ابلیسی قوانین، مخیر حضرات اور مفلس جمہوریت

    ابلیسی قوانین، مخیر حضرات اور مفلس جمہوریت
    ابلیسی قوانین، مخیر حضرات اور مفلس جمہوریت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  ملکی قوانین کیسے مغربی فکر میں لتھڑ کر ہماری گردنوں کا طوق بنتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔ سب جانتے کہ ہزاروں ان غیر ملکی این جی او زکو مغربی ملکوں سے کروڑوں ڈالر ملتے ہیں جن کے متعین اہداف ہیں۔ سر فہرست دو ہیں: اقلیتوں سے ناروا سلوک کی خوب اشاعت اور عورتوں کو گھر باہر کرنے کے عالمگیر منصوبے پر عمل۔ تعلیم، صحت، خارجہ تعلقات، روزگار اور فنون لطیفہ کے پردے میں بے حیائی کے فروغ جیسے دیگر اہداف کے لیے انہیں کروڑوں ڈالر ملتے ہیں۔ یہ عمل چار نکات میں سمویا جا سکتا ہے: متعین اہداف, ڈالر کا بہاؤ, جدل و مناظرہ اور کامیابی کی رپورٹ۔

اب قانون سازی کے عمل پر ایک نظر۔ مثلاً سینٹ اجلاس تبھی چل سکتا ہے جب کورم پورا ہو، یعنی  100 ارکان کی چوتھائی 25 کی تعداد حاضر ہو۔ بل پر رائے شماری ہو تو 13 ووٹوں سے بل قانون بن جاتا ہے۔ لیکن حقیقی عمل کچھ اور کہہ رہا ہے۔ یہاں ہمیں اپنے معزز ارکان پارلیمان کی ذہنی و علمی اہلیت متصور رکھنا ہو گی۔ ان کی غالب تعداد پراپرٹی ڈیلروں، نیم خواندہ جاگیرداروں، ان پڑھ سیاست دانوں اور موقع شناس صنعت کاروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ لوگ تاریخ، قانونی پیچیدگیوں، اقتصادی نزاکتوں، مذہبی مباحث اور پارلیمانی امور سے اتنا ہی دور ہوتے ہیں جتنا سانپ نیولے سے۔ چنانچہ غیر ملکی سرمائے سے لدی پھندی یہ این جی اوز بعض منتخب ارکان کو مفت میں معاون فراہم کرتی ہیں۔ یہ معاون بالعموم قانون، سیاسیات یا بین الاقوامی تعلقات پر ایم فل پی ایچ ڈی کر رہا ہوتا ہے۔ قانون سازی کے روز مرہ امور میں وہ ارکان پارلیمان کی مدد کرتا ہے۔ وہ پارلیمان میں رہ کر تھیسز یا تحقیقی کام کے پردے میں اپنی این جی او کو خوب اطلاعات فراہم کرتا ہے۔اسے پارلیمانی جاسوسی کہا جا سکتا ہے۔ ترجیحاً یہ معاون خاتون ہوتی ہے۔

قانون سازی کے عمل میں اسپیکر یا چیئرمین کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ چنانچہ ملکی غیر ملکی سرمائے کی جھیل سے نکلی دوسری نہر کا رخ ان دو عہدوں کی طرف رہتا ہے۔ اب آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ حالیہ قومی اسمبلی کے آخری دن میں اسپیکر 36 نئی یونیورسٹیوں کے بل بغیر اسٹینڈنگ کمیٹی سے گزارے، بغیر پڑھے کیوں فورا منظور کرانا چاہتے تھے، آخر انہیں عجلت کیا تھی۔ سرمائے کی جھیل سے نکلی ایک اور نہر کا رخ ارکان پارلیمان کی طرف رہتا ہے۔ لیکن مت سمجھئے کہ انہیں نقدی دی جاتی ہے۔ این جی اوز کا تانا بانا ایسا ہے کہ ایک تنظیم تحقیق کر کے دوسری معاون تنظیم کو ہدف کی نشاندہی کر دیتی ہے۔ وہ دوسری تنظیم رکن پارلیمان کے میلان کے مطابق اس سے کسی غیر ملکی کانفرنس میں شرکت کی "درخواست" کرتی ہے۔ وہاں اسے سابق چیف جسٹس کے اہل خانہ جیسی خریداری کرائی جاتی ہے۔ کسی دوسرے رکن پارلیمان سے وہ "گزارش" کرتی ہے کہ حضور! امریکہ کے صحافی پاکستان میں صحافیوں، عورتوں یا اقلیتوں کے حالات جاننا چاہتے ہیں۔ آپ چل کر ہماری "سرپرستی"  فرمائیے. قارئین مزید خود متصور کر لیں۔

جب کوئی بل ایوان میں آتا ہے تو اس پر پہلی صوابدیدی تلوار اسپیکر یا چیئرمین چلاتا ہے۔ وہ چاہے تو الٹ دے پردہ دنیائے فانی کو/وہ چاہے تو مٹا دے جوش بحر زندگی کو. بل یہاں سے نکل یا پھسل جائے، یا اس کی منظوری ممکن یا آسان نہ لگتی ہو، تب بھی وہ چاہے تو بدل دے رنگ بزم آسمانی کو۔ اسے 25 کے کورم سے دو ایک  مخالف ارکان زیادہ نظر آئیں تو وہ کسی ہم خیال کو اشارہ کرتا ہے۔ وہ ہم خیال ان مخالف لیکن عام زندگی میں دوست ساتھی ارکان کو بہلا پھسلا کر باہر لے جاتا ہے، مثلاً: "لاؤ یار بیٹے کی درخواست، آج وزیراعظم چیمبر میں موجود ہیں چلو چلتے ہیں، شاید تمہارا کام ہو جائے". کام ہو نہ ہو، واپسی پر بل ان بقیہ ارکان کے ووٹوں سے منظور ہو چکا ہوتا ہے جنہیں ان کے "محقق معاون" گزشتہ رات خوب بریفنگ دے چکے ہوتے ہیں. یوں بل صرف آٹھ دس ووٹوں سے بھی منظور ہو تو کورم ٹوٹنے کی کوئی نشاندہی نہیں کرتا۔ اب آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ ٹرانس جینڈر والا ابلیسی قانون کیسے منظور ہوا ہوگا۔

اس سکے کا دوسرا رخ ملاحظہ ہو۔ مخیر حضرات کی غالب اکثریت کا صرف اسی پر ایمان ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ، غربت مٹاؤ، وغیرہ۔ تعلیمات اسلامی کے مطابق بھوکے کو کھانا کھلانا بلاشبہ افضل اعمال میں سے ہے۔ لیکن یہ پاکیزہ عمل عام حالات کے لیے ہے۔ گھر میں آگ لگی ہو تو تمام وسائل پہلے آگ بجھانے پر صرف کیے جاتے ہیں۔ بیوی بستر مرگ پر ہو تو مالی وسائل اس کے علاج کا رخ کرتے ہیں۔ وسائل کافی ہوں تو بھوکے کو کھانا بے شک کھلا دیا جائے لیکن اولیت پھر بھی بیوی کے علاج کو دی جاتی ہے۔ آج غیر ملکی سرمائے نے بذریعہ این جی او مذکورہ بالا ہتھکنڈوں سے ہر اسمبلی، ہر ایوان، ہر عدالت اور ہر کلیدی ادارے کو ہدف بنا کر ملک بھر میں آگ لگا رکھی ہے۔ ایک مثال کافی ہوگی۔ این جی او زنے 25 سال سے یو این، امریکہ اور یورپی یونین میں یہ آگ لگا رکھی ہے کہ پاکستان میں ہر سال اتنی سو، اتنی ہزار ہندو لڑکیوں کو جبرا مسلمان بنا کر ان کی شادی مسلمانوں سے کرائی جاتی ہے۔ این جی اوز کی انہی رپورٹوں پر مغربی ممالک و ادارے پاکستان پر پابندیاں لگاتے ہیں۔ ان رپورٹوں کے نتیجے میں ملک بے پناہ مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے اپنے نہایت محدود وسائل کے ساتھ اس پراجیکٹ کو خالصتا تحقیقی انداز میں لے کر این جی او زکی من گھڑت اور مبالغہ آمیز رپورٹوں کا پول کھول کر رکھ دیا کہ کیسے یہ لوگ پہلے اخبارات میں جھوٹی، مبالغہ آمیز، اور من گھڑت خبریں شائع کراتے ہیں، ان خبروں کو بنیاد بنا کر کانفرنسوں سیمیناروں میں غیر ملکی صحافیوں اور سفارت کاروں کی ذہن سازی کرتے ہیں، پھر انہی خبروں اور غیر ملکی صحافیوں کے انٹرویوز وغیرہ پر مبنی رپورٹیں یو این، امریکہ اور یورپی یونین کو دی جاتی ہیں۔

این جی اوز کے پیسے تو کھرے ہو ہی جاتے ہیں لیکن جھوٹ کی اشاعت کے نتائج پابندیوں کی شکل میں آج کروڑوں بھوکے افراد بھگت رہے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں بھوکوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ کاش ہمارے بھولے مخیر حضرات میری اس تحریر سے سمجھ لیں کہ اللہ کی دی ہوئی خیر ان کاموں پر بھی خرچ کی جائے جن سے بھوکے لوگ سرے سے پیدا ہی نہ ہوں۔ نہ کہ ان کے بھولپن کے سبب بھوکے بڑھتے جائیں اور وہ مصر رہیں کہ بھوکے کو کھانا کھلانا ہی افضل عمل ہے۔ صاحب! گھر میں آگ لگی ہو یا بیوی بستر مرگ پر ہو تو پہلے ادھر توجہ دی جاتی ہے۔ کاش ہمارے مخلص مخیر حضرات کچھ اس آگ اور بیوی کے بستر مرگ پر ہونے کا بھی سوچیں۔

مزید :

رائے -کالم -