مسئلہ کشمیر پر حکومتی رویہ غیر سنجیدہ،عمران  خان  برطانوی وزیراعظم چیمبر کاکرداراداکررہےہیں:راجہ ظفر الحق

مسئلہ کشمیر پر حکومتی رویہ غیر سنجیدہ،عمران  خان  برطانوی وزیراعظم چیمبر ...
مسئلہ کشمیر پر حکومتی رویہ غیر سنجیدہ،عمران  خان  برطانوی وزیراعظم چیمبر کاکرداراداکررہےہیں:راجہ ظفر الحق

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اورپاکستان مسلم لیگ ن کےسینئررہنما راجہ ظفر الحق نےکہاکہ مسئلہ کشمیر پرعمران  خان  برطانوی وزیراعظم چیمبر کاکرداراداکررہےہیں،ہمیں چرچل والا کردار ادا کرنا چاہیے چیمبر والا کردار نہیں،مسئلہ کشمیر پرحکومت کارویہ غیرسنجیدہ ہے، یہ کشمیر کے موقف کے ساتھ زیادتی ہے،حکومت کے اس غیر سنجیدہ رویے پر کشمیری قوم کیا سمجھے گی؟۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو سودن ہوگئے ہیں،جو کام حکومت کو کرنا چاہیے تھا اس نے  موثر انداز میں نہیں کیا،وزیر اعظم کی تقریر سے تاثر دیا گیا کہ اس تقریر سے مسئلہ حل ہوجائے گا،مودی نے کہاکہ جو دریا کشمیر سے پاکستان  آرہے ہیں،ان میں سے ایک قطرہ بھی پاکستان کو استعمال نہیں کرنے دیں گے،مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال  میں اقوام متحدہ  او آئی سی اور عالمی برادری سمیت پاکستان کی بھی ناکامی ہے کہ وہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روک نہیں سکا،یہ مسئلہ  اقوام متحدہ میں سب سے پرانا ہے،اقوام متحدہ نے کشمیر کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چاٹر میں بھی ہے، اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے خلاف ورزی کو روکنے میں کوئی موثر کارروائی نہیں کی. راجہ ظفر الحق نے کہا کہ  شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلریشن  کے بارے میں داخلی سیاست کی وجہ سے غلط فہمیاں پیداکی گئیں کہ اس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو نقصان ہوا،ایسا بالکل نہیں ہے میں نے شملہ معاہدے کی حمایت کی،اس معاہدے کو سامنا لایاجائے تاکہ غلط فہمیوں کو دور کیا جائے.انہوں نے کہا کہ  2جولائی 1972کو اس پر دستخط کئے گئے،شملہ معاہدے کے اندر 4جگہوں میں اقوام متحدہ کا ذکر ہے، اس کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر پر رکھی گئی ہے،اس معاہدے کو یکطرفہ ختم نہیں کیا جائے گاجس طرح آج بھارت نے ختم کردیا ہے،شملہ معاہدے نے اقوام متحدہ کے کردار کو کشمیر میں ختم نہیں کیا ،لاہور ڈیکلیئریشن میں شملہ معاہدہ کی توثیق کی گئی،لکھاگیاہے کہ جموں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے ہیں، اس کاباقاعدہ لاہور ڈیکلریشن میں ذکر ہے ،مودی نے کہاتھا کہ میں اقتدار میں آؤں گا تو کشمیر کا مسئلہ حل کروں گا.

انہوں نے کہا کہ مشرف نے کہاتھا کہ وہ اقوام متحدہ کے قرادروں سے ہٹ کر یہ مسئلہ حل کرے گا، دوطرفہ معاہدے اقوام متحدہ کے فیصلے کو بدل نہیں سکتے ،کشمیر پر اقوام متحدہ کے تمام قرارداد متفقہ طور پر پاس ہوئے ہیں ،اقوام متحدہ میں کشمیر پر 20قراردیں پاس ہوئی ہیں،سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی کہا ہے کہ کشمیر کی مخصوص حیثیت ہے،مودی نے 370دفعہ اور 35اے پر حملہ کیا اور کشمیر کی مخصوص حیثیت ختم کردی،کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے ،بھارت یکطرفہ کشمیر کی حیثیت کو ختم نہیں کرسکتا،پاکستان نے اس طرف توجہ نہیں دی جس پر بھارت نے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنایا جو اقوام متحدہ کے قرادروں اور چارٹر کی خلاف ورزی ہے، بھارت نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی بھارت کو حصہ قرار دیا ہے،پاکستانی قیادت کے امریکہ جانے سے بھی فائدہ نہیں ہوا اور جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا،پاکستانی عوام اور کشمیریوں کو مل کر اب  اس جنگ کو لڑنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی نے بھی تجارت کو زیادہ اہمیت دی ہے اس مسئلے کو ازسرنو دیکھنا ہوگا،کشمیر کے مسئلہ پر سب ایک ہیں،ہمیں چرچل والا کردار ادا کرنا چاہیے، چیمبر والا کردار ادا نہیں کرنا ہوگا ،جس طرح برطانیہ کے وزیراعظم چرچل نے جرمنی کامقابلہ کرکے اس کوشکست دی ہمیں وہ والا کرداراداکرناہوگا مگر ہمارے وزیراعظم برطانوی وزیراعظم چیمبر کاکرداراداکررہے ہیں ،جس طرح وہ جرمنی کی منتیں کرتاتھا اس طرح یہ کررہے ہیں ، اگر ہم پیچھے ہٹے تو بھارت مزید آگے آئے گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد