مولانا فضل الرحمان کا ’’پلان بی‘‘کیا ہے اور تصادم کی صورت میں جے یو آئی کیا کرے گی؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

مولانا فضل الرحمان کا ’’پلان بی‘‘کیا ہے اور تصادم کی صورت میں جے یو آئی ...
مولانا فضل الرحمان کا ’’پلان بی‘‘کیا ہے اور تصادم کی صورت میں جے یو آئی کیا کرے گی؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

  



لاہور(خالد شہزاد فاروقی)جمعیت علمائے اسلام ف کا اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کل (بدھ)سے پلان بی پر عملدرآمد کا اعلان بھی کر دیا ہے ،مولانا فضل الرحمان کا ’’پلان بی‘‘ کیا ہے اور جے یو آئی  کی قیادت اور  کارکنان ’’پلان بی ‘‘ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کریں گے؟ڈیلی پاکستان آن لائن نے مجوزہ تفصیلات حاصل کر لیں۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق آزادی مارچ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر پائے گا یا نہیں ؟اس حوالے سے جے یو آئی قیادت ذہنی طور پر تیار ہے اور انہوں نے حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ،اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں جمعیت علمائے اسلام کے چاروں صوبائی امرا نے ’پلان بی‘ پر اپنی تیاری پربریفنگ دی۔ذمہ دارذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے چاروں اُمرا کی’ پلان بی‘ پرکی جانے والی تیاری پر اطمینان کا اظہارکیا اور اجلاس میں پلان بی کو حتمی شکل دیدی گئی۔پلان بی کے مطابق سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اہم شاہراہیں بند کرنیکی منصوبہ بندی کی گئی ہے جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی اہم مقامات پر لاک ڈاؤن کا منصوبہ بھی ’پلان بی‘ میں شامل ہے۔جے یو آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلوں کا اعلان مولانا فضل الرحمان جلسہ گاہ میں کریں گے،اس سلسلے میں اُنہوں نے رہبر کمیٹی کو فوری طور پر جلسہ گاہ بلا لیا ہے، جہاں وہ پلان بی کے حوالے سے اپنے فیصلوں کی رہبر کمیٹی سے بھی منظوری لیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی قیادت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ آزادی مارچ کی طرح ’پلان بی ‘کو بھی ہر صورت پر امن رکھا جائےاور سیکیورٹی اداروں اور پولیس سے کسی قسم کا تصادم نہ ہو تاہم حکومت نے ’پلان بی‘ کو سختی کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی تو پھر جے یو آئی کی طرف سے مزاحمت کی جائے گی ۔

دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ’پلان بی‘ کے ساتھ ’پلان سی اور ڈی‘پر بھی عملدآرمد کر لیں وزیر اعظم کسی صورت مستعفیٰ نہیں ہوں گے اور نہ ہی قبل اَز وقت انتخابات کی یقین دہانی کروائی جائے گی۔وفاقی  دارالحکومت کی سیکیورٹی پر مامور ادارے پوری طرح چوکس ہیں،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا شہریوں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آزادی مارچ یا ’پلان بی‘ سے قطعی خوفزدہ نہیں ہیں ،جے یو آئی ایک ماہ چھوڑ کر ایک سال لوگوں کو  سڑکوں پر بٹھائے رکھے ،اُن کے ماورائے آئین و قانون مطالبات کسی صورت تسلیم نہیں کئے جائیں گے ۔ 

مزید : قومی