ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ اور کورونا کے وار

ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ اور کورونا کے وار
ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ اور کورونا کے وار

  

آج ہی یہ خبر چھپی ہے کہ ملتان کورونا کے پھیلاؤ کی شرح کے لحاظ سے ملک میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے اور آج ہی یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ ملتان میں 30نومبر کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کی اجازت کے لئے ڈپٹی کمشنر ملتان کو درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ انہی خبروں کے ساتھ یہ تشویشناک خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ نشتر ہسپتال میں چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید پانچ افراد کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں اور داخل مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ ملتان کی انتظامیہ نے حکومت پنجاب سے ڈرامہ تھیٹر اور سینما گھر بند کرنے کی اجازت طلب کر لی ہے اور شہر کے مزید علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔یہ خبر بھی موجود ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملتان نے انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع لیبر کمپلیکس کو دوبارہ قرنطینہ سنٹر بنانے کا حکم دیا ہے، جہاں کورونا کے مریضوں کو رکھا جائے گا۔

اِن خبروں کے ساتھ ساتھ یہ خبر بھی نظر آئی کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ حکومت کے خاتمے کی نوید ثابت ہو گا۔مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے بھی ایسے ہی بیانات اخبارات میں موجود ہیں،جن میں ملتان کے جلسے کو حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا عمل قرار دیا گیا ہے۔اب ان تمام خبروں کو ملا کر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ایک طرف کورونا پوری تیاری کر چکا ہے اور دوسری طرف پی ڈی ایم والے عوام کو اُس کے لئے تر نوالہ بنانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں۔اب ڈپٹی کمشنر ملتان بھی اگر گوجرانوالہ کے ڈی سی کی طرح یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،کیونکہ کورونا بُری طرح شہر میں پھیل چکا ہے تو اُن کی کون سنے گا؟سارے حملے حکومت پر ہوں گے کہ وہ جمہوری حق کو سلب کر رہی ہے اور جلسے کی اجازت نہیں دے رہی۔بعض سنگدل تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملتان کے جلسے کو رکوانے اور اس میں عوام کی شرکت کو روکنے کے لئے کورونا کے پھیلاؤ کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،جبکہ ملتان میں تو کورونا  دور دور تک کہیں نظر نہیں آ رہا،حالانکہ اسی شہر میں چند روز پہلے ایک بڑے سیاسی و سماجی خانوادے کی ایک شخصیت (سید حیدر عباس گردیزی) کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئی ہے، جن کی وفات پر انہی سیاست دانوں نے اظہارِ تعزیت بھی کیا…… کیا کسی دوسرے ملک میں ایسی بے احتیاطی ہو رہی ہے کہ جس شہر میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی نوبت آ گئی ہو، وہاں ہزاروں کے اجتماع کی تیاری کی جا رہی ہو؟

اچھی بات ہے کہ حکومت نے کورونا کی وجہ سے پی ٹی آئی کے جلسوں کو منسوخ کر دیا ہے، اب وزیراعظم عمران خان کہیں جلسے نہیں کریں گے۔ یہاں یہ خیال موجود تھا کہ ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کا توڑ کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان اُس سے پہلے ایک جلسہ کریں گے،لیکن اب اس احمقانہ تجویز کو رد کر دیا گیا ہے، جو بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ویسے بھی حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے جلسوں کا جواب اُسے زندہ کرنا ہے،کیونکہ ردعمل میں اپوزیشن کا جلسہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔حکومت کے جلسے نہ کرنے کے اعلان سے اپوزیشن پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ کورونا کے پیش ِ نظر اپنے جلسے منسوخ کر دے،اگر نہیں کرتی تب بھی اُسے کورونا کے بڑھانے میں مدد دینے کے الزام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پی ڈی ایم ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسہ کرنا چاہتی ہے۔یہ وہ جگہ ہے، جس کی ایک اپنی سیاسی تاریخ ہے۔یہاں ہر دور میں بڑے بڑے جلسے ہوئے ہیں،جنہوں نے اپنے زمانے کی تحریکوں کو جلا بخشی ہے۔اس سٹیڈیم کو بھرنے میں جو تحریک بھی کامیاب ہوئی،اُسے کامیابی ملی۔یہ سٹیڈیم شہر کے عین وسط میں تاریخی مقام پر واقع ہے۔اس کے اردگرد گنجان آباد پرانا شہر ہے، زیادہ تر اس قدیمی شہری آبادی سے لوگ سٹیڈیم میں ہونے والے جلسے کو رونق بخشتے ہیں۔ اب خدشہ یہ ہے کہ اگر جلسے میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں اور اس جلسے میں شرکت کے بعد لوگ اندرون شہر واپس آئے اور کورونا وائرس ساتھ لائے توصورتِ حال کیا ہو گی؟کہنے کو جلسے کی انتظامیہ ہر قسم کی یقین دہانی کرائے گی۔ سینی ٹائزر، ماسک اور سٹیڈیم کو سینی ٹائز کرنے کا حلف بھی دے گی،مگر  جس روز جلسہ ہو گا، کوئی شرط بھی پوری نہیں کرے گی اور معاملہ اللہ توکل چھوڑ دیا جائے گا۔

ابھی اس جلسے کے انعقاد میں اٹھارہ دن پڑے ہیں۔کورونا ملتان میں جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، اُس میں کمی تبھی آ سکتی ہے جب احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔انتظامیہ اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہے،مگر عوام اس لئے سنجیدہ نہیں ہو رہے  کہ انہیں سیاسی جلسوں میں ہزاروں افراد کی شرکت کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 20نومبر سے میرج ہال بند کئے جا رہے ہیں،لیکن30 نومبر کو ملتان میں ہزاروں افراد کا جلسہ منعقد ہونے والا ہے،جس میں شرکت کے لئے لوگ ریلیوں اور جلوسوں کی شکل میں آئیں گے۔اب ایسے تضاد کی موجودگی میں عوام کورونا کے بارے میں کیسے سنجیدہ ہو سکتے ہیں؟وہ تو یہی سمجھیں گے کہ یہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے رچایا جانے والا ڈرامہ ہے۔ اپوزیشن نے بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ چاہے کورونا تو کیا کوئی دوسری بڑی آفت بھی ٹوٹ پڑے،اُس نے اپنے جلسوں کا شیڈول تبدیل نہیں کرنا۔ یہ میرے نزدیک ایک غیر دانشمندانہ عمل ہے۔ انسانی جانوں کو ہر چیز پر فوقیت دینی چاہئے۔ کورونا ایک حقیقت ہے اور اُس کی دوسری لہر بھی واضح نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں صرف سیاسی فائدے کے لئے لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈالنا ایک ایسا فیصلہ ہے، جس پر ٹھنڈے دِل سے سوچ بچار ہونی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -