انتہا پسند ہندوؤں نے ’رام مندر ٹرسٹ‘ کی سربراہی ایسے شخص کو سونپنے کی تجویز دے دی کہ بھارت کی نام نہاد امن پسندی کا بھانڈا ہی پھوٹ گیا

انتہا پسند ہندوؤں نے ’رام مندر ٹرسٹ‘ کی سربراہی ایسے شخص کو سونپنے کی ...
انتہا پسند ہندوؤں نے ’رام مندر ٹرسٹ‘ کی سربراہی ایسے شخص کو سونپنے کی تجویز دے دی کہ بھارت کی نام نہاد امن پسندی کا بھانڈا ہی پھوٹ گیا

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کیس کے متنازعہ فیصلہ کے بعد رام مندر کی تعمیر کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں جبکہ ایک طرف ’’رام مندر ٹرسٹ ‘‘بنائے جانے کا عمل شروع ہو گیا ہے تو دوسری طرف اس ٹرسٹ کی سربراہی کے لئے انتہا پسند ہندوؤں نے ایسے شخص کا نام  تجویز کر دیا ہے کہ جان کرمودی سرکار کا تشدد اور دہشت پسندی کا مکروہ چہرہ دنیا بھر میں ایک بار پھر عیاں ہو جائے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق  ایودھیا کیس کے متنازعہ فیصلے کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جبکہ رام مندر ٹرسٹ اور اس ٹرسٹ کی سربراہی کے لئے مختلف ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ہے ۔انتہا  پسندہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور ٹرسٹ کی سربراہی کے لئےاتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے بہتر کوئی آدمی نہیں ہے اس لئے ٹرسٹ کی سربراہی یوگی آدتیہ ناتھ کے سپرد ہی کی جانی چاہئے۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے یوگی آدتیہ ناتھ پورے ہندوستان بھر میں اپنی انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔انتہا پسند ہندو رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے ’’ہندو یوا واہنی‘‘ نامی ایک مسلح گروہ بھی بنا رکھا ہے اور یہ مسلح جتھہ مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت اور ریاست میں فسادات پھیلانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ۔یوگی آدتیہ ناتھ کا تعلق پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے گڑھوال کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے،یوگی آدتیہ ناتھ کی ساری سیاست تشدد سے پر رہی ہے اور خود ان کے خلاف بھی اقدام قتل ، معاشرے میں فساد برپاکرنے،  دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور  مزار کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت مقدمات بھی درج ہیں۔

مزید : بین الاقوامی