کیا تاریخ خود کو دہراپائے گی؟۔

کیا تاریخ خود کو دہراپائے گی؟۔
 کیا تاریخ خود کو دہراپائے گی؟۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مجھے اچھی طرح یاد ہے 92ء کا کرکٹ ورلڈ کپ جو پچاس اوورز پر مشتمل تھا کے فائنل میں پہنچنے کے لئے لوگوں نے اس وقت بھی دعائیں کیں اور قوم کی دعائیں رنگ لائیں اور قومی کرکٹ ٹیم نے ناصرف  ملک و قوم کی دعاؤں اورع رمضان المبارک کی ستائیویں شب کی برکت سے عالمی کپ جیتا بلکہ ناقدین کرکٹ کے تمام تجزیئے،تبصرے بیکار کر دیئے۔جس کے باعث ناقدین،حاسدین نے اس ٹیم کے بارے میں میچ سے قبل کسی بھی قسم کی پیشن گوئی کرنے سے برملا اختلاف کیا۔آج جب کرکٹ فاسٹ ہو چکی ہے اور یہ کھیل کسی بھی وقت کسی بھی ٹیم کی گرفت میں جا سکتا ہے ایسے وقت میں بھی ہر کوئی قومی کرکٹ ٹیم کے بارے میں بات کرنے سے قبل ہزار بار سوچتا ہے۔ میں خود اپنے سابقہ کالموں میں قومی کرکٹ ٹیم پر تنقید کر چکاہے لیکن میری تنقید کسی کی ذات سے نہیں ان کے کھیل سے جڑی ہوتی تھی یا قومی کرکٹ ٹیم کی بھلائی میں ہوتی تھی۔

موجودہ ٹی ٹونٹی عالمی کپ جو ان دنوں آسٹریلیا میں جاری ہے اور فائنل کی دونوں ٹیمیں اتوار کو تاریخی میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں مقابلہ کرنے جا رہی ہیں ایسے میں ایک مرتبہ پھر دعا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم1992 ء کی طرح عالمی کپ کی ٹرافی اپنے ہاتھ اٹھائے جس طرح عمران خان جو اس وقت کے کپتان تھے نے اٹھائی تھی اور انگلینڈ کو شکست دے کردنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔اس مرتبہ فائنل ٹی ٹونٹی کا ہے جس میں متبادل ٹیم بھی وہی ہے جو 1992ء میں قومی ٹیم کے مدمقابل تھی یعنی کے انگلینڈ جس نے ثابت کیا کہ وہ اس ٹرافی کے فائنل میں کھیلنے کی حقدار تھی۔قومی کرکٹ ٹیم ملک و قوم کے ساتھ عالم اسلام کی دعاؤں کی بدولت فائنل میں پہنچ چکی ہے اور گذشتہ روز فائنل کھیلنے کے لئے ٹیم نے میلبرن میں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔اس کے ساتھ انگلینڈ کی ٹیم بھی آج روانہ ہو جائے گی جہاں اتوار کے روز دونوں ٹیموں کے مابین فائنل کھیلا جائے گا۔ایسے میں ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ آخر کیا تاریخ خود کو دہرا پائے گی؟۔کیونکہ 92ء کا چیمپئن پاکستان تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرافی کا حقدار کون ہو گا؟۔


دوسری جانب اگر ہم بات کریں پہلے اور دوسے سیمی فائنل کی تو قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں جاندار اور شاندار پرفارمنس دی ہے ناقدین کا کیال ہے کہ فائنل میں مقابلہ بہت تگڑا ہونے جا رہا ہے تاہم میچ کو دلچسپ بنانے اور شائقین کو دیکھنے کے لئے بارش نا ہونے کی دعاؤ ں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ 13,14یعنی فائنل اور ریزرو ڈے پر 95فیصد بارش کی بھی پیشن گوئی کی گئی ہے۔جس سے میچ کا مزہ کرکرااور ٹورنامنٹ کا فائنل میچ دونوں ٹیموں کو برابر کا فاتح قرار دیئے جانے کی بھی امید ہے۔قومی کرکٹ ٹیم آج سے پریکٹس کا آغاز کرے گی جبکہ انگلینڈ کی ٹیم بھی آرام کے بجائے پریکٹس سیشن میں حصہ لے گی۔ایک اور اہم بات قومی ٹیم ان دنوں پرفارمنس کے ساتھ دعاؤں کے سہارے بھی چل رہی ہے اور یہ اللہ کا شکر ہے کہ ایک اہم میچ میں بابر اور رضوان کی روٹھی ہوئی فارم واپس آگئی ہے جس کا فائدہ یقینا فائنل کے روز ہو گا۔اس کے ساتھ انہیں ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ انہیں چاہئے کہ فائنل میں اپنا ٹارگٹ پہلے چھ اوورز میں اچھا رکھیں اور جارحانہ کرکٹ کھیلیں کیونکہ جس طرح انگلینڈ نے بھارتی گیند بازوں کی درگت بنائی ہے اگر قومی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے اچھا ٹارگٹ یا 200کے قریب نہیں دیتی تو پھر سارا دارومدار باؤلنگ پر آجائیگا اور اگر انگلینڈ پہلے کھیلا تو کو شش کر کے کسی بھی طرح انگلینڈ کو 160تک قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ قومی ٹیم ہمیں مایوس نہیں کرے گی۔


 اور ملک و قوم کی دعاؤں اور اپنی پرفارمنس کے باعث یہ ٹرافی گھر لے کر آئے گی۔ایک بات یہاں پر کرتا چلوں کہ جو دوسروں کے لئے گڑھا کھودتا ہے خود اسی میں گرتا ہے یہ مثال سن رکھی تھی لیکن انڈین ٹیم کی ہار کے بعد پوری ہوتے بھی دیکھ لی۔بھارتی سورماؤں نے فائنل میں رسائی کے لئے کیسے کیسے جتن اختیار کئے کبھی قومی ٹیم کیخلاف نو بال اور ڈیڈ بال پر رنز اس کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف ہارا ہوا میچ بارش میں جلد شروع کروانے کے لئے اثر و رسوخ  استعمال کیالیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ فائنل میں ٹکٹ کٹوانے والی ٹیم ممبئی کا ٹکٹ بھی اس وقت کی فلائیٹ سے کٹوائے گی جب بھارتی جنتا خواب غفلت کے مزے لوٹ رہی ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -