نیا احتساب بل ....سراب سے سراب تک!

نیا احتساب بل ....سراب سے سراب تک!
نیا احتساب بل ....سراب سے سراب تک!

  

کرپشن اور احتساب کی مسلسل رٹ سن سن کر حکومت بالکل تھک گئی ہے۔ حکومت کا باقی ماندہ وقت اتنا کم رہ گیا ہے کہ کسی ایک سے ہی انصاف ہو سکتا ہے۔ بدخواہوں کا خیال ہے کہ یہ بقیہ وقت سراسر کرپشن میں رہ جانے والی کسر پوری کرنے میں ہو رہا ہے، جبکہ حکومت نے اس تنقید کے جواب میں قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں احتساب بل 2012ءپیش کر کے حساب برابر کر دیا ہے۔ تین سال قبل ایک ایسا ہی بل قومی اسمبلی سے خجل خوار ہوتا ہوا قائمہ کمیٹی کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ تین سال تک دھکے کھا کر اور اختلاف کی دھول چاٹ کر وہ بل خاک نشین ہوگیا۔ اب اسی بل کے مندرجات نام، مقام اور تاریخ کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ پیش ہو چکے ہیں۔

تین سال کی تاخیر کے کفارے کی جلدی ہے یا الیکشن سے قبل پیدا ہونے والے سیاسی و عدالتی جوار بھاٹے کی گھبراہٹ۔ وزیر قانون اب مُصر ہیں کہ یہ بل جمعہ تک اختتام پذیر ہونے والے اجلاس ہی میں ایجاب و قبول کے مراحل طے کرلے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے”ہتھ چھٹ“ چودھری نثار علی خان کی موجودگی میں اس خواہش کو شاید روکا تو نہ جاسکے، لیکن اس میں حسبِ استطاعت تنقیدی رکاوٹوں کا بھرپور استعمال ہوگا۔ کرپشن اور احتساب سیاست دانوں اور میڈیا کا مشترکہ اور محبوب موضوع ہے۔ سیاستدان حکومت میں ہو تو اسے انتخاب مشکل ہو جاتا ہے کہ ان دونوں میں سے کِسے چھوڑے۔ عموماً اس مشکل انتخاب میں حکومت مخالفین کے لئے احتساب کو پہلے چُن لیتی ہیں۔ مخالفین دہائی دیتے رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن ”اپنے“ لئے مخصوص کر لی ہے۔ رنگ برنگے کالم نویسوں اور اینکروں کی فدائی فوج کی موجودگی میں دونوں اطراف کا سچ اس تواتر سے اور سر چڑھ کر بولتا ہے کہ کرپشن پر احتساب اور احتساب پر کرپشن کا گمان ہو نے لگتا ہے۔

وطنِ عزیز میں کرپشن کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟.... ہمیں ٹھیک سے معلوم نہیں، کیونکہ ہماری آنکھ کھلی تو بحیثیت قوم خود کو کرپشن میں خود کفیل پایا۔ احتساب کا غلغلہ البتہ ہم نے جنرل ضیاءالحق کے دور میں سنا۔ ہو سکتا ہے یہ غلغلہ پہلے بھی کہیں برپا ہوا ہو، لیکن ہماری بلوغت اور جنرل ضیاءالحق کا عروج ہم سن ہونے کی وجہ سے یہ غلغلہ پہلی بار اسی زمانے میں سنا۔ کچی پکی عقل میں یہی سمجھ آیا کہ ان سیاست د انوں سے مثبت نتائج کی توقع نہ پا کر نوے دنوں کو نظریاتی زور آزمائی سے گیارہ سال میں تبدیل کیا گیا۔ ان کے بعد سیاست دانوں نے حکومت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے احتساب کا کام بھی سنبھال لیا ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ کو ایک ایک دور حکومت ”احتساب“ میں مہارت حاصل کرنے میں لگا۔ اپنے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں البتہ دونوں نے تجربہ کاری کا ثبوت دیا۔ ایک دوسرے پر مقدمات کا سلسلہ کمال مہارت سے جاری رکھا، بلکہ مسلم لیگ(ن) کے دوسرے دور میں سیف الرحمان نے ”احتساب“ کو ایک نیا آسمان عطا کیا۔ ان کے ٹانکے ہوئے احتساب کے ستارے ابھی سوئس عدالتوں اور مقامی عدالتوں میں چمکنے ہی والے تھے کہ پرویز مشرف آدھمکے۔

