میچ فکسنگ پر 10 سال قید،5 لاکھ جرمانہ ،پارلیمنٹ کی تجاویزکرپٹ کرکٹرز کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

میچ فکسنگ پر 10 سال قید،5 لاکھ جرمانہ ،پارلیمنٹ کی تجاویزکرپٹ کرکٹرز کیلئے ...
میچ فکسنگ پر 10 سال قید،5 لاکھ جرمانہ ،پارلیمنٹ کی تجاویزکرپٹ کرکٹرز کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

  



کولمبو(ڈیلی پاکستان آن لائن)سری لنکن حکومت نے کرکٹ کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔گزشتہ کچھ سالوں سے بڑھتی ہوئی اسپورٹس کرپشن پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی جس میں کھلاڑیوں کو کرپشن کرنے پر سخت سزاؤں کی تجاویز دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔نیوز 18کی رپورٹ کے مطابق

سری لنکا میچ فکسنگ اور جوئے پر سخت سزاوں کی قانون سازی کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیاہے۔

کرک بزکی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں اسپورٹس کرپشن پر دس سال قید جبکہ پانچ لاکھ جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔سری لنکن حکام نے میچ کا نتیجہ بدلنے یا اس پرتاثرانداز ہونے پربھی سزا کی تجویزدی ہے۔

اس سے پہلے بھی سری لنکا میں کھیلوں پر جوا غیر قانونی تھا تاہم نئی قانون سازی کے بعد شہریوں کو اوورسیز میچوں میں جوئے پر بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یادرہے کہ گزشتہ برس سری لنکا کے فاسٹ باولر دلہارا لوکھوٹیگ کو 2017میں ایک محدود اوورز کی سیریز میں کرپشن پر معطل کردیا گیاتھا۔وہ آئی سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تیسرے سری لنکن کھلاڑی ہیں۔

سابق سری لنکن کپتان سینتھ جے سوریا اور نووان زوئیسا پر بھی کرپشن کے حوالے سے الزامات ثابت ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے جے سوریاکو کرپشن کے خلاف تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر دوسال کی جبکہ زوئیسا کو میچ فکسنگ کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑاہے۔سری لنکن وزیر کھیل کہتے ہیں کہ کھیلوں میں نچلی سطح سے اوپر تک ہر قسم کی کرپشن کا قلع قمع کیاجائے گا۔

مزید : کھیل