جج وڈیوکیس: دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

جج وڈیوکیس: دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر ...
جج وڈیوکیس: دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج وڈیوکیس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی ایف آئی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کیا جس کورٹ میں چالان پیش کیا گیا وہی کورٹ مزید دفعات لگانے کو دیکھ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج ویڈیو سکینڈل کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پرسماعت ہوئی،جسٹس عامرفاروق نے کیس کی سماعت کی،سائبر کرائم عدالت نے ایف آئی اے کی دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے درخواست مسترد کی تھی، وکیل ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 16 جولائی 2019 کو ایف آئی آردرج ہوئی، 7 ستمبر کو ملزم کیس سے ڈسچارج ہوئے،جج وڈیو کیس میں ملزمان کے ڈسچارج ہونے کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا،16 ستمبر کو تفتیشی ٹیم کو تبدیل کردیا گیا،16 جولائی اور 6 اکتوبرکے حقائق میں کچھ فرق نہیں، نہ کوئی نئی چیز سامنے آئی،6 اکتوبر کو ایف آئی اے کو معلوم ہوا کہ دہشتگردی دفعات بھی لگتی ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کیا جس کورٹ میں چالان پیش کیا گیا وہی کورٹ مزید دفعات لگانے کو دیکھ سکتی ہے،ہم نے مکمل کیس نہیں صرف متعلقہ حصے کے حوالے سے سن کرفیصلہ کرنا ہے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ پراسیکیوشن اور تفتیشی ایجنسی الگ الگ ہوں لیکن اسلام آباد میں ایسا نہیں ہے،جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ ارشد ملک اس کیس میں مدعی ہے اس کو پارٹی کیوں نہیں بنایا گیا، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ارشد ملک کو اس کیس میں پارٹی بنانا ضروری نہیں ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج وڈیوکیس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی ایف آئی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد