شب و روز تما شا مرے آگے

        شب و روز تما شا مرے آگے
        شب و روز تما شا مرے آگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  بارش ہوتے ہی سموگ چھَٹ جانے کے امکان پر اپنی خوش قسمتیوں کا حساب لگانے بیٹھا تو ذہن میں کئی واقعات اُبھرنے لگے جو ہو نے کی بجائے عین وقت پر ہوتے ہوتے رہ گئے تھے۔ جیسے لڑکپن میں ایک ایسے تعلیمی جنکشن سے اچانک گھر واپسی جہاں سے فوجی تربیت گاہوں کو روانہ ہونے والی ٹرین چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر نہیں ٹھہرتی۔ بیس سال بعد ایک وفاقی یونیورسٹی سے مختصر وابستگی اور پھر گلو کارہ ریشماں والی ’لمبی جدائی‘ جس نے اِس بحث سے نجات دلا دی کہ محکمانہ ترقی کے لیے میرے نصابی ابواب کو ریسرچ پیپر شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ بحث کا نتیجہ خدا جانے کیا نکلتا۔ پر اِس اتار چڑھاؤ میں جہاں اَور بہت کچھ ہوا ’بور‘، ’بوریت‘ اور ’بورنگ‘ کے فی زمانہ فیشن ایبل الفاظ سے شناسائی نہ ہو سکی، نہ اِن سے وابستہ رویے کبھی سمجھ میں آئے۔ 

یہ دستاویزی ثبوت فراہم کرنا تو آسان نہیں کہ زبان سیکھنے کے ابتدائی مرحلے پر ہم نے کبھی یہ کلمات سُنے ہی نہ تھے۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بچپن میں درسگاہوں کا ماحول، تدریسی عملے کا رویہ اور کتابوں کے اسباق اتنے ’یوزر فرینڈلی‘ تھے کہ کبھی اکتاہٹ کا احساس نہ ہوا۔ ایسی بات نہیں بلکہ دسویں جماعت تک علمی و اخلاقی نشوونما کی خاطر ہمارے ٹیچر طالب علم کی انگلیوں، اُلٹے ہاتھوں اور قرب و جوار کے مقامات پر ستمبر  65ء کے نیوز ریڈر شکیل احمد کی زبان میں ٹھیک ٹھیک نشانے لگاتے۔ اب یہ جری عوام کا حوصلہ تھا کہ ہم نے اِسی نشانہ بازی میں ’انفوٹینمنٹ‘ کے پہلو تلاش کر لیے۔ اچھی اردو والے ایک استاد اپنی اور ہماری تفریح کے لیے پٹائی کرتے ہوئے تھپڑ کی اقسام بھی گنواتے جاتے۔ بطور نمونہ بجّی، تُکّی اور جھانپڑ یا پھر ڈنڈے کی قِسمیں یعنی کمچی، چھڑی اور بید۔ 

اب کوئی پسند کرے یا نہیں، نفسیاتی لسانیات میں بیشتر کام ماضی کے سوویت یونین میں ہوا تھا۔ پھر بھی یہ تو ساری دنیا مانتی ہے کہ ایک عام انسان کے لیے ماں بولی سے فطری رشتہ استوار کرنا کوئی اور زبان سیکھنے سے مختلف، زیادہ گہرا اور دیرپا تجربہ ہوا کرتا ہے۔ اکثر لوگ مادری زبان اپنے گرد پیش کی مدد سے اور شعوری کوشش کے بغیر ہی سیکھتے ہیں۔ جیسے آج کے پاکستانی معاشرے میں کسی نے مسکرا کر ایک ننھے بچے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’لائٹ‘۔ پھر ایک آدھ مرتبہ نہیں بلکہ کبھی تسلسل کے ساتھ اور کبھی وقفے وقفے سے اِسی سمت میں کئی بار اشارہ کیا اور یہی آواز نکالی۔یہاں تک کہ ننھے میاں نے اپنے طور پر یہ نیا لفظ اپنا لیا اور اِس سے جُڑے ہوئے تصور سے آشنا گئے۔

یوں اپنائیت کے ماحول میں اِنہی دریچوں سے ہم پر رنگوں، شکلوں اور انسانی رشتوں کا منظر نامہ کھُلتا ہے۔ جدید اسکالرز کی طرح مجھے بھی دوسروں کی ریسرچ کو دائیں بائیں کرکے اُس میں اپنا ’لُچ تلنے‘ کی عادت ہے۔ لہٰذا یہ انکشاف کر دوں کہ وطن سے میری طویل غیر حاضری کے دوران میرے بھانجے عمار نے اپنے بڑے ماموں کی پہچان ’تھرڈ پرسن سنگلر‘ کے صیغہ میں حاصل کی تھی۔ کوئی کہتا ’ماموں‘ اور بچہ جھٹ ریڈیو کی طرف اشارہ کرتا جو یہ پیغام دیتا تھا کہ ”اردو نشریات سننے والوں کی خدمت میں شاہد ملک کا آداب“۔ پھر ہر روز یہی کھیل کھیلا جانے لگا۔ البتہ جب عمار کے ’بابا‘ کی کرنیلی پر مَیں نے گھوڑے کی تصویر والا تہنیتی کارڈ ارسال کیا تو بھانجے نے کہا ”امی۔۔۔ ماموں“ اور انگلی ریڈیو کی جگہ گھوڑے پہ رکھ دی۔ یہ بیان میری بہن کا ہے جنہیں آپ عورتوں کی شاہد ملک کہہ لیں۔

خود ہمارے اپنے گھر میں دونوں بچوں کی ’اصلاحِ معاشرہ‘ میں اصل رول تو اُسی صنف کا ہے جس نے دنیا میں تہذیبی قدریں رائج کرنے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔البتہ ولایت ہی میں ایک دوست کے بر وقت مشورے نے میرے دل میں تین برس کے بیٹے اور ایک سالہ بیٹی کے ساتھ گپ لڑانے کا چسکا ڈال دیا۔ لفظیات پر نظر رکھنے کی وجہ سے حیرانی تو پہلے سے تھی کہ لڑکا کسی چیز، جگہ یا شخص کا نام کیوں نہیں لیتا، بس ہفتوں تک یا ’لا الہ‘ کا ورد یا بار بار ایک ہی سوال ”یہ کیا ہے؟‘‘ پھر ’پلے گروپ‘ کے بچوں کی دیکھا دیکھی دونوں بہن بھائی آپس میں بھی گِٹ پِٹ کرنے لگے، لیکن ہمارے ساتھ بات چیت اردو میں ہوتی رہی۔اِس میں بھی ’ہمارا‘ کی جگہ ’ہم کا‘ کے سوا انگریزی کا کوئی شائبہ دکھائی نہ دیا۔ جس جملے نے ایک روز چونکا کے رکھ دیا وہ تھا ”اماں، پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔“ 

 بچے نے جس کیفیت کا نام لیا اُس کا کوئی خارجی اشارہ تو تھا نہیں، نہ کسی بڑے نے کوئی باطنی زائچہ بنا کر نشان دہی کی کہ دیکھو بیٹا،اِس وقت تمہارے اندر جو ورلڈ کپ کھیلا جا رہا ہے اسے پیٹ درد کہتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ کوئی چوٹ لگ جاتی یا زخم سے خون بہنے لگتا تو بات آسان تھی کہ اِس تجربے کے فزیکل انڈیکیٹر موجود ہیں۔ بچے کے ذہن میں درد کا ذائقہ اِس ایک لفظ سے یکجا ہو کر تجربہ کی منضبط اکائی کیسے بن گیا؟ اُس دن مجھے یونیورسٹی کالج آف نارتھ ویلز میں اپنے کورس ٹیوٹر پروفیسر کیون اوئین بہت یاد آئے جو تدریسی لسانیات پڑھاتے پڑھاتے تھک ہار کر انسانی دماغ کی پری پروگرامنگ کی بات چھیڑ دیا کرتے تھے۔ 

معاملہ صرف پیٹ درد کا نہیں بلکہ ’زخمِ وفا، زمیں کے مسائل، رُتوں کے دُکھ‘۔۔۔ یہ بے انت کیفیتیں کیا خبر، اسی پری پروگرامنگ، مخصوص جبلت یا قدرت کے ٹیسٹ میچ کا حصہ ہوں آپ پوچھیں گے کہ یار،یہ بور ہو نے یا کرنے کی جبلت آخر کہاں سے آگئی۔ پھر رات دن بوریت کا شکوہ کرنے والوں میں زندگی کی بازی سے فارغ بڈھے کم ہیں اور زیادہ تعداد خوشحال والدین کے اُن ’ینگ اینڈ اپ ورڈلی موبائل‘ بچوں کی ہے جن کا بہلاوہ ایکس باکس اور پلے سٹیشن کے نت نئے ایڈیشن ہیں۔ کہِیں ایسا تو نہیں کہ لیٹ نکالنے کے لیے بچوں کو ضرورت سے زیادہ کھلانا پلانا، بے تحاشہ کپڑے لے دینا اور مشینی کھلونوں کو ’حاصل ِ غزل‘ سمجھ لینا ایسے وائرس کو جنم دے رہا ہے جو کسی نہ کسی دن ہماری سسٹم فائلیں ہی بند کر دے گا۔ 

اِن دنوں بیک ورڈ اردو میڈیم باتوں کی وجہ سے نئی پود میں میری مقبولت کا گراف تیزی سے گِر رہا ہے۔ ورنہ یہ سفارش کرتا کہ زندگی کو دلچسپ بنانے کے لیے ہر سہ پہر ہاکی اسٹک، کرکٹ بیٹ یا ٹینس ریکٹ پکڑ کر نکل جایا کریں۔ خواہ اِس غرض سے گلی محلے میں گراؤنڈ بنانی پڑے، سڑک پہ چارپائیاں کھڑی کرنی پڑیں یا چھت پہ چڑھ کر گیند روکنے کے لیے پرنالوں کے منہ اینٹوں سے بند کرنے پڑیں۔کھیل کھیل میں کائنات کی سب سے دلچسپ مخلوق ہماری سوچ کا محور بن جاتی ہے۔ چہار سُو پھیلے انسان، اُن کی ظاہری سرگرمیاں، اندرونی چالاکیاں، محبتیں اور رنجشیں۔ یوں، آپ ایک دفعہ انسانی اقلیم کے شہری بن جائیں تو پھر ڈاکٹر کی انتظار گاہ، بجلی کے بِل کی قطار، ریلوے پلیٹ فارم اور ویگن لیٹ ہو جانے کا منظر کچھ نہیں کہے گا۔ بس غالب کی طرح کھیل کے ٹوٹے چلیں گے کیونکہ:

 بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے

 ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مزید :

رائے -کالم -