کی معاونت کرے گی،اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور مستقبل کے تخمینوں کے حوالے سے مربوط منصوبہ بندی کے حوالے سے وزارتِ فوڈ سیکیورٹی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے ۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، مشیرتجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین، متعلقہ محکموں کے وفاقی سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) انور علی حیدر ودیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔ اجلاس میں معاشی صورتحال بالخصوص ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کا فروغ، بڑے صعنتی یونٹس کےلئے مراعات، ہسپتالوں کے لئے آلات و مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد، تیل، گیس اور معدنیات کے شعبے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، ملک میں چینی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د نے اجلاس کو ہسپتالوں کے لئے آلات و مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں تمام ضروری مراحل کو آئندہ پندرہ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو بڑے صنعتی یونٹس کو دی جانے والی مراعات کے حوالے سے مختلف اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔معاون خصوصی براے پیٹرولیم ندیم بابر نے اجلاس کو آگاہ کیاکہ 15دسمبر تک بارہ نئے بلاکس کو ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے لئے نیلامی کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے مختلف ممالک میں روڈ شوز و دیگر تشہیری تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بارہ بلاکس کی نیلامی سے خاطر خواہ سرمایہ کاری متوقع ہے۔ تاجکستان،افغانستان،پاکستان،ایران گیس پائپ لائن اور پارکو کوسٹل ریفائینری کے قیام کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کے حوالے سے موثر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو بنیادی اشیا کی فراہمی کے لئے چھ ارب جاری کرنے کے فیصلے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چینی کے ذخائر اور دستیابی کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں پر بریفنگ دی۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیرِ اعظم کو معیشت کی مجموعی صورتحال اور اقتصادی اعشاریوں میں ہونے والی بہتری پر بریفنگ دی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں معاشی صورتحال مستحکم ہوئی ہے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کو مزیدمستحکم کرنا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ معدنیات اور کان کنی کے شعبوں کے فروغ پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ تیل، گیس اورمعدنیات کے شعبے صوبوں کی استعداد کار بڑھانے کےضمن میں وفاقی حکومت ہر ممکن طریقے سے صوبوں کی معاونت کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور مستقبل کے تخمینوں کے حوالے سے مربوط منصوبہ بندی کے حوالے سے وزارتِ فوڈ سیکیورٹی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر جامع منصوبہ بندی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں اس سے نہ صرف طلب و رسد کا فرق ختم ہوگا بلکہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیرات سیکٹر کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، تعمیرات کے شعبے سے چالیس کے لگ بھگ صنعتیں منسلک ہیں، اس شعبے سے صنعتوں کو ترقی ملنے کیساتھ نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع میسر آئیں گے، معاشی عمل کو تیز کرنے کے لئے تعمیرات کے شعبے کا فروغ ازحد ضروری ہے،تعمیرات سیکٹر ہماری حکومت کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے،تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے ہی پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا سب سے اہم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تعمیرات سیکٹر کی بحالی و فروغ کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا ،نہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے سے چالیس کے لگ بھگ صنعتیں منسلک ہیں۔ تعمیرات کے شعبے سے جہاں ان صنعتوں کو ترقی ملے گی وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع میسر آئیں گے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی عمل کو تیز کرنے کے لئے تعمیرات کے شعبے کا فروغ ازحد ضروری ہے،تعمیرات سیکٹر ہماری حکومت کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے،تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے ہی پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا سب سے اہم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ اجلاس میں بینکوں کی طرف سے تعمیرات کے لیے قرضوں کی فراہمی ، صوبوں میں تعمیرات کے شعبے میں یکساں شرح ٹیکس کے اطلاق اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا ۔صوبائی اور وفاقی سطح کے ٹیکسوں سمیت مختلف مسائل کے حل کے حوالےسے قابل عمل تجاویز مرتب کرنے کے لئے وزیرِ اعظم نے چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کی سربراہی میں چئیرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بنک، وزیر خزانہ پنجاب ، صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان اور دیگر متعلقین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی کوآئندہ 24 گھنٹوں میں ٹیکسوں، بنکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی اور دیگر مشکلات کے حل کے حوالے سے لائحہ عمل اور سفارشات وزیرِ اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ملک کے کرپٹ نظام میں ہر جگہ معافیاز موجود ہیں ، ہمیں جدوجہد کے ذریعے ان کو شکست دینا ہوگی،لوگ کہتے ہیں مجھ میں رحم نہیں ،ملک کو لوٹنے والوں کو میں کیسے معاف کر سکتا ہوں؟ رحم تو کمزور ، غریب ، پسے ہوئے طبقات، معذوروں، یتیموں اور بیواﺅں کےلئے ہوتا ہے، ڈاکوﺅں پر کون رحم کرتا ہے، عوام کا پیسہ چوری کر نے والوں کو عوام ہی معاف کر سکتے ہیں ، نا انصافی کی وجہ سے معاشرے سے میرٹ ختم ہو جاتا ہے ، معاشرہ دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتا، پاکستان میں ہم سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں، ٹیکس کم دیتے ہیں ،اگر ریاست کے پاس پیسہ نہیں ہوگا تو عوام کی فلاح وبہبود کیسے ہوگی، ہمیں ٹیکس دینا ہوگا، ہمیں ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے، ملائیشیا ، ترکی اور پاکستان اسلامی ہیروز سے اپنی نوجوان نسل کو متعارف کروانے کےلئے فلمیں بنائیں گے، ہمارے نبی کریم ایک عظیم رہنما ہیں ان کا نام ہمیشہ سر بلند رہے گا۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ غلامی کی زنجیریں ہمیں صلاحیتوں پر پورا اترنے سے روکتی ہیں،جو بھی رسول اللہ کا راستہ اپنائے گا غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو جائیگا۔وزیراعظم نے کہا کہ حضرت محمد نے قانون کی عمل داری کے جدید اصولوں پر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی،ریاست مدینہ کی بنیاد چار رہنما اصولوں پر رکھی گئی،ریاست مدینہ قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق، شفقت اور میرٹ پر قائم ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ حضوراکرم کے رہنما اصولوں پر چلنے والی ریاست ہی ترقی کریگی۔

عمران خان 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وزیر اعظم کی معاشی ٹیم نے کہا ہے کہ تجارتی خسارے میں بدستور کمی ہو رہی ہے۔ ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ،ڈالر کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپیہ مستحکم ہورہاہے۔حکومت کے مو¿ثر اقدامات سے ملک کی معیشت کو سہارا ملا، ورلڈ بینک کے صدر اور آئی ایم ایف نے معاشی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے دوسری قسط کی سفارش کر دی ہے ،برآمد کنندگان کو 200 ارب روپیہ قرضہ آسان قسطوں پر دیا جائے گا ، ہم نے 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کیا،رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالیاتی خسارے اور تجارتی خسارے میں کمی ،پانچ سال کے بعد برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، فاٹا کے انضمام کے بعداین ایف سی کے کردار پر بات چیت ہو رہی ہے، حکومت کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے،صوبائی حکومتوں کو قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ، حکومت نئے نوٹ نہیں چھاپے گی ،ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی ،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی،پچھلے چار ماہ میں اسٹیٹ بینک سے ایک ٹکا بھی ادھار نہیں لیا گیا، یہ تمام چیزیں ملا کر دیکھیں تو ایک اچھی تصویر ابھر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ وزیر اقتصادی امور حماد اظہر ، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان و معاشی ٹیم کے دیگر امان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کے آغاز پر بتایاکہ وزیراعظم اور معاشی ٹیم نے معیشت کو درست سمت دی۔ انہوںنے کہاکہ اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے ملک کا خزانہ بھرا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال بعد پاکستانی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا جبکہ ایف بی آر کے محصولات میں بھی 16 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بہتری آ رہی ہے۔ حکومت نے سٹیٹ بینک سے گزشتہ 4 ماہ سے کوئی قرض نہیں لیا بلکہ سابق حکومت کا لیا گیا قرض واپس کیا۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے وعدے پورے کیے اور دوسری قسط ینے کی تجویز دی جبکہ صدر آئی ایم ایف نے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلئے اہم فیصلے کیے۔ حکومت مجموعی قومی خسارے میں کمی لائی ہے۔ ہم نے پچھلی حکومتوں کا 2.1ارب ڈالر قرض واپس کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہاو¿سنگ سکیم کیلئے 30 ارب روپے اضافی مختص کیے۔ گھروں کی تعمیر کرنیوالے اداروں کو ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ برآمد کنندگان کیلئے قرض کی مد میں 100 ارب مزید رکھے گئے ہیں۔ ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 30 ارب جبکہ گردشی قرضوں کی مد میں 250 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ پانچ سال کے بعد برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے،ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے،ایکسچینج ریٹ میں استحکام ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے،تاجروں کے ساتھ معاملہ مذاکرات سے حل ہوا۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کی تعریف کی،آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے تمام وعدے پورے کیے،اس عرصے میں 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کیا۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نے 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط جاری کرنے کی سفارش کی۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ فاٹا کے انضمام کے بعداین ایف سی کے کردار پر بات چیت ہو رہی ہے،فاٹا کیلئے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ شرح سود اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی طے کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ساڑھے چھ لاکھ ٹن گندم جاری کی گئی،صوبائی حکومتوں کو قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے نئے نوٹ نہ چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نیا ہاو¿سنگ پروگرام کیلئے صرف سود پر سبسڈی دے گی ،جون سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی ،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ ایف بی آر میں اصلاحات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں ابھی پوری جزیات طے نہیں ہوئی۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مسلسل چلتے ہیں،بہتر کارکردگی پر ہمیں مزید رعایت حاصل ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ سابق حکومت کی ایکسچینج ریٹ پالیسی سے 20 سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ہماری برآمدات کمی ہوئی اور ملک میں ڈی انڈسٹریل لایزیشن ہوئی۔انہوںنے کہاکہ سابق حکومت کے اقدامات کے باعث عوام کو تکلیف ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت جب تک موجود ہے قیمتوں پر کنٹرول رہے گا۔کاروباری طبقے کو دی گئیں مراعات کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اسی دوران حکومت نے فیصلہ کیا اور ملک کے تاجروں سے ایک اچھا معاہدہ کیا گیا جس کے تحت انہیں مراعات دی گئیں اور طے پایا کہ وہ ڈاکیومنٹیشن کریں اور ٹیکس دے کر ملکی معیشت میں بھرپور حصہ ادا کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے چار ماہ میں اسٹیٹ بینک سے ایک ٹکا بھی ادھار نہیں لیا گیا، یہ تمام چیزیں ملا کر دیکھیں تو ایک اچھی تصویر ابھر رہی ہے۔حفیظ شیخ کے مطابق مشیرخزانہ ملک میں تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، گھروں کی تعمیر میں حصہ لینے والے اداروں کیلئے ٹیکس چھوٹ دی جائےگی۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوگئے ہیں، جولائی سے 1.2 ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے، برآمد کنندگان کو 200ارب روپے میں حکومت اور اسٹیٹ بینک بھی حصہ دیں گے، یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 6 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومتی معاشی ٹیم 

مزید : صفحہ اول