سیاستدانوں کی باہم سو سنار والی چوٹوں کے جواب میں وہ اپنا جرنیلی احتساب کا لوہار نما نظام لے کر آئے۔ لوگ باگ لرز اٹھے کہ پیٹ میں ہضم شدہ گاجروں و مولیوں تک کا حساب دینا پڑے گا۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ کھاتے پیتے لوگوں کو بھی کھانا پینا بھول گیا۔ فوج کے چوکس دستے واپڈا کے اہلکاروں کے ہمراہ بجلی کے بل چیک کرتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ مارے سے ڈرایا ہوا بہتر ہوتا ہے۔ اس لئے گھر گھر سروے اور اُلٹا سیدھا لٹکا کر جسم کے پوشیدہ خانوں میں چھپی قومی دولت کا سراغ لگانے کا ا رادہ ڈرانے پر ہی موقوف کر دیا گیا۔ اسی دوران تین سال کی مہلت ختم ہونے کے بعد انتخابات کروانے کی مجبوری آن پڑی۔ نئی پارلیمینٹ میں مخلوط حکومت بنانے کی مجبوری نے احتساب کا رخ ان چنیدہ سیاستدانوں کی طرف پھیر دیا، جن کی مدد سے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کے دن جمہوریت کی طرف سے پھر گئے۔ اس احتساب کے نتیجے میں دو جرنیل مشہور ہوئے اور ایک نئی پیپلز پارٹی ”پیٹریاٹ“ کے نام سے وجود میں آئی۔ یوں احتساب کی کہانی اپنے طربیہ انجام پر منتج ہوگئی۔

جب پانچ سال پورے ہونے والے تھے تو جنرل پرویز مشرف نے اپنی بقاءاور بے نظیر بھٹو نے انتخابی سیاست میں ایک بار پھر ورود کے لئے این آر او تشکیل دیا، جس سے انتخابات بھی ہوئے اور حکومت بھی بنی، لیکن بے نظیر کی جان گئی اور پرویز مشرف کی کرسی بھی گئی۔ این آر او اپنے قانونی جواز کے لئے سپریم کورٹ سے دھتکارا گیا اور بعد ازاں سپریم کورٹ کی راہداریوں میں بے خانماں مارا گیا۔ تب سے ایک نئے احتساب بل کا غلغلہ شروع ہوا۔ یہ احتساب بل ”من و تو“ اور اختیارات کے تعین کے جھگڑوں سے ہوتا ہوا قائمہ کمیٹی کے سپرد ہوگیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق اس بل نے آخری سانس بھی وہیں لئے۔

لیکن احتساب کی کسی بھی نئی سیاسی سرگرمی میں اس قدر کلیدی اہمیت ہے کہ حکومت نے یہ کمی فوری طور پر پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے حسب معمول تحفظات ہیں، لیکن اس بار اے این پی کو بھی اس بل سے اختلاف ہے۔ عددی اکثریت کا سادہ حساب کتاب اور پس پردہ ”کچھ لو، کچھ دو“ کی جاری پالیسی سے امید تو یہی ہے کہ جلد ہی ایک نوزائیدہ احتساب بل پاس ہو کر قانون کا درجہ حاصل کر لے گا۔

اس احتساب بل سے کیا ملے گا اور کیا فرق پڑے گا؟.... ہمیں کچھ خاص خوش فہمی نہیں۔ مندرجہ بالا تفصیل عرض کرنے سے غرض یہی تھی کہ اپنی بری بھلی احتساب فہمی آپ کے گوش گزار کر دی جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالتی کوششوں سے میگا سکینڈلز منکشف ہوئے، لیکن بھلا ہو، حکومتی مشینری کا، سب کچھ بلڈوز ہوگیا۔ حج سکینڈل بھی صاف ہوگیا اور این آئی سی کا سکینڈل بھی شفاف ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا اصرار ہے کہ کرپشن نامی وائرس پنجاب حکومت میں موجود ہی نہیں۔ صفائی کی حد تک سید یوسف رضا گیلانی بھی یہی اصرار کرتے کرتے رخصت ہوگئے کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں۔

کرپشن معاشرے اور حکومت کی دیمک ہے مالیات اور نظامت کرم خوردہ ہو کر اپنے ہی وزن کے نیچے دم توڑ دیتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں کرپشن اور اس کا احتساب ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ سیاسی مجبوریاں اور کرپشن سے فیض یاب ہونے والی مضبوط لابیاں احتساب کے عمل کو بڑی آسانی سے سبوتاژ کر دیتی ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں کرپشن نے کانگریسی حکومت کو لڑکھڑانے پر مجبور کر دیا ہے۔ انا ہزارے کی بھوک ہڑتال سے میڈیا کا کام تو خوب چلا، لیکن کرپشن کا بازار اسی طرح گرم ہے۔ پاکستان میں انا ہزارے کی تلاش کئی احباب کو رہی، بلکہ جسٹس ناصر تو انا ہزارے کے پاس بھارت بھی حاضر ہوگئے۔ فرمائش کی کہ بھارت میں کرپشن کی جڑیں اکھاڑنے کے بعد پہلی فراغت میں پاکستان آئیں۔ وعدہ تو انہوں نے کر لیا، لیکن اس پیرانہ سالی میں ان سے اپنے ہی دیس میں کرپشن کی جڑیں اکھڑنے کا نام نہیں لے رہیں، لیکن انا ہزارے کی سانسیں اکھڑنے کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سو پاکستان میں ان کے منتظر احباب بھی اب مایوس ہو رہے ہیں۔ حکومت نے ایک شاطرانہ چال چلی ہے۔ انہوں نے ناقدین کو بھرپور جواب دیا ہے کہ وہ خط لکھنے کے علاوہ کوئی بھی بل یا قانون بائیں ہاتھ سے لکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسا احتساب بل، جس کی موجودگی کا تکلف تو ضروری ہے۔ عمل درآمد کا نہیں۔ 

مزید :

کالم -