آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا 

آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا 
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا 

  

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو آپ کا احساس کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو آپ کا احساس نہیں کرتے۔ اول الذکر سے آپ کی دوستی ہو جاتی ہے اور موخرالذکر کو آپ فراموش کر دیتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تمام انسانوں اور جانوروں کا احساس کیا اور پتھر کھانے کے باوجود کافروں کے لیے بددعا نہ کی۔ عیسی علیہ السلام کو مسیحا اس لیے کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے لوگوں کی تکالیف کو دور کیا۔ بقول خواجہ میر درد :

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

دنیا میں جہاں ایک دوسرے کے لئے درد دل رکھنے والوں کی مثالیں ملتی ہیں وہاں ایسے لوگ بھی تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے لوگوں کو قبر میں بھی سکون نہیں لینے دیا۔ ایڈولف ہٹلر، ہلاکو خان اور چنگیز خان جیسے ظالم آج بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں۔

 دنیا میں لیڈر بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنا احساس کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنی رعایا کا احساس کرتے ہیں۔ جارج واشنگٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ انہی دو طرح کے لیڈرز کی مثالیں ہیں۔ چھٹی صدی عیسوی کے ساسانی بادشاہ نوشیرواں کو لوگ اس لیے اچھے الفاظ میں یاد رکھے ہوئے ہیں کہ اس نے اپنی رعایا کا احساس کرتے ہوئے نہ صرف ان میں عدل و انصاف قائم کیا بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ انقلاب فرانس کے آرکیٹیکٹ میکسی ملین رابز پیر کو فرانسیسیوں نے اس لیے قتل کردیا کہ وہ اقتدار کے نشے میں اپنے لوگوں کا احساس کرنا بھول گیا تھا۔

پاکستان بھی اسی دنیا میں ہے اور یہاں بھی رہنماؤں کی یہی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ انیس سو سینتالیس سے ہم ایسا لیڈر تلاش کر رہے ہیں جو ہمیں باعزت شہری بنائے اور دنیا میں ہمارا مقام بہتر کرے۔ بقول غالب:

چلتا ہوں تھوڑی دیر ہر اک تیز رَو کے ساتھ

پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

اسی چکر میں ہم نے نظام تک بدل کے دیکھ لیے۔ قائد اعظم کے بعد گویا ایسا قحط الرجال پیدا ہوا کہ مایوسی روح میں سرایت کر گئی۔ ہمارا ساقی مٹی نم ہونے کے انتظار میں بوڑھا ہو چکا اور اپنی لڑکھڑاتی زبان سے پچھلے کئی سال سے بارش کی دعا مانگ رہا ہے۔ نا امیدی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم عالمی قوت بننے جارہے ہیں۔ بلکہ گزشتہ کئی برس سے اخبارات میں رہنماؤں کے کچھ اس طرح کے بیانات پڑھنے کو ملتے ہیں۔

"پاکستان جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا"

"ہماری سمت درست ہو چکی ہے اور معیشت نے ٹیک آف کر لیا ہے"

"یہ قرضہ ہم آخری بار لے رہے ہیں"

سابق حکمرانوں کی بدعنوانی کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ رہی سہی کسر کورونا نے نکال دی ہے۔

کچھ تو دے اے فلک نا انصاف!

آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

اس صورتحال میں عمران خان کے لیے یہ کڑا امتحان ہے کہ کس طرح سے  لوگوں کو ان سے روٹھی ہوئی امید واپس دلائی جائے اور ان کی زندگی میں کیسے آسانی پیدا کی جائے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یکم اپریل کو شروع کیے جانے والے احساس ایمرجنسی پروگرام کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ خاندانوں میں 180 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں جس سے زندگی کا پہیہ رواں رہا۔ یہ ایک عالمی معیار کا پروگرام ہے جس کے تحت بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ وزیراعظم کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اپوزیشن کی حکومت کے لیے گریہ زاری کی طرف متوجہ ہو کر کہیں ان کا عوام کے لیے احساس ماند نہ پڑ جائے۔ حکومت کو ان بے معنی جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

Cattle don't die by crow's cursing!

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -