لاڈلا کون؟

     لاڈلا کون؟
     لاڈلا کون؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  عمران خان کا حامی میڈیانوازشریف کو اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا کہہ رہا ہے۔اس وقت پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور میڈیا تسلسل کے ساتھ نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا ہونے کا تاثرپھیلا رہے ہیں، اس کا نون لیگ کے حامی حلقوں پر کچھ اثر ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو، انٹی نواز حلقوں کی دل پشوری ضرور ہو  رہی ہے، انہیں اپنے زخموں پر پھاہے ضرور پڑے ہوئے محسوس ہوتے ہوں گے۔ میڈیا اس ہما ہمی میں  یہ بات بھی بھول چکا ہے کہ عوام کا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ نہیں مہنگائی ہے کیونکہ جب تک اسے شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار دکھائی دے رہے تھے، وہ مہنگائی کا راگ الاپ رہے تھے مگر جونہی نون لیگ نے نواز شریف کی واپسی پر انہیں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تو یکا یک میڈیا کی سوئیاں مہنگائی سے پلٹ کر اسٹیبلشمنٹ کے نقطے پر جا ٹھہری ہیں۔ گویا کہ جس بھی پراپیگنڈے سے نواز شریف کا راستہ روکا جا سکتا ہے، روکنے کی کوشش ہو رہی ہے جو ایک آزاد میڈیا کو زیب نہیں دیتا۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں ہے کہ نواز شریف کی واپسی پر کسی ایک بھی میڈیا ہاؤس نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی فوٹیج چلانا مناسب نہ جانا جو براہ راست نون لیگ کو للکار رہے تھے اور 2018ء کے انتخابات میں ان کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ 

 اس سے پہلے کہ دیکھا جائے کہ نواز شریف لاڈلے ہیں یا نہیں،کیوں نہ یہ دیکھ لیا جائے کہ عمران خان کس طرح سے لاڈلے بنے تھے۔ کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والا میثاق جمہوریت اس کا سبب بنا تھا یا جنرل مشرف کی باقیات کے ایڈونچر نے عمران خان کو لاڈلا بنا دیاتھا۔ 

2002ء میں عمران خان نے جنرل مشرف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کی پیشکش ٹھکرادی تھی کیونکہ پی ٹی آئی جتنی نشستیں مانگ رہی تھی، وہ دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ چنانچہ عمران خان کی جگہ قاف لیگ کے چودھری پرویز الٰہی کو فیورٹ قرار دے دیا گیا اور انہیں نئے لیڈر کے طور پر تراشنا شروع کیا گیا مگر ان کی شخصیت میں وہ کرشمہ تھا ہی نہیں جوکسی بھی لیڈر کا خاصہ ہوتا ہے۔،اس کے بعد جنرل مشرف نے خود یہ نشست سنبھالنے کا فیصلہ کیا اور ایک لیڈر کی طرح واپسی اختیار کرنے کے لئے دبئی جا بیٹھے۔ کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو ان کی مایوسی کی انتہا نہ رہی کہ فیس بک پر 25 لاکھ کی فالوئنگ 25 ہزار کی شکل میں بھی ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے لئے نہ پہنچی جس پر ایم کیو ایم کو یہ سزا دی گئی کہ اس پارٹی سے اس کا لیڈر چھین لیا گیا۔

 متبادل کی تلاش کے اس سارے عرصے میں نواز شریف مقبولیت کے بلاشرکت غیرے مالک ٹھہرے کیونکہ زرداری کی ناک کے نیچے میمو گیٹ سکینڈل وقوع پذیر ہوا تو وہ زیر عتاب آگئے۔ ایسے میں مشرف کی باقیات نے دوبارہ سے عمران خان کو تراشنا شروع کیا اور 30 اکتوبر2011ء کو مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کروادیا۔ اس وقت آصف زرداری ایوان صدر میں براجمان تھے اور پنجاب میں نواز شریف کا توڑ کرنے کے لئے کئی ایک حربے اپنا رہے تھے جن میں سے ایک عمران خان کی سرپرستی بھی تھا۔نو ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ زرداری سمجھتے تھے کہ عمران نون لیگ کا ووٹ کاٹیں گے لیکن جب انتخابات ہوئے تو وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صفایا کر گئے۔ اس بھرپور جلسے کے باوجود پی ٹی آئی 2013ء کے انتخابات میں 32 سے زیادہ نشستیں نہ لے سکی۔ 

جن لوگوں نے آئی جے آئی اور پی ٹی آئی کو اپنی آنکھوں کے سامنے بنتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا کام کسی سیاسی جماعت کو صرف سیاسی میدان میں جگہ لیکر کھڑا کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد متعلقہ سیاسی جماعت کو اپنے بل پر اپنا وجود منوانا ہوتاہے۔ نواز شریف نے صدر غلام اسحق کی جانب سے آٹھویں ترمیم کے ذریعے اپنی حکومت کے خاتمے پر انہیں للکار کر اپنی جگہ بنائی تھی، عمران خان نے امریکہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا ہے۔ تب صدر اسحق کو بھی نواز شریف کے ساتھ اقتدار سے جانا پڑا تھا، اس بار عمران خان اپنے ساتھ جنرل فیض کو بھی لے ڈوبے ہیں۔اب بھی جو لوگ نوازشریف کو عمران خان کی طرح لاڈلاکہہ رہے ہیں، وہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدارمیں آنے کے لئے سپورٹ نہیں کر رہی ہے۔ 

جب عمران خان کو لاڈلا بنایا گیا تھا تو جس طرح میڈیا کو ہینڈل کیا گیا تھا وہ سب کے سامنے تھا۔ آج سوائے کاشف عباسی کے کوئی سکرین سے آف نہیں ہوا ہے لیکن اس کی بھی کوئی وجہ  سامنے نہیں آئی ہے۔ ہو سکتا ہے جیسے بول ٹی وی کے سمیع ابراہیم خود ہی روپوش ہو کر اپنے اغوا کا ڈرامہ رچاتے ہیں اور پھر خود ہی منظر پر آجاتے ہیں، ویسے ہی کاشف عباسی بھی خود ہی یا ان کی انتظامیہ نے انہیں سکرین سے ہٹادیا ہو، وگرنہ مہر بخاری کیوں ابھی تک سکرین پربراجمان ہیں اور نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آ رہی ہیں۔

معاملہ کچھ بھی ہو یہ بات طے ہے کہ نواز شریف میڈیا کو اور میڈیا نواز شریف کو لفٹ کروانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ لندن سے پاکستان روانگی سے قبل نواز شریف نے دو لفظوں میں بات کہہ دی تھی کہ وہ اپنے حق اور مخالفت میں لکھنے والوں کے شکر گزار ہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اپنی پوری کوشش کے باوجود میڈیا عمران خان کو فوری انتخابات دلوا سکا نہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنوا سکا۔ حتیٰ کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی اپنے ہمخیال ججوں کے ہمراہ یہ کارنامے سرانجام نہ دے سکے۔ گویا کہ میڈیا اور عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سپورٹنگ ایکٹر کا کیریکٹر تو پرفارم کر سکتے ہیں، خود سے کچھ تخلیق کر سکتے ہیں نہ تحلیل کر سکتے ہیں کیونکہ میڈیا رائے عامہ اور عدالتیں آئین اور قانون کی پابند ہوتی ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -